Sahih Muslim صحیح مسلم

اللہ تعالیٰ جب کسی امت پر رحم کرنا چاہتا ہے تو اس کے نبی کو فوت کر دیتا ہے اور اسے اس امت کے لیے آگے جا کر…

عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه مرفوعاً: «إذا أراد الله تعالى رحمة أُمَّة، قَبض نبيَّها قبلها، فَجَعَلَهُ لها فَرَطًا وسَلفًا بين يديها، وإذا أراد هلَكَةً أُمَّة، عَذَّبَها ونَبِيُّهَا حَيٌّ ، فأهْلَكَها وهو حَيٌّ يَنظرُ، فأقرَّ عينَه بِهَلاَكِهَا حين كذَّبُوه وعَصَوا أمرَه».
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب کسی امت پر رحمت نازل کرنا چاہتا ہے تو اس کے نبی کو فوت کر دیتا ہے اور اسے اس امت کے لیے آگے جا کر باعث اجر و پیش رو بنا دیتا ہے اور جب وہ کسی امت کی بربادی چاہتا ہے تو اس نبی کی زندگی میں ہی اس امت کو عذاب دیتا ہے۔ اور اس کی نظروں کے سامنے اسے برباد کردیتا ہے اور وہ اس کی ہلاکت سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے۔کیوں کہ انھوں نے اسے جھٹلایا اور اس کی نافرمانی کی ہوتی ہے“۔
Abu Mūsa al-Ash‘ari (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "If Allah wills to show mercy to a people, He takes the soul of their prophet before them, thus making him a forerunner and an intercessor for them. Whereas, if He wills to destroy a people, He punishes them whilst their prophet is alive, witnessing their destruction, thus, consoling him by their destruction as they disbelieved in him and disobeyed his orders."

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3667

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی جب امتوں میں سے کسی امت کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو اس کے نبی کو وفات دے دیتا ہے اور اس کی امت اس کے بعد باقی رہتی ہے چنانچہ وہ جنت میں اسے اس امت کا پیش رو اور اس کے لیے اسے سفارشی بنا دیتاہے۔
فَرَط کا حقیقی معنی ہے وہ شخص جو کسی سفر پر جانے والوں کے آگے آگے رہتا ہے تاکہ ان کے پڑاو کے لیے ضروری جگہ تیارکرے۔ پھر اپنے بعد آنے والے کے لیے سفارشی کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا“۔ یعنی تمہارے لیے پانی کی تلاش میں میں تم سے پہلے حوض کوثر پر پہنچوں گا۔
اور اللہ تعالی جب کسی امت کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اسے اس حال میں عذاب دیتا ہے کہ اس کا نبی زندہ ہوتا ہے اور اس کی نظروں کے سامنے اسے ہلاک کرتا ہے۔ جیسا کہ نوح علیہ السلام کا اپنی قوم کے ساتھ یا دوسرے انبیاء کا اپنی قوموں کے ساتھ حال ہوا۔
اس مقام پر گویا نبی ﷺ اللہ تعالی کی اس امت پر رحمت کی خبر دے رہے ہیں اور آپ ﷺ ہی اس امت کو دی گئی رحمت ہیں۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾ ”اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے“۔
اور اللہ تعالی نے وعدہ کیا کہ جب تک آپ ﷺ اس امت میں ہیں وہ اس پر عذاب نازل نہیں کرے گا اور ان پر اپنے فضل و کرم کی مزید عنایت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّـهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ ”اور اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرے گا کہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گا اس حالت میں کہ وه استغفار بھی کرتے ہوں“۔

Explanation

As indicated by the Hadīth, if Allah, the Almighty, wills good for a certain people, He causes their prophet to die before them, and thus he gets to Paradise ahead of them and becomes their intercessor. A similar meaning was expressed in another Hadīth, in which the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: “I shall be there at the Basin before you.” In other words, I will be there before you so as to get the water for you. “And if He wills to destroy a people, He punishes them whilst their prophet is alive, witnessing their destruction.” This is similar to what had befallen the people of Prophet Nūh and other prophets (peace be upon them). It is as if Prophet Muhammad (may Allah's peace and blessings be upon him) wanted to tell them about the favor and kindness of their Lord who sent him as a source of mercy for this Muslim Ummah. In the Qur’an, He says: {And We have not sent you except as a mercy to the worlds} [Sūrat al-Anbiyā': 107] Allah, the Almighty, promised the Muslims that He would not punish them while the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was still alive among them, and He even bestowed more of His favor and bounty upon them. He says: {But Allah would not punish them while you are among them, and Allah would not punish them while they seek forgiveness.} [Sūrat al-Anfāl: 33]

Topics موضوعات