میں اس (درگزر کرنے) کا تجھ سے زیادہ حق دار ہوں۔ (فرشتو!) میرے بندے سے درگزر کرو۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4232Sahih Muslim (HadeethEnc 4232)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
حذیفہ رضی اللہ عنہ بيان کر رہے ہیں کہ روزِ قیامت اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کو لایا جائے گا جسے اللہ نے مال و دولت سے نوازا ہوگا۔ اللہ تعالی اس سے اس کے مال کے بارے میں پوچھے گا کہ اس نے اس کا کیا کیا؟
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: ﴿وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّـهَ حَدِيثًا﴾ یعنی لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے کسی بات کو چھپا نہیں سکیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ ”جب کہ ان کے مقابلے میں ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے“
”اس شخص نے کہا: اے میرے رب! تو نے اپنے پاس سے مجھے مال دیا تھا۔ چنانچہ میں لوگوں کے ساتھ خرید و فروخت کا معاملہ کیا کرتا تھا“ یعنی میں لوگوں سے خرید وفروخت اور قرض کے لین دین کا معاملہ کیا کرتا تھا۔ وہ شخص جن اخلاق سے متصف تھا ان ميں سے ايک درگزر کرنا تھا۔ پھر اس نے اپنی بات کی وضاحت ان لفظوں میں کی:
”میں کشادہ حال پر آسانی کرتا تھا“ یعنی میں اس پر آسانی کرتا اور وہ جو کچھ دے دیتا میں اسے کچھ کم ہونے کے باوجود بھی قبول کر لیتا۔
”اور تنگ دست کو مہلت دے دیتا تھا“ یعنی تنگ دست پر صبر کرتا بایں طور کہ اس سے ادائیگی کا مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ اس کی مدت میں مزید اضافہ کر دیتا تھا۔
اس پر اللہ تعالی فرمائے گا: ”میں اس (درگزر کرنے) کا تجھ سے زیادہ حق دار ہوں“ یعنی چونکہ تو میرے بندوں سے درگزر کرتا رہا اور تو نے میری اخلاقی صفت اپنائی چنانچہ ہم تجھ سےعفو و درگزر کرنے کے زیادہ حق دار ہیں۔
”میرے بندے سے درگزر کردو“ یعنی اس کے اللہ تعالیٰ کے بندوں سے درگزر کرنے، ان کے ساتھ آسانی کرنے اور ان کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دے گا اور اس کے گناہوں کو بخش دے گا اور نیکی کا بدلہ تو نیکی ہی ہوتا ہے۔
”عقبہ بن عامر اور ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کے منہ سے اسی طرح سنی ہے“ یعنی جو بات حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی بعینہ وہی بات بنا کسی کمی بیشی کے انہوں نے بھی نبی ﷺ سے سنی ہے۔
Explanation
Hudhayfah (may Allah be pleased with him) reports that a man whom Allah granted wealth will be brought on the Day of Judgment, and his Lord will ask him about his wealth and what he did with it. Hudhayfah (may Allah be pleased with him) said: {And they will be able to hide nothing from Allah} [Sūrat An-Nisā': 42], as Allah, the Exalted, says: {On the Day when their tongues, their hands, and their legs or feet will bear witness against them as to what they used to do} [Sūrat An-Nūr: 24]. He will reply: "O Lord, You gave me wealth and I used to enter into transactions with people", i.e. I dealt with people through selling and lending, and I was characterized by leniency. Then he explained it by saying: "I used to show leniency towards the solvent", i.e. I was easy with them and would accept whatever they brought even if it was slightly less than what they owed. "And give respite to the insolvent", i.e. I was patient with those who were unable to pay on time, not demanding repayment and extending the loan period. Allah, the Exalted, will say: "I am more entitled to that than you", i.e. since you were lenient with My slaves and adopted My traits, then I am more entitled to give you respite and pardon you. "Pardon my slave", i.e. Allah will pardon him and forgive his sins because of his tolerance, leniency, and kindness towards His slaves. Indeed, {Is there any reward for good other than good?} [Sūrat Ar-Rahmān: 60] ‘Uqbah ibn ‘Āmir and Abu Mas‘ūd al-Ansāri (may Allah be pleased with both of them) said: "This is how we heard it from the lips of the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him)" i.e. they both heard this report from the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) himself just as Hudhayfah said it, without any words added or left out.