ہم نے رسول الله ﷺ کے ساتھ سحری کی۔ پھر آپ ﷺ (صبح کی) نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4457Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4457)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
کچھ صحابہ رضى اللہ عنہم نے اللہ کے نبی صلی اللہ کے و سلم کے ساتھ سحری کی اور اس کے بعد آپ فجر کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ چنانچہ انس رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے پوچھا: سحری سے فارغ ہونے سے لے کر اذان تک کا وقفہ کتنا رہا ہوگا؟ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: متوسط درجے کی پچاس آیتیں پڑھنے کے بہ قدر، جو نہ لمبی ہوں اور نہ چھوٹی، پڑھنے کا انداز بھی متوسط ہو۔ نہ تیز اور نہ دھیما۔
حدیث کے فوائد
- فجر سے کچھ دیر قبل تک سحری کو مؤخر کرنا افضل ہے، کیوں کہ تاخیر سے سحری کرنا جسم کے لیے زیادہ نفع بخش اور دن بھر کے لیے زیادہ سودمند ہے۔
- صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھنے کے حریص ہوا کرتے تھے، تاکہ آپ سے علم حاصل کرسکیں۔
- صحابہ کے ساتھ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا بہتر برتاؤ کہ ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا لیا کرتے تھے۔
- روزہ توڑنے والی چيزیں چھوڑنے کا وقت طلوع فجر سے شروع ہوتا ہے۔
- حدیث کے الفاظ "اذان اور سحرى کے درمیان کتنا وقفہ تھا" سے مراد سحری اور اقامت کے درمیان کا وقت ہے۔ کیوں کہ دوسری حدیث میں ہے: "ان دونوں کے سحری سے فارغ ہونے اور نماز میں داخل ہونے کے درمیان کتنا وقت رہتا تھا"۔ اور ایک حدیث دوسری حدیث کی تفسیر کرتی ہے۔
- مُہلَّب کہتے ہیں: اس حدیث میں وقت کی پیمائش جسمانی اعمال کے ذریعے کی گئی ہے۔ عربوں کے اندر یہ بات عام تھی۔ مثلا وہ کہا کرتے تھے: بکری دوہنے کے برابر وقت اور اونٹ ذبح کرنے کے برابر وقت۔ زید بن ثابت نے اس حدیث کے اندر وقت کی پیمائش مذکورہ مثالوں کى بجائے قراءت کے ذریعے کی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ وقت قراءت کے ذریعہ عبادت کا وقت ہوا کرتا تھا۔ اگر عمل کے علاوہ کسی اور چيز کے ذریعے وقت کی پیمائش کر رہے ہوتے، تو مثال کے طور پر کہتے: ایک درجے کے بقدر یا ایک گھنٹے کے ایک تہائی یا پانچویں حصے کے بقدر۔
- ابن ابو جمرہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم یہ دیکھتے کہ کون سی چیز آپ کی امت کے لیے زیادہ آسان ہے اور اس کے بعد اسی پر عمل کرتے۔ کیوں کہ اگر آپ سحری نہيں کرتے، تو آپ کی پیروی کرتے ہوئے لوگ بھی سحری نہيں کرتے اور اس طرح کچھ لوگ دشواری میں پڑ جاتے۔ اسی طرح اگر آپ رات کے درمیانی حصے میں سحری کرتے، تب بھی ایسے لوگ دشواری میں پڑ جاتے، جن پر نیند حاوی ہو جاتی ہے کیوں کہ ممکن تھا کہ اس کی وجہ سے ان کی نماز فجر چھوٹ جاتی یا رات جاگنے کی تکلیف سے گزرنا پڑتا۔
Explanation
Some of the Companions (may Allah be pleased with them) had Suhūr with the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him), and then he stood for the Fajr prayer. Anas said to Zayd ibn Thābit (may Allah be pleased with him): How much time was there between the Adhān and the completion of Suhūr? Zayd (may Allah be pleased with him) said: The time it takes to recite fifty medium-length verses, neither long nor short, and neither recited quickly nor slowly.