کہو سلام ہو ایمان والے گھر والوں پر اور مسلمانوں پر، اللہ تعالیٰ ہم سے آگے جانے والوں اور بعد میں آنے والوں…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10407Sahih Muslim (HadeethEnc 10407)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اپنا ایک قصہ بیان کر رہی ہیں جو رسول ﷺ کے ساتھ پیش آیا ،یہ واقعہ اس رات کا ہے جب ان کے یہاں آپ ﷺ کی باری تھی، فرمایا: ایک رات نبی ﷺ میرے یہاں تھے کہ آپ ﷺ نے کروٹ لی اور اپنی چادر اور اپنی جوتی اپنے پاؤں کے آگے رکھی اور پھر لیٹ گئے اور جب یہ گمان ہو گیا کہ میں سو گئی ہوں، آپ ﷺ نے اپنی چادر آہستہ سے لی، تاکہ مجھے پتہ نہ چلے اور آہستہ سے جوتی پہنی، اور دروازہ کھولا اور باہر نکل گئے اور پھر آہستہ سے اس کو بند کر دیا۔ آپ ﷺ نے ایسا اس لیے کیا تاکہ میں بیدار نہ ہو جاؤں اور اکیلے چلے جائیں تاکہ مجھے رات کی تاریکی میں اکیلے رہتے ہوئے خوف نہ محسوس کریں۔ عائشہ ضی اللہ عنہا نے بھی اپنے لباس زیب تن کیے دو پٹہ سر پر اوڑھا اور آپ ﷺ کے پیچھے چل پڑیں، یہاں تک کہ آپ ﷺ بقیع پہنچے، جو مدینہ کا قبرستان ہے اور دیر تک کھڑے رہے، پھر دعا کرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ تین بار اٹھائے اور پھر واپس گھر آنے کے لیے پلٹے، عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تیزی سے پلٹیں، نبی ﷺ تیزی سے چلنے لگے میں بھی تیزی سے چلنے لگی، پھر آپ ﷺ دوڑنے لگے اور میں بھی دوڑی اور گھر آپ سے پہلے پہنچ کر لیٹ گئی آپ ﷺ گھر میں داخل ہوئے اور فرمایا: ”اے عائشہ! تجھے کیا ہوگیا ہے؟ کہ تمہارا سانس پھول رہا ہے“، یعنی اے عائشہ! کیا ہوا تم کو ، تمہارے تیز چلنے کی وجہ سانس پھولا ہوا ہے جس کی وجہ سے بات کرنے میں اتار چڑھاؤ ہو رہا ہے۔ ”رابِية“ یعنی پیٹ پھولا ہوا ہونا، میں نے کہا: کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم بتادو ورنہ مجھے لطیف وخبیر (باریک بین اور انتہائی باخبر) یعنی اللہ تعالیٰ خبر دے دے گا، چنانچہ جو کچھ ہوا تھا میں نے بتا دیا، فرمایا اچھا تو میں اپنے آگے آگے جو سیاہ سی چیز دیکھ رہا تھا وہ تم تھیں؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، تو آپ ﷺ نے میرے سینے پر اس طرح مارا کہ مجھے تکلیف ہوئی، پھر فرمایا تم نے خیال کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تمہارا حق مار لیں گے؟ یعنی کیا تم یہ سمجھتی ہو کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے کہ تمہارے پاس رات گزارنے کے وقت دوسری ازواج کے یہاں چلا جاؤں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ لوگ (کسی بات کو) کتنا ہی چھپا لیں اللہ اس کو جانتا ہے، یعنی جو کچھ بھی لوگ چھپاتے ہیں اللہ تعالی اس سے خوب باخبر ہے، جب آپ رضی اللہ عنہا نے یہ جملہ کہا تو گویا اپنے تئیں اس خیال کی تصدیق کر دی، پھر آپ ﷺ نے بتایا کہ جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے تھے مگر گھر میں داخل نہیں ہوئے کیونکہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے کپڑے نکال کر نیند کے لیے تیار ہو چکی تھیں، نبی ﷺ نےسمجھا کہ وہ سو چکی ہیں اور یہ ناپسند کیا کہ انہیں بیدار کر دیں کہ وہ رات کی تاریکی میں اکیلے گھبرا نہ جائیں، جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ بقیع تشریف لے جائیں اور اہل بقیع کے لیے مغفرت طلب کریں چنانچہ نبی ﷺ اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے نکلے اور بقیع پہنچ کر اہل بقیع کے لیے مغفرت طلب کی اور ان کے حق میں دعا کی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں ان کے حق میں (دعا کے لیے) کیسے کہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہو: ”السَّلَامُ عَلَی أَهْلِ الدِّيَارِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِکُمْ لَلَاحِقُونَ“ یعنی کہو سلام ہو ایمان والے گھر والوں پر اور مسلمانوں پر، اللہ تعالیٰ ہم سے آگے جانے والوں اور بعد میں آنے والوں پر رحم کرے اور ہم ان شاء اللہ ضرور تم سے ملنے والے ہیں۔
Explanation
The Mother of the Believers ‘Ā'ishah tells a story that happened with her and the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) when he was with her on her night. He went to bed, took off his garment and shoes, and placed them near his feet. He then lay down until he thought she had slept, then he gently took his garment so that he would not awaken her, and then gently put on his shoes; then he opened the door, went out, and gently shut the door. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) did all of this secretly so that he would not awake her or let her know that he left her. Perhaps she would become afraid of being alone in the darkness of the night. ‘Ā'ishah put on her garment and covered herself, and set out after him. When he came to Al-Baqī‘ – a graveyard in Madīnah – he stood for a long time, then raised his hands thrice in supplication. Then he turned around to go back to his home. ‘Ā'ishah then turned around quickly. He began to walk fast and she began to walk fast as well. He began to run and she began to run too. She arrived before him and entered her home and laid down. He entered and said: "Why are you out of breath, O ‘Ā'ish?" which means that her chest was rising and her breathing was labored, like one who has been walking fast and cannot catch his breath while speaking. She told him there was nothing. So he said to her: "You either tell me or Allah, the Subtle and the Aware, will tell me." She then told him what had happened, and he asked her: "Are you the person I saw in front of me?" When she answered in the affirmative, he pushed her on her chest and it hurt her. Then he said: "Do you think Allah and His Messenger would do you injustice?" meaning that I would go to one of my other wives on your night? She said: "Whatever people conceal, Allah knows it. Yes." It was like a self-affirmation that this was the case and Allah knows it. Then he informed her that Jibrīl came to him, and he did not enter his home because ‘Ā'ishah had already taken off her clothes and got ready to sleep. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) thought that she had slept and did not like to wake her up lest she would feel afraid of being alone in the darkness of the night. Jibrīl said to him: "Your Lord commands you to go to the inhabitants of Al-Baqī‘ graveyard and seek forgiveness for them." So he obeyed the command and came to the inhabitants of Al-Baqī‘ graveyard and sought forgiveness for them and supplicated for them. ‘Ā'ishah said: "What do I say to them, O Messenger of Allah?" He said: "Say: Peace be upon the inhabitants of this place among the believers and Muslims. May Allah have mercy upon those who have gone on ahead of us and those who come later on, and we will join you, if Allah wills."