اللہ تعالیٰ جب کسی امت پر رحم کرنا چاہتا ہے تو اس کے نبی کو فوت کر دیتا ہے اور اسے اس امت کے لیے آگے جا کر…
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3667Sahih Muslim (HadeethEnc 3667)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی جب امتوں میں سے کسی امت کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو اس کے نبی کو وفات دے دیتا ہے اور اس کی امت اس کے بعد باقی رہتی ہے چنانچہ وہ جنت میں اسے اس امت کا پیش رو اور اس کے لیے اسے سفارشی بنا دیتاہے۔
فَرَط کا حقیقی معنی ہے وہ شخص جو کسی سفر پر جانے والوں کے آگے آگے رہتا ہے تاکہ ان کے پڑاو کے لیے ضروری جگہ تیارکرے۔ پھر اپنے بعد آنے والے کے لیے سفارشی کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا“۔ یعنی تمہارے لیے پانی کی تلاش میں میں تم سے پہلے حوض کوثر پر پہنچوں گا۔
اور اللہ تعالی جب کسی امت کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اسے اس حال میں عذاب دیتا ہے کہ اس کا نبی زندہ ہوتا ہے اور اس کی نظروں کے سامنے اسے ہلاک کرتا ہے۔ جیسا کہ نوح علیہ السلام کا اپنی قوم کے ساتھ یا دوسرے انبیاء کا اپنی قوموں کے ساتھ حال ہوا۔
اس مقام پر گویا نبی ﷺ اللہ تعالی کی اس امت پر رحمت کی خبر دے رہے ہیں اور آپ ﷺ ہی اس امت کو دی گئی رحمت ہیں۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾ ”اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے“۔
اور اللہ تعالی نے وعدہ کیا کہ جب تک آپ ﷺ اس امت میں ہیں وہ اس پر عذاب نازل نہیں کرے گا اور ان پر اپنے فضل و کرم کی مزید عنایت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّـهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ ”اور اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرے گا کہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گا اس حالت میں کہ وه استغفار بھی کرتے ہوں“۔
Explanation
As indicated by the Hadīth, if Allah, the Almighty, wills good for a certain people, He causes their prophet to die before them, and thus he gets to Paradise ahead of them and becomes their intercessor. A similar meaning was expressed in another Hadīth, in which the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: “I shall be there at the Basin before you.” In other words, I will be there before you so as to get the water for you. “And if He wills to destroy a people, He punishes them whilst their prophet is alive, witnessing their destruction.” This is similar to what had befallen the people of Prophet Nūh and other prophets (peace be upon them). It is as if Prophet Muhammad (may Allah's peace and blessings be upon him) wanted to tell them about the favor and kindness of their Lord who sent him as a source of mercy for this Muslim Ummah. In the Qur’an, He says: {And We have not sent you except as a mercy to the worlds} [Sūrat al-Anbiyā': 107] Allah, the Almighty, promised the Muslims that He would not punish them while the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was still alive among them, and He even bestowed more of His favor and bounty upon them. He says: {But Allah would not punish them while you are among them, and Allah would not punish them while they seek forgiveness.} [Sūrat al-Anfāl: 33]