Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim صحیح بخاری · صحیح مسلم

اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیز تیار کر رکھی ہے کہ نہ کسی آنکھ نے اس (جیسی کسی چیز)…

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «قال الله تعالى : أَعْدَدْتُ لعِبَادي الصَّالحين ما لا عَيْنٌ رأَت، ولا أُذُنٌ سَمِعَت، ولا خَطَر على قَلب بَشَر، واقْرَؤُوا إن شِئْتُمْ: (فلا تَعلم نفس ما أُخْفِي لهم من قُرَّة أَعْيُنِ جَزَاء بما كانوا يعملون).
عن سهل بن سعد رضي الله عنه قال: شَهدت من النبي صلى الله عليه وسلم مَجْلِسَا وَصَفَ فيه الجَنَّة حتى انتهى، ثم قال في آخر حديثه: «فيها ما لا عَيْنٌ رأَت، ولا أُذُنٌ سَمِعَت، ولا خَطَر على قَلب بَشَر» ثم قرأ:(تتجافى جُنُوبهم عن المَضَاجِع) إلى قوله تعالى :(فلا تعلم نفس ما أُخْفِي لهم من قُرَّة أَعْيُنِ).
ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیز تیار کر رکھی ہے کہ نہ کسی آنکھ نے اس (جیسی کسی چیز) کو دیکھا ہے، نہ کسی کان نے اس کے بارے میں سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال ہی آیا ہے۔ اگر تم اس بات کی تصدیق چاہو تو یہ آیت پڑھو: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ﴾ ”کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، ان کے لیے پوشیده کر رکھی ہے، وہ جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے“۔
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی ایک مجلس میں موجود تھا۔ اس میں جنت کا ذکر ہوا۔ جب آپ ﷺ گفتگو پوری فرما چکے، تو آخر میں فرمایا: اس میں وہ کچھ ہے، جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے، نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ ہی اس کا خیال ہی کسی آدمی کے دل پر گزرا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے آیت‘ ﴿تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ﴾ سے لے کر اللہ تعالی کے فرمان:﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ﴾ تک تلاوت فرمائی۔
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Allah, the Blessed and Exalted, said: I have prepared for My righteous slaves what no eye has ever seen, no ear has ever heard, and no human heart has ever imagined," Abu Hurayrah said: Recite, if you wish: {No soul knows what delights are kept hidden for them.} [Surat as-Sajdah: 17]

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #10404

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

حدیث کا مفہوم: اللہ تعالی نے اپنے نیک بندوں یعنی ان لوگوں کے لیے،جو اس کے احکامات بجا لاتے ہیں اور اس کی منع کردہ باتوں سے اجتناب کرتے ہیں، وہ محاسن اور خیرہ کر دینے والی خوب صورت اشیا تیار کر رکھی ہیں، جنھیں کسی آنکھ نے نہیں دیکھا۔اور ایسی بے خود کردینے والی آوازیں اور من پسند اوصاف تیار کر چھوڑے ہیں،جنھیں کسی کان نے نہیں سنا۔یہاں بطور خاص آنکھ اور سماعت کا ذکر کیا،کیوںکہ انہی دونوں کے ذریعے زیادہ تر محسوسات کاادراک ہوتا ہے۔چکھنے، سونگھنے اور چھونے کے ذریعے ان سے کم ادراک ہوتا ہے۔
”ولا خَطر على قَلب بَشر“ یعنی ان کے لیے جنت میں جو دائمی نعمتیں تیار ہیں،ان کا خیال تک کسی کے دل پرسے نہیں گزرا۔ہر وہ شے جس کا خیال انسان کے دل میں آتا ہے،جنت میں اس سے بہتر ان کے لیے موجود ہے۔کیوںکہ، انسان کے دل پر صرف انہی اشیا کا خیال آتا ہے،جنھیں وہ جانتے ہیں اور ان کے خیال کے قریب وہی اشیا آتی ہیں،جن کی وہ پہچان رکھتے ہیں۔جب کہ جنت کی نعمتیں ان سے کہیں برتر ہیں۔یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ان کے لیے بطور تکریم ہوگا۔کیوںکہ انھوں نے اللہ کے احکامات کی بجاآوری کی ہوگی،اس کی حرام کردہ باتوں سے اجتناب برتا ہوگا اور اس کے راستے میں مشقت برداشت کی ہوگی۔ چنانچہ بدلہ عمل ہی کی جنس سے سے ملے گا۔
”واقْرَؤُوا إن شِئْتُمْ“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ:پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾
﴿فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ﴾اس میں تمام نفوس شامل ہیں۔ کیوںکہ سیاق نفی میں نکرہ عموم کا معنی دیتا ہے۔یعنی کسی کو یہ معلوم نہیں کہ:﴿مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ﴾ یعنی ان کے لیے کیسی خیر کثیر، بے شمار نعمتیں، فرح وسرور اور لذت و خوشی رکھی ہوئی ہے۔جس طرح انھوں نے راتوں کو نماز پڑھی، دعائیں کیں اور اپنے اعمال کو مخفی رکھا،اسی طرح اللہ نے بھی انھیں ان کے عمل کی جنس سے بدلہ دیا۔بایں طور کہ ان کے اجر کو مخفی رکھا۔اسی لیے فرمایا: ﴿جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾وہ جو کچھ کرتے تھے، یہ اس کا بدلہ ہے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that Allah Almighty said: I have prepared and made ready, as an honor for My righteous slaves in Paradise, that the essence of which no eye has ever seen, the description of which no ear has ever heard, and the reality of which has never occurred to the heart of any human being. Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) said: Recite, if you wish:

{No soul knows what delights are kept hidden for them.} [Surat as-Sajdah: 17]

Topics موضوعات