میں نے اپنے بندے کو جو مال دے دیا ہے وہ اس کے لیے حلال ہے اور میں نے اپنے سب بندوں کو (حق کے لیے) یکسو پیدا…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
آپ ﷺ نے فرمایا جنتی لوگ تین قسم کے ہیں: ایسا سلطنت والا جو عادل ہے صدقہ کرنے والا ہے اسے اچھائی کی توفیق دی گئی ہے۔ اور (دوسرا) ایسا مہربان شخص جو ہر قرابت دار اور ہر مسلمان کے لیے نرم دل ہے اور (تیسرا) وہ آدمی کہ جو پاکدامن پاکیزہ اخلاق والا ہو اور عیال دار بھی ہو لیکن کسی کے سامنے اپنا ہاتھ نہ پھیلاتا ہو۔
نیز آپ ﷺ نے فرمایا دوزخی پانچ طرح کے ہیں: وہ کمزور آدمی کہ جس کے پاس عقل نہ ہو اور دوسروں کا تابع (غلام) ہو اہل و مال کا طلبگار نہ ہو۔ (دوسرا) خیانت کرنے والا آدمی کہ جس کی حرص چھپی نہیں رہ سکتی اگرچہ اسے تھوڑی سی چیز ملے اور وہ اس میں بھی خیانت کرے۔ (تیسرا) وہ آدمی جو صبح شام تم کو تمہارے گھر اور مال کے بارے میں دھوکہ دیتا ہو۔ اور آپ ﷺ نے (چوتھا) بخیل یا جھوٹے اور (پانچواں) بدخو اور بیہودہ گالیاں بکنے والے آدمی کا بھی ذکر فرمایا۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10409Sahih Muslim (HadeethEnc 10409)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے رسول ﷺ نے ایک دن اپنے صحابہ کے درمیان خطبہ دیا اور انہیں بتلایا کہ اللہ تعالی نے انہیں اس بات کاحکم دیا ہے کہ آپ ﷺ انہیں وہ چیز سکھلائیں جو ان کو معلوم نہیں ہیں جسے انہیں رب نے اس دن سکھلائے ہیں۔ چنانچہ ان باتوں میں سے جو اللہ تعالی نے نبی ﷺ کو سکھلائی ہیں۔
اللہ تعالی کا یہ قول کہ ”میں نے اپنے بندے کو جو مال دے دیا ہے وہ اس کے لیے حلال ہے“ يعنی اللہ تعالی نے فرمایا: میں جو بھی مال اپنے بندوں میں سے کسی کو دوں تو وہ اس کے لیے حلال ہے اور جنہوں نے کچھ جانوروں کو اپنے اوپر حرام کرلیا تھا اس سے اسی کا انکار مراد ہے اور یہ کہ اُن کے (ان جانوروں کو) حرام کر لینے سے وہ حرام نہیں ہوجاتے۔ جس مال کا بھی بندہ مالک ہے وہ اس کے لیے حلال ہے مگر یہ کہ اس سے کوئی حق متعلق ہو جائے یا کوئی خاص دلیل وارد ہو جو اس کو اس عموم سے خارج کر دے۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے فرمایا: ”اور میں نے اپنے سب بندوں کو (حق کے لیے) یکسو پیدا کیا ہے“ یعنی میں نے سب بندوں کو مسلمان بنایا اور بقول بعض: گناہوں سے پاک صاف بنایا اور بقول دیگر صراط مستقیم پر گامزن اور قبول ہدایت کی طرف متوجہ ہونے والا بنایا۔جب کہ بعض لوگوں نے کہا کہ اس سے مراد وہ عہد وپیمان ہے جو ابتدائے آفرینش کے وقت بنی نوعِ آدم سے لیا گیا تھا اور اللہ تعالی نے پوچھا تھا:کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو انہوں نے کہا تھا کیوں نہیں! (یعنی بالکل)۔
اللہ تعالی کا قول: ”لیکن شیاطین میرے ان بندوں کے پاس آکر انہیں ان کے دین سے بہکانے لگے اور میں نے اپنے بندوں کے لیے جن چیزوں کو حلال کیا تھا وہ انہیں اُن کے لیے حرام قرار دینے لگے نیز وہ ان کو ایسی چیزوں کو میرے ساتھ شریک کرنے کا حکم دیتے ہیں کہ جس کی کوئی دلیل میں نے نازل نہیں کی“۔ یعنی ان کے پاس شیاطین آئے اور انہیں بہلایا پھسلایا اور جس دین پر یہ تھے اس سے ہٹا کر انہیں باطل کی طرف مائل کر دیا، اور ان پر ان چیزوں کو حرام کر دیا جسے اللہ تعالی نے ان کے لیے حلال کیا تھا اور انہیں اللہ کے ساتھ شرک کرنے کا حکم دیا ان چیزوں کی عبادت کر کے جن کی عبادت کرنے کا نہ تو اللہ نے حکم دیا اور نہ ہی ان کی عبادت کے استحقاق کی کوئی دلیل قائم کی۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف نظر فرمائی تو اہلِ کتاب کے (کچھ ) بچے کھچے لوگوں کے سوا باقی عرب اور عجم سب پر سخت ناراض ہوا“ یعنی اللہ تعالی نے رسول ﷺ کی بعثت سے قبل زمین والوں کی طرف دیکھا تو انہیں شرک اور گمراہی پر متفق پایا۔ چنانچہ اللہ نے ان سے سخت نفرت کی سوائے ان چند لوگوں کے جو اہلِ کتاب میں سے باقی تھے اور یہ وہ لوگ تھے جو بنا رد وبدل کیے اپنے سچے دین پر باقی تھے، جب کہ اہلِ کتاب کی اکثریت تحریف اور رد وبدل کا شکار ہو گئے تھے۔
اور اللہ سبحانہ وتعالی کا یہ فرمان کہ: "میں نے تمہیں اس لیے بھیجا ہے تاکہ میں تم کو آزماؤں اور تمہارے ذریعہ ان کو بھی آزماؤں“ یعنی میں نے تجھ کو لوگوں کی طرف اس لیے بھیجا تاکہ تمہیں آزماؤں کہ تبلیغِ رسالت، اللہ کے راستے میں کما حقہ جہاد کرنا اور اللہ کے راستے میں صبر اور اس کے علاوہ جس ذمہ داری کا میں نے تمہیں حکم دیا ہے اس کی ادایئگی کا ظہور آپ سے بخوبی ہوا ہے اور آپ کے ذریعہ ان لوگوں کو آزماؤں جن کے پاس تجھ کو بھیجا، تو ان میں سے بعض وہ ہیں جو اپنے ایمان کو ظاہر کرتے ہیں اور اپنی فرماں برداری میں مخلص ہوتے ہیں اور کچھ پیچھے رہ جانے والے اور کفر و دشمنی کا اظہار کرنے والے ہیں اور ان میں سے بعض منافق ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی اسے آزمائے تاکہ حقیقت ظاہر ہو جائے کیونکہ اللہ تعالی بندوں کو ان سے واقع ہونے والی چیزوں کی بنیاد پر سزا دے گا نہ کہ اس گناہ کے واقع ہونے سے پہلے صرف اللہ تعالی کے علم رکھنے کی بنیاد پر ورنہ تو اللہ تعالی تمام چیزوں کے متعلق ان کے واقع ہونے سے قبل علم رکھتا ہے۔
”اور میں نے آپ پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے کہ جسے پانی نہیں دھو (مٹا) سکے گا“ اس کا معنی یہ ہے کہ میں نے تم پر قرآن مجید نازل کیا اور وہ سینوں میں محفوظ ہے، وہ ختم نہیں ہوگا، بلکہ یہ سدا باقی رہے گا۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے: ”اور تم اس کتاب کو سونے اور بیداری کی حالت میں بھی پڑھو گے“ اس کا معنی یہ ہے کہ یہ نیند اور بیداری دونوں حالت میں آپ کے لیے محفوظ ہوگا اور بعض لوگوں نے کہا کہ تم اسے آسانی اور سہولت کے ساتھ پڑھتے رہوگے۔
اور نبی ﷺ کا فرمان: ”اور بلاشبہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں قریش کو جلا ڈالوں“ یعنی اللہ تعالی نے مجھے اس بات کاحکم دیا ہے کہ میں کفار قریش کو ہلاک اور انہیں قتل کروں۔
”تو میں نے عرض کیا: اے پروردگار! وہ میرے سر کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے روٹی کی طرح کردیں گے“ یعنی وہ میرا سر توڑ ڈالیں گے اور اسے زخمی کر دیں گے جیسے روٹی کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جا تا ہے۔
”آپ انھیں باہر نکال دیں جس طرح انھوں نے آپ کو باہر نکالا“ یعنی اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ سے کہا، کفار قریش کو اسی طرح نکال دو جس طرح انہوں نے تمہیں نکالا تھا تاکہ (ان کے اعمال کا) بدلہ پورا ہوجائے، اگرچہ دونوں نکالنے میں واضح فرق ہے، کیونکہ ان کا نبی ﷺ کو نکالنا ناحق تھا جب کہ نبی ﷺ کا انہیں نکالنا حق تھا۔
”اور ان سے لڑائی کریں ہم آپ کو لڑوائیں گے“ یعنی: ان سے جہاد کریں ہم آپ کی نصرت وحمایت کریں گے۔
”اور خرچ کریں آپ پر خرچ کیا جائے گا“ یعنی اپنی استطاعت کے بقدر اللہ کے راستے میں خرچ کریں ہم دنیا و آخرت میں آپ کو اس کا بدلہ دیں گے۔
”اور آپ لشکر بھیجیں ہم اس جیسے پانچ لشکر بھیجیں گے“ یعنی جب آپ کفار سے قتال کرنے کے لیے لشکر بھیجیں گے تو ہم ویسے فرشتوں کی پانچ فوج بھیجیں گے جو مسلمانوں کی مدد کرے گی جیسا کہ غزوہ بدر میں کیا۔
”اور جو لوگ آپ کے فرماں بردار ہیں ان کے ذریعے نافرمانوں کے خلاف جنگ کریں“ یعنی مسلمانوں میں سے جو لوگ آپ کی اطاعت کریں ان کو لے کر ان سے لڑیں جو کافروں میں سے آپ کی نافرمانی کریں۔
”آپ ﷺ نے فرمایا جنتی لوگ تین قسم کے ہیں:
(ایک) ایسا سلطنت والا جو عادل ہے صدقہ کرنے والا ہے اسے اچھائی کی توفیق دی گئی ہے۔
(دوسرا) ایسا مہربان شخص جو ہر قرابت دار اور ہر مسلمان کے لیے نرم دل ہے۔
(تیسرا) وہ آدمی کہ جو پاک دامن، پاکیزہ اخلاق والا ہو اور بال بچوں والا بھی ہو لیکن کسی کے سامنے اپنا ہاتھ نہ پھیلاتا ہو“۔
یعنی جنتیوں کی تین قسمیں ہیں: ایک وہ شخص جو حکم، غلبہ اور برتری والا ہے، اس کے باوجود وہ لوگوں کے درمیان انصاف کرتا ہے، ان پر ظلم نہیں کرتا بلکہ ان پر احسان کرتا ہے، اس کے لیے خیر کے اسباب مہیا کر دیے گئے اور نیکی کے دروازے کھول دیے گئے۔ اور ایک وہ آدمی جو ہر چھوٹے بڑے پر مہربان ہے اور ہر اس شخص کے لیے اس کا دل نرم ہے جس سے اس کا خصوصی رشتہ ہے اور ہر مسلمان کے لیے عمومی طور پر۔ اور وہ شخص جو بال بچوں والا پاک دامن، حرام چیزوں اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچنے والا ہے وہ اپنے اور بال بچوں کے امور میں اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنے والا ہے، پس اہل وعیال کی محبت اور ان کی روزی روٹی کا ڈر اسے اللہ پر بھروسہ چھوڑ کر مخلوق کے سامنے دامن پسارنے، حرام مال کے حصول اور اس میں مشغول ہوکر واجبی علم وعمل سے غافل ہونے پر نہیں ابھارتا۔
”آپ ﷺ نے فرمایا دوزخی پانچ طرح کے ہیں:
(ایک) وہ کمزور آدمی کہ جس کے پاس عقل نہ ہو اور دوسروں کا تابع (غلام) ہو اہل و مال کا طلبگار نہ ہو۔
(دوسرا) خیانت کرنے والا آدمی کہ جس کی حرص چھپی نہیں رہ سکتی اگرچہ اسے تھوڑی سی چیز ملے اور وہ اس میں بھی خیانت کرے۔
(تیسرا) وہ آدمی جو صبح شام تم کو تمہارے گھر اور مال کے بارے میں دھوکہ دیتا ہو۔
آپ ﷺ نے (چوتھا)بخیل یا جھوٹے
اور(پانچواں) بدخو اور بیہودہ گالیاں بکنے والے آدمی کا بھی ذکر فرمایا“۔
یعنی جہنمیوں کی پانچ قسمیں ہیں ان کا پہلا ”وہ شخص جو ایسا کمزور شخص ہے جس کے پاس عقل نہ ہو“ یعنی وہ کمزور جس کے پاس ایسی عقل نہیں ہے جو اسے غیر مناسب کام کرنے سے روکے، جو تم میں سے ماتحت (غلام) ہیں نہ وہ گھر چاہتے ہیں اور نہ مال“ یعنی وہ نوکر چاکر جنہیں بیوی کی طلب نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ حلال سے منہ موڑ کر حرام کے مرتکب ہو جائیں اور نہ ہی وہ جدوجہد اور پاکیزہ کمائی کے ذریعہ حلال مال کے طلب گار ہوتے ہیں۔
دوسرا: ”وہ خیانت کرنے والا آدمی کہ جس کی حرص چھپی نہیں رہ سکتی اگرچہ اسے تھوڑی سی چیز ملے اور وہ اس میں بھی خیانت کرے“ یعنی اس پر کوئی ایسی چیز پوشیدہ نہیں رہتی ہے جسے حاصل نہ کیا جاسکتا ہو بایں طور کہ اس کا حصول ممکن نہ ہو مگر وہ اسے ڈھونڈنے لگتا ہے تاکہ اس چیز کے حاصل ہو جانے پر اس میں خیانت کرے یعنی یہ خیانت کے عیب سے متصف ہونے میں مبالغہ ہے۔
اور تیسرا دھوکے باز شخص اور چوتھا جھوٹا یا بخیل آدمی اور پانچواں گالیاں بکنے والا یعنی: بدزبان اور بد خلق شخص ہے۔
Explanation
The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) gave a sermon to his Companions wherein he informed them that Allah ordered him to impart to them the knowledge that Allah had imparted to Him that day. Allah said that all the wealth that He gives to His servants is lawful for them. This is a response to those who made unlawful for themselves certain types of cattle, clarifying that it did not become unlawful for them by their making it unlawful. Therefore, every property that a person possesses in this world is lawful for him, unless some external right is attached to it or there is evidence that excludes it from the general permissibility.
Allah then said that He has created His slaves predisposed to be Muslims, submitting to Allah alone, or pure from all sin, or on the straight path with a readiness to receive guidance – these are three interpretations for this segment of the Hadīth. One further interpretation is that it refers to the oath that Allah took from people in the world of Dharr (particles), before they were born into this world, when he asked them: "Am I not your Lord?" They said: "Indeed you are."
He then said: Then the devils came to them, bluffed them, caused them to deviate from the path that they were on, and directed them toward falsehood. They also deluded them by making what was lawful for them unlawful, and ordered them to associate with Allah in worship that which Allah did not order to be worshiped and sent no evidence that would suggest that they deserve to be worshiped.
The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) then said that Allah looked at the people of the earth before the Messenger was sent and he saw them all united upon polytheism and disbelief. He hated them for this, except for some remnants of the People of the Book, those who were still holding on to their religion and had not altered it. Most of the People of the Book, however, had distorted the religion revealed to them by Allah.
Allah said: "I sent you to the people to test you," meaning to see how you would carry out the tasks I assigned to you of delivering the message, fighting in the cause of Allah, and being patient for His sake. I also tested others through you by observing how they react to your message and whether or not they will believe in you. Some will reveal their faith and obey you, others will turn away from you and show enmity to you, and others will be hypocrites and will pretend to have believed while they have not. Allah already knows how everyone will react before they actually do, but He tests them so that their actions would become a clear reality. Indeed, Allah punishes His slaves based on the actions they commit, not on His prior knowledge of their actions before they actually commit them.
Then Allah said that He sent down the Qur'an, and that it is preserved within the chests and not liable to elimination; rather, it will survive throughout the ages. Allah said that it could be recited during wakefulness and sleep, meaning that it is preserved for you in both wakefulness and sleep, or that it could be easily recited, according to another interpretation.
The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) then said: Allah ordered me to burn down the (tribe of) Quraysh; i.e. to kill the disbelievers of Quraysh, so I said: 'O my Lord, they would break my head just as they would break bread.' Allah said to this: Expel the Quraysh from their lands just as they did to you, though there is a big difference between the two, as the Quraysh expelled him based on falsehood while he would expel them based on truth. Allah said: Fight them and we will assist you, spend in the path of Allah and we will compensate you for it in this life and in the afterlife, and if you send an army to fight the non-Muslims, we will send angels five times its number to assist the Muslims, just as He did in Badr. He then ordered him to fight those who disobey him of the disbelievers with the help of those who do obey him of the Muslims.
He then said: The people of Paradise are three: the man who possesses authority and power, yet he is fair to people, non-oppressive, and charitable towards them. He is guided to doing good and the doors of benevolence are opened before him. The second is the man who is merciful to the young and old, who has a tender heart towards his kin in particular and all Muslims in general. The third is the man who has dependents and he avoids unlawful gains and refrains from asking people for assistance because he relies upon Allah regarding his sustenance and that of his dependents. His love for his dependents and his fear concerning lack of sustenance for them do not drive him to beg people and stop relying on Allah, or to seek unlawful gains, or to become too preoccupied with them to do what is required of him of seeking (religious) knowledge and fulfilling (religious) obligations.
The people of Hellfire are five: the weak who lacks the intelligence that deters him from doing what is inappropriate, who is subordinate to you and does not seek to have a wife or wealth through lawful means. Such people refrain from what is lawful and commit what is unlawful. The second is the betrayer who covets every covetable thing, even if it is almost unnoticeable; he traces it and examines it until he finds it and betrays you trust regarding it. This is a hyperbolic description of betrayal. The third is the deceiver, and the fourth is the liar or the miser, and the fifth is he who uses obscene language and is ill-mannered.