میرے سامنے جنت اور دوزخ کو پیش کیا گیا۔ میں نے آج جتنی خیر اور شر دیکھی ہے اتنی کبھی نہیں دیکھی۔ اگر تم وہ…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
وفي رواية: بَلَغَ رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم عن أَصْحَابِهِ شَيْءٌ فَخَطَبَ، فقال: «عُرِضَتْ عَلَيَّ الجَنَّةُ والنَّارُ، فَلَمْ أَرَ كاليومِ في الخيرِ والشرِ، ولو تَعْلَمُونَ ما أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا». فما أَتَى على أصحابِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم يومٌ أَشَدُّ مِنْهُ، غَطَّوا رُءُوسَهُمْ ولهم خَنِينٌ.
ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ تک اپنے صحابہ سے متعلق کوئی بات پہنچی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے سامنے جنت اور دوزخ کو پیش کیا گیا۔ میں نے آج جتنی خیر اور شر دیکھی ہے اتنی کبھی نہیں دیکھی۔ اگر تم وہ کچھ جانتے ہوتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر اس سے زیادہ سخت دن کوئی نہیں گزرا۔ انہوں نے اپنے سر ڈھانپ رکھے تھے اور سسکیاں بھر بھر کر رو رہے تھے۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4814Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4814)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو ایک ایسا وعظ فرمایا کہ اس طرح کا وعظ پہلے کبھی نہیں فرمایا تھا۔ آپ ﷺ نے اس میں فرمایا: میرے سامنے جنت اور دوزخ کو پیش کیا گیا۔ میں نے جنت میں آج جتنی خیر دیکھی اس سے زیادہ میں نے کبھی نہیں دیکھی اور نہ ہی میں نے اتنا شر کبھی دیکھا ہے جتنا میں نے آج دوزخ میں دیکھا ہے۔ اگر تم آخرت کی ہولناکیوں کو اور جنت کی نعمتوں اور دوزخ میں جو عذاب ہو گا اس کو ویسے جان لو جیسے میں جانتا ہوں تو تم ہنسو کم اور روؤ زیادہ۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے لیے اس سے زیادہ سخت دن کوئی نہیں تھا۔ وہ زار و قطار رو رہے تھے۔
Explanation
The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) was informed about something regarding his Companions, namely that they had been asking him too many questions, and he became upset and delivered a speech and said: Paradise and Hellfire were presented to me; I have never seen anything as good as what I saw today in Paradise, nor as evil as what I saw today in Hellfire. If you had seen what I saw and knew what I knew from what I saw today and before, you would have felt great compassion, and your laughter would have been few and your crying would have been abundant. Anas (may Allah be pleased with him) said: There was no day harder for his Companions than that day. They covered their heads, and there was a sound of weeping, with a nasal tone coming from their noses due to the intensity of their crying. ‘Umar (may Allah be pleased with him) stood up and said: We are pleased with Allah as a Lord, with Islam as a religion, and with Muhammad as a Prophet. He said: Then that man stood up and said: Who is my father?
He said: "Your father is so-and-so." Then the following verse was revealed: {O you who believe, do not ask about things which, if they are made known to you, would only cause you hardship.} [Surat al-Mā’idah: 101]