جب اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو اس سے ان کی اولاد کی وہ ساری روحیں…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- جامع ترمذیJami' at-TirmidhiOriginal wording: اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10408Jami' at-Tirmidhi (HadeethEnc 10408)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
”جب اللہ تعالی نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو اس سے ان کی اولاد کی وہ ساری روحیں باہر آ گئیں جنہیں وہ قیامت تک پیدا کرنے والا تھا“ یہ ہاتھ کا پھیرنا اور ذریت کا نکالنا اپنی حقیقت پر قائم ہے، اس میں کسی قسم کی تاویل جو اسے اس کے ظاہری معنی سے پھیر دے جائز نہیں جیسا کہ اہل سنت کا مذہب ہے۔
پھر ان میں سے ہر انسان کی آنکھوں کی بیچ میں نور کی ایک ایک چمک رکھ دی، پھر انہیں آدم کے سامنے پیش کیا، تو آدم نے کہا : میرے رب! کون ہیں یہ لوگ ؟ اللہ نے کہا : یہ تمہاری ذریت (اولاد) ہیں، پھر انہوں نے ان میں ایک ایسا شخص دیکھا جس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کی چمک انہیں بہت اچھی لگی، انہوں نے کہا: اے میرے رب! یہ کون ہے ؟ اللہ نے فرمایا: یہ داؤد ہیں، انہوں نے کہا: میرے رب! اس کی عمر کتنی رکھی ہے؟ اللہ نے کہا: ساٹھ سال، انہوں نے کہا: میرے رب! میری عمر میں سے چالیس سال لے کر ان کی عمر میں اضافہ فرما دے۔
پھر جب آدم علیہ السلام کی ساری عمر ختم ہو گئی اور چالیس برس رہ گئے، ان کے پاس موت کا فرشتہ آیا تاکہ ان کی روح قبض کرے، آدم علیہ السلام نے کہا: میری عمر کے چالیس سال ابھی باقی ہیں، اس نے کہا کہ آپ نے یہ چالیس برس اپنے بیٹے داؤد کو دے دیا تھا، آدم علیہ السلام نے انکار کردیا، کیونکہ وہ عالم ذر میں وعدہ کیے تھے اور ملک الموت کے آنے کے وقت انہیں یاد نہ رہا، چنانچہ ان کی اولاد بھی انکاری بن گئی، آدم علیہ السلام بھول گئے، تو ان کی اولاد بھی بھول گئی، آدم علیہ السلام نے درخت سے پھل کھا کر غلطی کی تو ان کی اولاد بھی خطاکار بن گئی کیونکہ اولاد اپنے باپ کے مشابہ ہوتی ہے۔
لہذا داؤد (علیہ السلام) جن کی عمر ساتھ سال تھی اللہ نے چالیس سال کا اضافہ کردیا اور اللہ ہی تمام ہونے والی اور ہو چکی باتوں کو جاننے والا ہے، اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ چیزیں جو رونما نہیں ہوئیں، اگر رونما ہوتیں تو کیسی ہوتیں، اللہ ہی ہے جو جانتا ہے کہ کس کے لیے کتنا ہے، اور اس کے بعد کتنا زیادہ ہونا ہے، فرشتوں کو اس بارے میں کوئی علم نہیں اِلاّ یہ کہ وہ علم جسے اللہ انہیں عطا کر دے، اللہ تعالی ہی ان تمام چیزوں کو ان کے وجود میں آنے سے قبل اور وجود میں آجانے کے بعد جانتا، اسی لیے علماء کہتے ہیں جو بھی محو (مٹانا) اور اثبات ہے وہ صرف فرشتوں کے صحیفے میں ہوتا ہے، رہا اللہ سبحانہ وتعالی کا علم تو اس میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی ایسی بات رونما ہوتی ہے جسے وہ پہلے نہیں جانتا تھا، اسی لیے اللہ کے علم میں کوئی محو اور اثبات نہیں ہوتا۔
Explanation
When Allah created Adam, He wiped his back and all his human offspring that Allah would create until the Day of Judgment came out of his back. This wiping and coming out should be understood literally, and it is not permissible to interpret it beyond the apparent meaning, as this is the methodology of Ahl As-Sunnah. When Allah took them out of his back, He placed a glimmering light between each person's eyes, then he showed them to Adam. Adam said: "O my Lord, who are these?" Allah, the Almighty, said: "They are your offspring." He saw a man among them whose light between his eyes amazed him, so he said: "O my Lord, who is this?" Allah, the Almighty, said: "He is Dawūd." Adam said: "My Lord, how long would he live?" He said: "Sixty years." Adam said: "My Lord, add forty years from my lifespan to his." When Adam had lived all his lifespan minus forty years, the angel of death came to him to take his soul. Adam said: "There are forty years remaining in my life." He said to him: "You gave them to your son Dawūd." Adam denied it because that was in the unknown world of progenies, and he did not remember it upon arrival of the angel of death. As a result, his offspring also denied. Likewise, Adam forgot, so his offspring forget; Adam disobeyed, so his offspring disobey, because the child resembles his father. Dawūd's lifespan was forty years and Allah made it sixty. Allah, may He be glorified, is All-Knowing of what happened, what will happen, and what did not happen if it happened how it would be. He knows what He wrote for him and what increase He would grant him later. The angels have no knowledge except what Allah informs them. Allah knows things before they happen and after they happen. For this reason, scholars said that erasing and affirming occur in the sheets of the angels; but knowledge of Allah, Glorified and Exalted, never changes, nor does He become aware of anything He does not know before. Therefore, there is no erasing or affirmation in His knowledge.