”میری طرف سے لوگوں کو پہنچا دو، اگرچہ ایک آیت ہی ہو۔ بنی اسرائیل سے روایت کرو، ان سے بیان کرنے میں کوئی حرج…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-BukhariOriginal wording: رواه البخاري
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3686Sahih al-Bukhari (HadeethEnc 3686)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم آپ سے نقل شدہ علم کو پہنچانے کا حکم دے رہے ہیں، چاہے وہ قرآن کی صورت میں ہو یا حدیث کی صورت میں۔ وہ علم کم، مثلا قرآن کی ایک آیت یا ایک حدیث ہی کیوں نہ ہو۔ بس شرط یہ ہے کہ انسان جو کچھ پہنچا رہا ہے اور جس کی دعوت دے رہا ہے، اس کے پاس اس کی جان کاری ہو۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ بنی اسرائیل کے زمانے میں وقوع پزیر ہونے والے ایسے واقعات کو بیان کرنے میں کوئی حرج نہيں ہے، جو ہماری شریعت سے ٹکراتی نہ ہوں۔ اس کے بعد آپ نے اپنی طرف جھوٹ کی نسبت کرنے سے ڈرایا ہے اور بتایا ہے کہ جس نے آپ کی جانب جان بوجھ کر جھوٹ کی نسبت کی، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔
حدیث کے فوائد
- اللہ کی شریعت کو پہنچانے کی ترغیب اور اس بات کی نشان دہی کہ انسان کی ذمے داری بنتی ہے کہ اس نے جو کچھ یاد کیا ہے اور سمجھ رکھا ہے، اسے دوسروں کو پہنچا دے، چاہے وہ کم ہی کیوں نہ ہو۔
- شرعی علم طلب کرنے کا وجوب، تاکہ بندہ اللہ کی عبادت اور اس کی شریعت کی تبیلغ جیسے کام صحیح طریقے سے کر سکے۔
- کسی بھی حدیث کو دوسروں تک پہنچانے یا اسے عام کرنے سے پہلے اس کی صحت کا یقین حاصل کر لینا ضروری ہے، تاکہ انسان اس سخت وعید کی چپیٹ میں نہ آ جائے۔
- بات کرتے وقت سچ بولنے اور حدیث نقل کرتے وقت احتیاط سے کام لینے کی ترغیب۔ خاص طور سے اللہ کی شریعت کے معاملے میں‘ تاکہ انسان جھوٹ میں نہ پڑ جائے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) commands us to convey knowledge from him, from the Qur’an or the Sunnah, even if it is something short, like a verse from the Qur’an or a Hadīth, provided that a person should have knowledge of what he conveys and invites people to it. Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) points out that there is no sin in narrating about the Children of Israel and the events that happened to them, in a way that does not run counter to our Shariah. Then, he warns against telling lies about him and states that whoever intentionally lies about him should occupy his dwelling in Hellfire.