صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

اے انصاریو! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا پھر تم کو میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب کی؟ کیا ایسا…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
4458Sahih صحیح
عن عبد الله بن زيد بن عاصم قال: «لما أفَاء الله على رسوله يوم حُنَيْنٍ؛ قَسَم في الناس، وفي المُؤَلَّفَةِ قلوبهم، ولم يعطِ الأنصار شيئا. فكأنهم وجدوا في أنفسهم؛ إذ لم يُصِبْهُمْ ما أصاب الناس.
فخطبهم؛ فقال: يا معشر الأنصار، ألم أجدكم ضُلاَّلاً فهداكم الله بي؟ وكنتم متفرقين فَأَلَّفَكُمُ الله بي؟ وَعَالَةً فأغناكم الله بي؟ كلما قال شيئًا؛ قالوا: اللهُ ورسولُه أمَنُّ. قال: ما يمنعكم أن تجيبوا رسول الله؟ قالوا: الله ورسوله أمَنُّ. قال: لو شِئْتُمْ لقلتم: جئتنا كذا وكذا. أَلَا تَرْضَوْنَ أن يذهب الناس بالشاة والبعير، وتذهبون برسول الله إلى رحَالِكُم؟ لولا الهجرة لكنت امْرَأً من الأنصار، ولو سلك الناس واديًا أو شِعْبًا، لَسَلَكْتُ وادي الأنصار وَشِعْبَهَا. الأنصار شِعَارٌ، والناس دِثَارٌ، إنكم ستلقون بعدي أَثَرَةً ، فاصبروا حتى تلقوني على الحوض».
عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: غزوہ حنین کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جو غنیمت دی تھی آپ ﷺ نے اسے لوگوں اور ان افراد کے مابین تقسیم کر دیا جن کی تالیف قلبی مقصود تھی اور انصار کو اس میں سے کچھ بھی نہ دیا۔ اس کا انہیں کچھ ملال ہوا کہ لوگوں کو جو مال ملا وہ انہیں نہیں ملا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے انصاریو! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا پھر تم کو میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب کی؟ کیا ایسا نہیں تھا کہ تم بکھرے ہوئے تھے اور اللہ نے میرے ذریعے تمہیں باہم دگر جوڑ دیا؟ کیا تم محتاج نہیں تھے کہ پھر میرے ذریعہ اللہ نے تمہیں غنی کردیا؟ آپ ﷺ کے ہر جملے پر انصار بس یہی کہتے جاتے تھے کہ: اللہ اور اس کے رسول کا ہم پر سب سے زیادہ احسان ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میری باتوں کا جواب دینے سے تمہیں کون سی شے روک رہی ہے؟ صحابہ کرام نے پھر یہی جواب دیا کہ: اللہ اور اس کے رسول کا ہم پر سب سےزیادہ احسان ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہتے تو مجھ سے کہہ سکتےتھے کہ آپ ہمارے پاس اس اس حال میں آئے تھے (کہ لوگ آپ کو جھٹلا رہے تھے، لیکن ہم نے آپ کی تصدیق کی وغیرہ)۔ کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جب لوگ بکریاں اور اونٹ لے جا رہے ہوں تو تم اپنے گھروں کی طرف اللہ کے رسول کو ساتھ لے جاؤ؟ اگر ہجرت کی فضیلت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک آدمی ہوتا۔ اگر لوگ ایک وادی اور گھاٹی میں رہیں میں انصار کی وادی اور گھاٹی میں رہوں گا۔ انصار استر کی طرح ہیں (جو جسم سے ہمیشہ لگا رہتا ہے) اور دیگر لوگ ابرہ کی طرح۔ تم لوگ (انصار) دیکھوگے کہ میرے بعد تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی۔ تم ایسے وقت میں صبر کر نا یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر آ ملو۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdullāh ibn Zayd ibn ‘Āsim (may Allah be pleased with him) reported: When Allah gave war booty to His Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him) on the Day of Hunayn, he distributed the booty among the people, and among those whose hearts had been recently reconciled to Islam. He did not give anything to the Ansār. It seemed that they felt uneasy that they did not receive a share like the others. Upon this, the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) addressed them saying: "O people of the Ansār, did I not find you in a state of misguidance then Allah guided you aright through me? Were you not in a state of disunity then Allah brought you together through me? Were you not in a state of poverty then Allah made you wealthy through me?" Every time he said something, they replied: "Allah and His Messenger are the most benevolent." Then he asked: "Why do you not answer me?" They said: "Allah and His Messenger are the most benevolent." He said: "If you wish, you may say 'you came to us in such-and-such a state.' Would you not be satisfied that the people go away with goats and camels and you go away with the Messenger of Allah to your homes? Were it not for Hijrah, I would have been a man from the Ansār. If the people were to tread a valley or a mountain pass, I would tread the valley and mountain pass of the Ansār. The Ansār are like Shi‘ār (inner garments), while other people are like Dithār (outer garments). No doubt, you will see people favored over you after me (in getting worldly benefits). So be patient until you meet me at the Basin)."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #4458

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

جب غزوہ حنین میں اللہ تعالی نے اپنے نبی محمد ﷺ کو فتح سے نوازا اور آپ ﷺ کے ہاتھ بہت سارا مال غنيمت آيا تو طائف کا حصار ختم کرنے کے بعد آپ ﷺ اس مال غنیمت کے پاس تشریف لائے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے یہ سارا مال ان لوگوں میں بانٹ دیا جو نئے نئے اسلام لائے تھے تاکہ ان کی دل جوئی ہو جائے۔ یہ بات کچھ انصاری لوگوں کو پسند نہ آئی۔ رہے سرکردہ انصاری صحابہ تو وہ خوب اچھی طرح جانتے تھے کہ آپﷺ نے جو اقدام کیا ہے وہ برحق ہے۔ جب آپ ﷺ تک ان کی یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ ان لوگوں کو مال غنیمت دیتے جا رہے ہیں جن کا خون ہماری تلواروں سے ہنوز ٹپک رہا ہے اور ہمیں چھوڑے جا رہے ہیں، تو آپ ﷺ نے انہیں ایک خیمے میں اکٹھا کرنے کا حکم دیا ۔ جب وہ اکٹھے ہو چکے تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ مجھ تک تمہاری کیا بات پہنچی ہے ۔ ۔ اخیر تک کا تذکرہ کیا۔ آپ ﷺ نے ان کی بات پر اظہارِ ناگواری کیا اور ساتھ ہی انھوں نے آپ ﷺ کی اور آپ کے لائے ہوئے اسلام کی جو نصرت و مدد کی تھی اس کو بھی تسلیم کیا۔ اس پر وہ خوش ہو گئے اور انہیں معلوم ہو گیا کہ یہ کتنی بڑی نعمت ہے جو اللہ نے اپنے رسول کی صحبت کی شکل میں اور آپ ﷺ کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس جانے کی شکل میں ان کے لیے رکھ چھوڑی ہے۔ نیز انھوں نے جو خدمات اور قربانیاں پیش کی ہیں اس پر اللہ نے آخرت میں ان کے لیے جو حصہ محفوظ کر رکھا ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں اس بات سےآگاہ کیا کہ آپ ﷺ کے بعد (دوسرے لوگوں کو ) ان پر ترجیح دی جائے گی، جس پر آپ ﷺ نے انہیں صبر کرنے کی تلقین کی۔

Explanation

When Allah, the Almighty, bestowed upon His Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) a large amount of war booty in the battle of Hunayn, and after he ended the blockade he had imposed on Taif, he returned to get the booty; the majority of which was in the form of cattle. He had more than 40,000 camels and 120 sheep. So, he gave some people who had recently accepted Islam to attract their hearts and make them firm upon Islam. Some of the Ansār disapproved of this, but the nobles amongst them understood that this action on part of the Prophet was correct. The ones who disapproved said: "The Messenger of Allah is giving the booty to people whose blood is dripping from our swords (i.e. whom we had just fought), and he is not giving us anything." When the Prophet was informed of this statement, he ordered that they be assembled under a large canopy and he addressed them, saying: "What is this statement that has reached me from you?" He admonished them and acknowledged the support they offered to him and to the religion of Islam which he came with. After speaking to them, they were appeased and realized the great reward that Allah had granted them, represented in their companionship of Allah's Messenger and their return home with him accompanying them, in addition to what Allah has prepared for them in the Hereafter because of their support and the efforts they exerted in His Cause. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) also ordered them to show patience when they see other people favored over them after his death.

Topics موضوعات