سنن ابو داؤد · سنن نسائی · سنن دارمی
Sunan Abi Dawud · Sunan an-Nasa'i · Sunan ad-Darimi

تم نے سنت کو پا لیا اور تمہاری نماز تمہارے لیے کافی ہو گئی۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
10022Sahih صحیح
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: خرج رَجُلَان في سفر، فَحَضَرَتِ الصلاة وليس معهما ماء؛ فَتَيَمَّمَا صَعيدا طيِّبا فَصَلَّيَا، ثمَّ وجَدَا الماء في الوقت، فأعاد أَحَدُهُمَا الصلاة وَالوُضُوءَ ولم يُعِدِ الآخر، ثم أتَيَا رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكَرَا ذلك له فقال لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ: «أَصَبْتَ السنة، وَأَجْزَأَتْكَ صَلَاتُكَ». وقال للذي توضأ وأعاد: «لك الأجر مرَّتَين».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی سفر پر نکلے۔ جب نماز کا وقت ہوا، تو ان کے پاس پانی نہیں تھا۔ چنانچہ دونوں نے پاک مٹی سے تیمم کر لیا اور نماز ادا کر لی۔ پھر جب ان کو پانی ملا، تو ان میں سے ایک نے دوبارہ وضو کیا اور نماز دوہرائی، جب کہ دوسرے نے نہیں دوہرائی۔ جب وہ دونوں رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور یہ بات آپ کے سامنے رکھی، تو جس نے نماز نہیں دوہرائی تھی، اس سے فرمایا: تم نے سنت کو پا لیا اور تمہاری نماز تمہارے لیے کافی ہو گئی۔ اور جس نے وضو اور نماز کو دوہرایا تھا، اس سے فرمایا: تمہارے لیے دوہرا اجر ہے۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Sa‘īd al-Khudri (may Allah be pleased with him) reported: Two men set out on a journey, and prayer became due while they had no water. They performed dry ablution, using clean earth, and prayed. Later on, they found water while still within the time of the prayer. One of them repeated his prayer with ablution, and the other did not. Then, they came to the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) and informed him about that. He said to the one who did not repeat his prayer: "You have followed the Sunnah and your (first) prayer was enough for you." He then said to the one who performed ablution and repeated his prayer: "For you there is a double reward."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudسنن نسائیSunan an-Nasa'iسنن دارمیSunan ad-Darimi
Original wording: اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #10022

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

جلیل القدر صحابی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اس حدیث میں یہ بیان کر رہے ہیں کہ دو آدمی سفر پر نکلے اور نماز حاضر ہو گئی، یعنی نماز کا وقت ہو گیا۔ ان دونوں کے پاس پانی نہیں تھا ،انہوں نے پاک مٹی سے تیمم کر لیا، یعنی اپنے چہرے پر مخصوص انداز سے اس کو پھیر لیا یا دونوں نے مٹی سے تیمم کر لیا۔ دونوں نے نماز پڑھ لی اور جب انہیں پانی ملا تو ایک نے وضو اور نماز کو دوہرا لیا، اس خیال سے کہ پہلی والی باطل ہو گئی ہے یا پھر احتیاطاً ایسا کیا۔ اور دوسرے نے نہ دوہرائی، یہ خیال کرتے ہوئے کہ پہلی والی صورت بھی ٹھیک تھی۔ پھر وہ دونوں رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور آپﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، یعنی جو ان کے ساتھ ہوا تھا۔
جس نے وضو اور نماز نہیں دوہرائی تھی اس سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نے سنت کو پایا، یعنی شریعت سے ثابت سنت کو پایا ہے۔ اور تمہاری نماز تمہارے لیي کافی ہے، یہ ما قبل کی وضاحت اور تاکید ہے۔
جبکہ جو دوسرا تھا: جس نے وضو کیا تھا اس سے فرمایا، یعنی نماز کے لیے وضو کیا اور دوہرایا، یعنی نماز کو اس کے وقت میں ہی۔ تمہارے لیے دوہرا اجر ہے یعنی تیری نماز کا دوہرا اجر ہے۔
ان دونوں کے عمل کے صحیح ہونے کی وجہ سے ان کے عمل پر ثواب جاری ہوا ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ کسی کے اچھے عمل کے اجر کو رائیگاں نہیں کرتے۔ا ور اس میں یہ بھی اشارہ موجود ہے کہ عمل کی ادائیگی میں احتیاط افضل ہے جیسا کہ رسو ل اللہﷺ نے فرمایا: ”جو تمہیں شک میں ڈال دے اسے چھوڑ دو اور وہ اختیار کر جس میں شک نہیں“۔

Explanation

The noble Companion Abu Sa‘īd al-Khudri (may Allah be pleased with him) relates:
“Two men set out on a journey, and prayer became due”, meaning: its time came.
“While they had no water. They performed dry ablution, using clean earth”, meaning: they turned to the earth and used it in the way specified for dry ablution.
“Later on, they found water while still within the time of the prayer. One of them repeated his prayer with ablution”, meaning: either because he thought his first prayer was rendered invalid or he simply wanted to err on the side of caution.
“And the other did not”, meaning: based on the thought that his first prayer remained valid.
They then went to the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) and mentioned what happened to him.
To the man who did not repeat the prayer, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: “You have followed the Sunnah”, meaning: your act accorded with the established teachings of the Sunnah.
“He then said to the one who performed ablution and repeated his prayer: ‘For you there is a double reward”, meaning: you will have a double reward for your prayers, for both are valid and each entails a reward, and indeed Allah does not cause the good deeds of His slaves to go to waste. This indicates that it is better to do what is safer and more cautious. In another Hadīth, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: “Leave what is doubtful for what is not doubtful.”

Topics موضوعات