صحیح مسلم
Sahih Muslim

کہو سلام ہو ایمان والے گھر والوں پر اور مسلمانوں پر، اللہ تعالیٰ ہم سے آگے جانے والوں اور بعد میں آنے والوں…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
10407Sahih صحیح
عن عائشة رضي الله عنها قالت: ألا أُحَدِّثكم عنِّي وعن رسول الله صلى الله عليه وسلم قلنا: بلى، قال: قالت: لمَّا كانت ليلتي التي كان النبيُّ صلى الله عليه وسلم فيها عندي، انقلب فوضعَ رداءه، وخلع نعلَيْه، فوضعهما عند رجليه، وبسط طرفَ إزاره على فراشه، فاضطجع، فلم يلبث إلا رَيْثما ظنَّ أن قد رقدتُ، فأخذ رداءه رُوَيْدًا، وانتعل رُوَيْدًا، وفتح الباب فخرج، ثم أجافه رُوَيْدًا، فجعلتُ دِرْعي في رأسي، واختمرتُ، وتَقنَّعتُ إزاري، ثم انطلقتُ على إثره، حتى جاء البَقِيعَ فقام، فأطال القيام، ثم رفع يديه ثلاث مرات، ثم انحرف فانحرفتُ، فأسرع فأسرعت، فهَرْول فهرولتُ، فأحضر فأحضرت، فسبقتُه فدخلت، فليس إلا أن اضطجعتُ فدخل، فقال: «ما لك؟ يا عائشُ، حَشْيا رابِية» قالت: قلت: لا شيء، قال: «تُخْبِرِينِي أَو لَيُخْبِرَنِّي اللطيفُ الخبير» قالت: قلت: يا رسول الله، بأبي أنت وأمي، فأخبرته، قال: «فأنتِ السواد الذي رأيتُ أمامي؟» قلت: نعم، فلَهَدَني في صدري لَهْدةً أوجعتني، ثم قال: «أظننتِ أنْ يَحِيفَ اللهُ عليك ورسولُه؟» قالت: مَهْما يكتمِ الناسُ يعلمه الله، قال: «نعم، فإن جبريلَ أتاني حين رأيتِ، فناداني، فأخفاه منك، فأجبتُه، فأخفيته منك، ولم يكن يدخل عليك وقد وضعتِ ثيابك، وظننت أن قد رقدت، فكرهتُ أن أوقظَك، وخشيتُ أن تستوحشي، فقال: إنَّ ربَّك يأمركَ أن تأتيَ أهلَ البَقِيع فتستغفر لهم»، قالت: قلت: كيف أقول لهم يا رسول الله؟ قال «قولي: السلامُ على أهل الدِّيار من المؤمنين والمسلمين، ويرحمُ اللهُ المستقدمين منا والمستأخرين، وإنَّا إن شاء الله بكم للاحِقون».
عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا میں تم لوگوں کو اپنی اور رسول ﷺ کی بیتی سناؤں؟ ہم نے عرض کیا ضرور، فرمایا: نبی ﷺ میرے پاس میری باری کی رات میں تھے کہ آپ ﷺ نے کروٹ لی اور اپنی چادر اوڑھ لی اور جوتے اتارے اور ان کو اپنے پاؤں کے پاس رکھ دیا اور اپنی چادر کا کنارہ اپنے بستر پر بچھایا اور لیٹ گئے اور آپ ﷺ اتنی ہی دیر ٹھہرے کہ آپ ﷺ نے گمان کرلیا کہ میں سو چکی ہوں، آپ ﷺ نے آہستہ سے اپنی چادر لی اور آہستہ سے جوتا پہنا اور دروازہ کھولا اور باہر نکلے پھر اس کو آہستہ سے بند کردیا، (یہ دیکھ کر) میں نے اپنی چادر اپنے سر پر اوڑھی اور اپنا ازار پہنا اور آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے چلی یہاں تک کہ آپ ﷺ بقیع (کے قبرستان) میں پہنچے اور کھڑے ہوگئے اور بہت لمبی مدت تک کھڑے رہے، پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو تین بار اٹھایا اور پھر آپ ﷺ واپس لوٹے، میں بھی لوٹی آپ ﷺ تیز چلے تو میں بھی تیز چلنے لگی، آپ ﷺ دوڑے تو میں بھی دوڑی، آپ ﷺ (گھر) پہنچے اور میں بھی پہنچی گئی، میں آپ ﷺ سے سبقت لے گئی اور داخل ہوتے ہی لیٹ گئی، آپ ﷺ تشریف لائے تو فرمایا اے عائشہ! تجھے کیا ہوگیا ہے؟ کہ تمہارا سانس پھول رہا ہے، میں نے کہا: کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم بتادو ورنہ مجھے لطیف وخبیر (باریک بین اور انتہائی باخبر) یعنی اللہ تعالیٰ خبر دے دے گا، تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! پھر پورے قصہ کی خبر میں نے آپ ﷺ کو دے دی، فرمایا میں اپنے آگے آگے جو سیاہ سی چیز دیکھ رہا تھا وہ تم تھیں؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، تو آپ ﷺ نے میرے سینے پر اس طرح مارا کہ مجھے تکلیف ہوئی، پھر فرمایا تم نے خیال کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تمہارا حق مار لیں گے؟ فرماتی ہیں کہ لوگ (کسی بات کو) کتنا ہی چھپا لیں اللہ اس کو جانتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس آئے، جب تو نے (مجھے جاتے ہوئے) دیکھا، (انہوں نے) مجھے پکارا اور تم سے چھپایا تو میں نے بھی تم سے چھپانے ہی کو پسند کیا اور وہ تمہارے پاس اس لیے نہیں آئے کہ تم نے اپنے کپڑے اتار دیے تھے اور میں نے گمان کیا کہ تم سو چکی ہو اور میں نے تمہیں بیدار کرنا پسند نہ کیا، میں نے یہ خوف کیا کہ تم گھبرا جاؤ گی، جبرائیل نے کہا کہ آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ بقیع تشریف لے جائیں اور ان کے لیے مغفرت مانگیں، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں ان کے حق میں (دعا کے لیے) کیسے کہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہو: ”السَّلَامُ عَلَی أَهْلِ الدِّيَارِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِکُمْ لَلَاحِقُونَ“ یعنی کہو سلام ہو ایمان والے گھر والوں پر اور مسلمانوں پر، اللہ تعالیٰ ہم سے آگے جانے والوں اور بعد میں آنے والوں پر رحم کرے اور ہم ان شاء اللہ ضرور تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Ā'ishah (may Allah be pleased with her) said: "Should I not tell you about me and the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him)?" We said: 'Yes.' She said that when it was my turn and the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) was to spend the night with me, he turned, took off his mantle and his shoes and placed them near his feet. Then, he spread the end of his lower garment on his bed and lay down until he thought that I had gone to sleep. He took hold of his mantle slowly and put on his shoes slowly, and opened the door and went out and then closed it gently. I put on my head cover and my veil and tightened my lower garment, and then went out following his steps until he reached Al-Baqī‘. He stood there for a long time. He then lifted his hands three times, and then returned and I also returned. He hastened his steps and I also hastened my steps. He ran and I ran too. He came (to the house) and I also came (to the house). I, however, preceded him and I entered (the house), and as I lay down in bed, he entered and said: "Why is it, O ‘Ā'ish, that you are out of breath?" I said: 'Nothing.' He said: "Tell me or the Subtle and the Aware will inform me." I said: "O Messenger of Allah, may my father and mother be sacrificed for you." Then I told him everything. He said: "So, you were the darkness that I saw in front of me?" I said: 'Yes.' He struck me on the chest and it was painful, and then said: "Did you think that Allah and His Messenger would be unfair to you?" I said: "Whatever people conceal, Allah knows it. Yes." He said: "Jibrīl came to me when you saw me. He called me and he concealed it from you. I responded to his call, but I too concealed it from you, as he would never enter upon you while you are undressed. I thought that you had gone to sleep, and I did not like to awaken you, fearing that you might be afraid of being left alone. Jibrīl said to me: 'Your Lord commands you to go to the inhabitants of Al-Baqī‘ and seek forgiveness for them."' I said: "O Messenger of Allah, what should I say to them?" He said: "Say: Peace be upon the inhabitants of this place among the believers and Muslims. May Allah have mercy upon those who have gone on ahead of us and those who come later on, and we will join you, if Allah wills."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #10407

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اپنا ایک قصہ بیان کر رہی ہیں جو رسول ﷺ کے ساتھ پیش آیا ،یہ واقعہ اس رات کا ہے جب ان کے یہاں آپ ﷺ کی باری تھی، فرمایا: ایک رات نبی ﷺ میرے یہاں تھے کہ آپ ﷺ نے کروٹ لی اور اپنی چادر اور اپنی جوتی اپنے پاؤں کے آگے رکھی اور پھر لیٹ گئے اور جب یہ گمان ہو گیا کہ میں سو گئی ہوں، آپ ﷺ نے اپنی چادر آہستہ سے لی، تاکہ مجھے پتہ نہ چلے اور آہستہ سے جوتی پہنی، اور دروازہ کھولا اور باہر نکل گئے اور پھر آہستہ سے اس کو بند کر دیا۔ آپ ﷺ نے ایسا اس لیے کیا تاکہ میں بیدار نہ ہو جاؤں اور اکیلے چلے جائیں تاکہ مجھے رات کی تاریکی میں اکیلے رہتے ہوئے خوف نہ محسوس کریں۔ عائشہ ضی اللہ عنہا نے بھی اپنے لباس زیب تن کیے دو پٹہ سر پر اوڑھا اور آپ ﷺ کے پیچھے چل پڑیں، یہاں تک کہ آپ ﷺ بقیع پہنچے، جو مدینہ کا قبرستان ہے اور دیر تک کھڑے رہے، پھر دعا کرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ تین بار اٹھائے اور پھر واپس گھر آنے کے لیے پلٹے، عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تیزی سے پلٹیں، نبی ﷺ تیزی سے چلنے لگے میں بھی تیزی سے چلنے لگی، پھر آپ ﷺ دوڑنے لگے اور میں بھی دوڑی اور گھر آپ سے پہلے پہنچ کر لیٹ گئی آپ ﷺ گھر میں داخل ہوئے اور فرمایا: ”اے عائشہ! تجھے کیا ہوگیا ہے؟ کہ تمہارا سانس پھول رہا ہے“، یعنی اے عائشہ! کیا ہوا تم کو ، تمہارے تیز چلنے کی وجہ سانس پھولا ہوا ہے جس کی وجہ سے بات کرنے میں اتار چڑھاؤ ہو رہا ہے۔ ”رابِية“ یعنی پیٹ پھولا ہوا ہونا، میں نے کہا: کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم بتادو ورنہ مجھے لطیف وخبیر (باریک بین اور انتہائی باخبر) یعنی اللہ تعالیٰ خبر دے دے گا، چنانچہ جو کچھ ہوا تھا میں نے بتا دیا، فرمایا اچھا تو میں اپنے آگے آگے جو سیاہ سی چیز دیکھ رہا تھا وہ تم تھیں؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، تو آپ ﷺ نے میرے سینے پر اس طرح مارا کہ مجھے تکلیف ہوئی، پھر فرمایا تم نے خیال کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تمہارا حق مار لیں گے؟ یعنی کیا تم یہ سمجھتی ہو کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے کہ تمہارے پاس رات گزارنے کے وقت دوسری ازواج کے یہاں چلا جاؤں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ لوگ (کسی بات کو) کتنا ہی چھپا لیں اللہ اس کو جانتا ہے، یعنی جو کچھ بھی لوگ چھپاتے ہیں اللہ تعالی اس سے خوب باخبر ہے، جب آپ رضی اللہ عنہا نے یہ جملہ کہا تو گویا اپنے تئیں اس خیال کی تصدیق کر دی، پھر آپ ﷺ نے بتایا کہ جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے تھے مگر گھر میں داخل نہیں ہوئے کیونکہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے کپڑے نکال کر نیند کے لیے تیار ہو چکی تھیں، نبی ﷺ نےسمجھا کہ وہ سو چکی ہیں اور یہ ناپسند کیا کہ انہیں بیدار کر دیں کہ وہ رات کی تاریکی میں اکیلے گھبرا نہ جائیں، جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ بقیع تشریف لے جائیں اور اہل بقیع کے لیے مغفرت طلب کریں چنانچہ نبی ﷺ اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے نکلے اور بقیع پہنچ کر اہل بقیع کے لیے مغفرت طلب کی اور ان کے حق میں دعا کی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں ان کے حق میں (دعا کے لیے) کیسے کہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہو: ”السَّلَامُ عَلَی أَهْلِ الدِّيَارِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِکُمْ لَلَاحِقُونَ“ یعنی کہو سلام ہو ایمان والے گھر والوں پر اور مسلمانوں پر، اللہ تعالیٰ ہم سے آگے جانے والوں اور بعد میں آنے والوں پر رحم کرے اور ہم ان شاء اللہ ضرور تم سے ملنے والے ہیں۔

Explanation

The Mother of the Believers ‘Ā'ishah tells a story that happened with her and the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) when he was with her on her night. He went to bed, took off his garment and shoes, and placed them near his feet. He then lay down until he thought she had slept, then he gently took his garment so that he would not awaken her, and then gently put on his shoes; then he opened the door, went out, and gently shut the door. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) did all of this secretly so that he would not awake her or let her know that he left her. Perhaps she would become afraid of being alone in the darkness of the night. ‘Ā'ishah put on her garment and covered herself, and set out after him. When he came to Al-Baqī‘ – a graveyard in Madīnah – he stood for a long time, then raised his hands thrice in supplication. Then he turned around to go back to his home. ‘Ā'ishah then turned around quickly. He began to walk fast and she began to walk fast as well. He began to run and she began to run too. She arrived before him and entered her home and laid down. He entered and said: "Why are you out of breath, O ‘Ā'ish?" which means that her chest was rising and her breathing was labored, like one who has been walking fast and cannot catch his breath while speaking. She told him there was nothing. So he said to her: "You either tell me or Allah, the Subtle and the Aware, will tell me." She then told him what had happened, and he asked her: "Are you the person I saw in front of me?" When she answered in the affirmative, he pushed her on her chest and it hurt her. Then he said: "Do you think Allah and His Messenger would do you injustice?" meaning that I would go to one of my other wives on your night? She said: "Whatever people conceal, Allah knows it. Yes." It was like a self-affirmation that this was the case and Allah knows it. Then he informed her that Jibrīl came to him, and he did not enter his home because ‘Ā'ishah had already taken off her clothes and got ready to sleep. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) thought that she had slept and did not like to wake her up lest she would feel afraid of being alone in the darkness of the night. Jibrīl said to him: "Your Lord commands you to go to the inhabitants of Al-Baqī‘ graveyard and seek forgiveness for them." So he obeyed the command and came to the inhabitants of Al-Baqī‘ graveyard and sought forgiveness for them and supplicated for them. ‘Ā'ishah said: "What do I say to them, O Messenger of Allah?" He said: "Say: Peace be upon the inhabitants of this place among the believers and Muslims. May Allah have mercy upon those who have gone on ahead of us and those who come later on, and we will join you, if Allah wills."

Topics موضوعات