سنن ابو داؤد · مسند احمد · سنن دارمی
Sunan Abi Dawud · Musnad Ahmad · Sunan ad-Darimi

ان شاء اللہ یہ خواب سچا ہے، (پھر فرمایا) تم بلال کے ساتھ اٹھ کر جائو اور جو کلمات تم نے خواب میں دیکھے ہیں وہ…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
10615Sahih صحیح
عن عبد الله بن زيد رضي الله عنه قال: لَمَّا أَمَرَ رسول الله صلى الله عليه وسلم بِالنَّاقُوسِ يُعْمَلُ لِيُضْرَبَ بِهِ لِلنَّاسِ لِجَمْعِ الصلاة طاف بي وأنا نائم رجل يحمل ناقوساً في يده، فقلت: يا عبد الله أَتَبِيعُ الناقوس؟ قال: وما تصنع به؟ فقلت: ندعو به إلى الصلاة، قال: أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟ فقلت له: بلى، قال: فقال: تقول: الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر، أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن محمدا رسول الله، أشهد أن محمدا رسول الله، حيَّ على الصلاة، حيَّ على الصلاة، حيَّ على الفلاح، حيَّ على الفلاح، الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله، قال: ثُمَّ اسْتَأْخَرَ عَنِّي غَيْرَ بعيد، ثم قال: وتقول إِذَا أَقَمْتَ الصَّلَاةَ: الله أكبر الله أكبر، أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن محمدًا رسول الله، حيَّ على الصلاة، حيَّ على الفلاح، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قد قامتِ الصلاة، الله أكبر الله أكبر، لا إله إلا الله، فلما أصبحت، أتيتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فأخبرته، بما رأيتُ فقال: «إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٌّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ، فَلْيُؤَذِّنْ بِهِ، فإنه أَنْدَى صوتا منك» فقمتُ مع بلال، فَجَعَلْتُ أُلْقِيهِ عَلَيْهِ، وَيُؤَذِّنُ بِهِ، قَالَ: فَسَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ بنُ الخَطَّاب، وهو في بيته فخرج يَجُرُّ رِدَاءَهُ، ويقول: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالحَقِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لقد رأيتُ مثل ما رأى، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «فَلِلَّهِ الحَمْدُ».
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ناقوس بنانے کا حکم فرمایا تاکہ لوگوں کو نماز کی خاطر جمع کرنے کے لئے اسے بجایا جائے، تو میں نے خواب میں ایک شخص کو ہا تھ میں ناقوس اٹھائے ہوئے دیکھا، میں نے اس سے پوچھا: اللہ کےبندے کیا اسے فروخت کروگے؟ اس نے کہا: تم اسے کیا کرو گے؟ میں نے کہا: ہم اس کے ذریعے لوگوں کو نماز کے لئے بلا ئیں گے، اس شخص نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتا دوں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں ضرور بتائیے، تو اس نے کہا: تم اس طرح کہو: ”اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللّٰہُ“ (اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کو ئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز کے لئے آؤ، نماز کے لئے آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ) پھر وہ شخص مجھ سے تھوڑا پیچھے ہٹ گیا، زیادہ دور نہیں گیا پھراس نے کہا: جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اس طرح کہو: ”اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ“ (اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، یقینا نماز کھڑی ہو گئی، یقینا نماز کھڑی ہو گئی، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کو ئی معبود برحق نہیں) پھر جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو کچھ میں نے دیکھا تھا اسے آپ سے بیان کیا۔آپ ﷺ نے فرمایا: ان شاء اللہ یہ خواب سچا ہے، پھر فرمایا: تم بلال کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور جو کلمات تم نے خواب میں دیکھے ہیں وہ انہیں بتاتے جاؤ تاکہ اس کے مطابق وہ اذان دیں کیونکہ ان کی آواز تم سے زیادہ بلند ہے۔ چناں چہ میں بلال کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا، میں انہیں اذان کے کلمات بتاتا جاتا تھا اور وہ اسے پکارتے جاتے تھے۔ وہ کہتے ہیں: جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے گھر میں سنا تو وہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے اور کہہ رہے تھے: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے بھی اسی طرح دیکھا ہے جس طرح عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا ہے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdullāh ibn Zayd (may Allah be pleased with him) reported: When the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) ordered that a bell be rung to gather the people for prayer, I saw a dream where a man was going around carrying a bell. I said to him: "O slave of Allah, are you selling this bell?" He said: "What will you do with it?" I said: "We will call the people to prayer." He said: "Shall I direct you to what is better than it?" I replied: ‘Yes.’ He said: "Say: 'Allah is the Greatest (four times); I bear witness that there is no god but Allah (twice); I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah (twice); come to prayer (twice); come to success (twice); Allah is the Greatest (twice); there is no god but Allah.'" Then he stood close behind me and said: "Then, when the prayer is about to begin, say: 'Allah is the Greatest (twice); I bear witness that there is no god but Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah; come to prayer; come to success; the prayer is about to commence (twice) [In another narration: “And if it is the Fajr prayer, say: ‘prayer is better than sleep (twice).’”]; Allah is the Greatest (twice); there is no god but Allah.'" When I woke up, I went to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) and informed him of my dream. He said: ‘Indeed, it is a true dream, Allah Willing! Go and teach these words to Bilāl, and let him make the call to prayer with them, as his voice is more melodious than yours.’ So I took Bilāl and taught him those words, and he made the call to prayer therewith. ‘Umar ibn al-Khattāb heard it while at home, and so he came out dragging his garment and saying: "By the One Who sent you with the truth, O Messenger of Allah, I saw the same dream that he saw!" Thereupon, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "All praise is due to Allah."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudمسند احمدMusnad Ahmadسنن دارمیSunan ad-Darimi
Original wording: اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #10615

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

یہ حدیث شریف اذان کا قصہ بیان کرتی ہے، اور وہ یہ کہ نبی ﷺ نے ارادہ فرمایا کہ نصاریٰ کی طرح ایک ناقوس اپنا لیا جائے تاکہ اس کی آواز پر لوگ نماز کے لئے اکٹھا ہو جایا کریں، پھر آپ نے ایسا نہیں کیا اس لئے کہ وہ ان کے شعار و خصائص میں سے تھا، تو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نامی ایک صحابیٔ رسول نے خواب دیکھا کہ ایک شخص ناقوس بیچ رہا ہے، انہوں نے سوچا کہ اس سے خرید لیں تاکہ اس کے ذریعے لوگوں کو نماز کے لئے اکٹھا کریں، تو اس شخص نے ان سے کہا :کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتا دوں؟ اور اس نے انھیں اذان کے جملے سکھلائے۔ صبح ہوئی تو عبداللہ بن زید رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے خواب بیان کیا۔ آپ ﷺ نے انہیں بتلایا کہ یہ سچا خواب ہے اور انہیں حکم دیا کہ اذان کے وہ کلمات (جو خواب میں دیکھے ہیں) بلال کو پڑھا دیں تاکہ اس کے مطابق وہ اذان دیں کیونکہ ان کی آواز ان سے بہتر تھی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جب اسے سنا تو وہ بھی تشریف لائے اور نبی ﷺ کو خبر دی کہ انہوں نے بھی اسی طرح خواب دیکھا ہے۔

Explanation

This noble Hadīth relates the story of the Adhān, which goes as follows: The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) wished to use a bell – like the Christians – to gather the people for prayer with its sound. He refrained from doing this, however, because it is something that belongs to and distinguishes the Christians. Then, one of the Companions, ‘Abdullāh ibn Zayd (may Allah be pleased with him) saw in a dream that someone was selling a bell, and he wished to buy it and use it to gather the people for prayer. However, the man said to him: “Shall I direct you to what is better than it?” He then taught him the words of the Adhān. Thereafter, he went to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) in the morning and related the dream to him, and he stated that this was a true dream and asked ‘Abdullāh to recite those words to Bilāl, who had a more melodious voice, so that he could pronounce the Adhān therewith. When ‘Umar ibn al-Khattāb (may Allah be pleased with him) heard the Adhān, he went to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and informed him that he had also seen the same dream.

Topics موضوعات