صحیح مسلم
Sahih Muslim

بے شک نماز میں لوگوں کی گفتگو (دنیوی بات چیت) میں سے کوئی چیز درست نہیں ہے ، بلکہ نماز تو صرف تسبیح، تکبیر…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
10650Sahih صحیح
عن معاوية بن الحَكم السُّلَمي رضي الله عنه قال: بَيْنَا أنا أُصلِّي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ، إذ عَطَس رجُل من القوم، فقلت: يَرْحَمُكَ الله، فَرَمَانِي القوم بأبْصَارهم، فقلت: وَاثُكْلَ أُمِّيَاهْ، ما شَأنُكُم تنظرون إليَّ؟، فجعلوا يضربون بأيْدِيهم على أفْخَاذِهم، فلما رأيتهم يُصَمِّتُونَنِي لكنِّي سَكَتُّ، فلما صلَّى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فَبِأَبِي هو وأمِّي، ما رأيت معَلِّما قَبْلَه ولا بَعده أحْسَن تَعليما منه، فوالله، ما كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبني وَلَا شَتَمَنِي، قال: «إن هذه الصلاة لا يَصلح فيها شيء من كلام الناس، إنما هو التَّسبيح والتَّكبير وقراءة القرآن»، أو كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت: يا رسول الله، إنِّي حديث عَهد بِجَاهلية، وقد جاء الله بالإسلام، وإن مِنَّا رجَالا يَأتون الكُهَّان، قال: «فلا تَأْتِهِم» قال: ومِنَّا رجَال يَتَطَيَّرُونَ، قال: ذَاك شَيء يَجِدونه في صُدورهم، فلا يَصُدَّنَّهُمْ -قال ابن الصَّبَّاحِ: فلا يَصُدَّنَّكُم- قال قلت: ومِنَّا رجال يَخُطُّونَ، قال: «كان نَبِي من الأنبياء يَخُطُّ، فمن وافق خَطَه فَذَاك»، قال: وكانت لي جَارية تَرعى غَنَما لي قِبَل أُحُدٍ والْجَوَّانِيَّةِ، فَاطَّلَعْتُ ذات يوم فإذا الذِّيب قد ذهب بِشَاة من غَنَمِهَا، وأنا رجُلٌ من بَني آدم، آسَف كما يَأْسَفُونَ؛ لكني صَكَكْتُهَا صَكَّة، فَأَتَيْت رسول الله صلى الله عليه وسلم فَعظَّم ذلك عليَّ، قلت: يا رسول الله أفلا أُعْتِقُهَا؟ قال: «ائْتِنِي بها»، فَأَتَيْتُهُ بها، فقال لها: «أَيْن الله؟» قالت: في السَّماء، قال: «من أنا؟»، قالت: أنت رسول الله، قال: «أَعْتِقْهَا، فَإِنها مُؤْمِنَةٌ».
معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ اسی دوران جماعت میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے ”یَرحَمُکَ اللہ“ کہہ دیا۔ اس پر لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا۔ میں نے کہا: میری ماں مجھے گم پائے، تم مجھے کیوں گھور رہے ہو؟ یہ سن کر وہ لوگ اپنی رانوں پر اپنے ہاتھ مارنے لگے۔ پھر جب میں نے دیکھا کہ وہ لوگ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں تو میں خاموش ہوگیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہو گئے، میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان جائیں، میں نے آپ ﷺ سے پہلے اور نہ ہی آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ سے بہتر کوئی معلِّم دیکھا۔ اللہ کی قسم نہ آپ ﷺ نے مجھے جھڑکا اور نہ ہی مجھے مارا۔ آپ ﷺ نے بس اتنا فرمایا کہ نماز میں لوگوں کی بات چیت درست نہیں ہے۔ نماز تو تسبیح و تکبیر اور قرآن پڑھنے کا نام ہے۔یارسولﷺ نے اس جیسی بات کہی۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے جاہلیت کو ترک کیے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے دین اسلام بھیجا ہے (اور مجھے اس سے شرف یاب کیا ہے) ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں (اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟) آپ ﷺ نے فرمایا: تم ان کے پاس نہ جاؤ۔ میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو بدشگونی لیتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ ایسی بات ہے جو وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں (ایک طرح کا وہم ہے) یہ وہم انھیں ان کے کسی کام سے نہ روکے ۔ تم اس طرح نہ کرو۔ پھر میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: انبیائے کرام میں سے ایک نبی بھی لکیریں کھینچتے تھے۔ چنانچہ جس آدمی کا لکیر کھینچنا اس کے مطابق ہو وہ صحیح ہے۔ راوئ حدیث معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ کے علاقوں میں میری بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ایک دن میں وہاں گیا تو دیکھا کہ ایک بھیڑیا میری ایک بکری کو اٹھا کر لے گیا ہے۔ آخر میں بھی انسانوں میں سے ایک انسان ہوں۔ مجھے بھی غصہ آتا ہے جس طرح کہ دوسرے لوگوں کو غصہ آجاتا ہے۔ میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا۔ مجھ پر اسے تھپڑ مارنا بہت گراں گزرا تھا۔ میں نے عرض کیاکہ کیا میں اس لونڈی کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے میرے پاس لاؤ۔ میں اسے آپ ﷺ کے پاس لے آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا کہ اللہ کہاں ہے؟ اس لونڈی نے جواب دیا: آسمان میں۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس لونڈی نے کہا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دے کیونکہ یہ لونڈی مومنہ ہے“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Mu‘āwiyah ibn al-Hakam As-Sulami (may Allah be pleased with him) reported: While I was praying with the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) a man sneezed, so I said: "May Allah have mercy upon you." People looked at me disapprovingly, so I said: "May my mother lose me, why do you stare at me?" They began to strike their thighs with their hands, and when I saw them urging me to be silent I said nothing. When the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) finished the prayer – and may my father and mother be sacrificed for him! I have never seen a mentor before him nor after him who gave better instruction than him. By Allah, he neither scolded me, nor beat me, nor insulted me, rather he said: ‘In prayer, nothing of people's ordinary speech is allowed. Only Tasbīh, Takbīr, and recitation of the Qur'an are allowed." Or he said something similar to that. Then I said: "O Messenger of Allah, I have recently abandoned the beliefs of the pre-Islamic era, and Allah has brought Islam to us, and there are men among us who go to diviners." He said: "Do not go to them." I said: "There are men who believe in omens." He said: "That is something which they find in their hearts, but let it not prevent them (from doing whatever they intend to do) (Ibn As-Sabbāh said: let it not prevent you)." I said: "Among us are men who draw lines." He said: "There was a prophet who used to draw lines, so if their lines are as his, then that will be good." He (Mu‘āwiyah) added: "I had a bondmaid who tended sheep for me by the side of Uhud and Al-Jawwāniyyah. One day, I happened to pass that way and found that a wolf had snatched a ewe from her flock. As a normal human being, I got angry and gave her a slap. Then I came to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) who considered my act of slapping her grievous, so I said: 'O Messenger of Allah, should I emancipate her?' He said: 'Bring her to me.' So I brought her to him, and he said to her: 'Where is Allah?' She said: 'He is in the heaven.' He said: 'Who am I?' She said: 'You are the Messenger of Allah.' He said: 'Set her free, for she is a believing woman.'"
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #10650

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ وہ قصہ بیان کر رہے ہیں جواس وقت پیش آیا جب وہ نبی ﷺ کے ساتھ باجماعت نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھ رہے تھے۔ انہیں سنائی دیا کہ ایک شخص نے چھینک مار کر الحمدللہ کہا ہے۔ چنانچہ انہوں نے یرحمک اللہ کہہ کر اس کے اس قول کا جلدی سے جواب دیا جیسا کہ قاعدہ ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ الحمد للہ کہےاور اس کا بھائی یا اس کا ساتھی یرحمک اللہ کہے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ علم نہیں تھا کہ چھینکنے والے کا جواب دینے کا استحباب نماز کے علاوہ دیگر اوقات میں ہے۔
” لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا“ یعنی بغیر بولے انہوں نے آنکھوں سے ان کو اشارہ کیا اور خشمگیں نظروں سے انہیں گھورا تاہم معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی اس ناگواری کا سبب نہ جان سکے چنانچہ وہ ان سے مخاطب ہو کر کہنے لگے: ” میری ماں مجھے گم پائے“ يعنی ہائے میری ماں مجھے گم پائے اور میں ہلا ک ہوا۔ تمہیں کیا ہوا ہے اور کیا بات ہے؟ تم غصہ بھری نگاہوں سے میری طرف کیوں دیکھ رہے ہو؟ ”وہ لوگ اپنی رانوں پر اپنے ہاتھ مارنے لگے“ یعنی ان لوگوں کی ان پر ناگواری مزید بڑھ گئی اور وہ ہاتھوں کو رانوں پر مارنے لگے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ خاموش ہو جائیں اور بولنا بند کر دیں چنانچہ وہ چپ ہو گئے۔
پھر جب میں نے دیکھا کہ وہ لوگ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں تو میں خاموش ہوگیا یعنی جب میں جان گیا کہ وہ مجھے گفتگو سے خاموش ہونے کو کہہ رہے ہیں تو مجھے ان کی طرف سے بہت زیادہ ناگواری کے اظہار پرحیرت ہوئی کیونکہ اپنےعمل کی برائی سے میں ناواقف تھا۔ میں نے ارادہ تو کیا کہ ان سے جھگڑوں تاہم حکم کی تعمیل میں مَیں چپ ہو گیا کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ باعلم تھے۔ چنانچہ میں نے اپنے غصے کو چھوڑ دیا اور وجہ دریافت نہ کی۔
جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہو گئے یعنی جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی نماز ختم کی اور اس سے فارغ ہوئے۔
”فَبِأَبِي هو وأمِّي“ یعنی میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان۔ یہ قسم نہیں۔ بلکہ یہ صرف ماں باپ کو فدا کرنے کا اظہار ہے۔
میں نے آپ ﷺ سے پہلے اور نہ ہی آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ سے بہتر کوئی معلِّم دیکھا کیونکہ نبی ﷺ نہ ان سے درشتگی سے پیش آئے اور نہ ہی انہیں جھڑکا۔ بلکہ آپ ﷺ نے ایسے طریقے سے شرعی حکم کی وضاحت کی جسے انسان فورا قبول کرلیتا ہے اور اس کی تعمیل کرتا ہے۔
آپ ﷺ نے نہ تو مجھے ڈانٹا اور نہ کوئی سخت بات کہی۔ نہ ہی مجھے مارا میں نے حکم شرعی کی جو مخالفت کی تھی اس پر آپ ﷺ نے مار کر میری تادیب نہ کی۔ اور نہ ہی آپ ﷺ نے مجھ سے کوئی درشت بات کہی بلکہ آپ ﷺ نے نرمی کے ساتھ میرے سامنے حکم شرعی کی وضاحت فرمائی اور فرمایا: ”اس نماز میں لوگوں کی آپس کی بات چیت درست نہیں، بلکہ نماز تو تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت کا نام ہے“ یعنی نماز میں لوگوں کا آپس میں بات چیت کرنا جائز نہیں۔ ابتدائےاسلام میں اسے روا رکھا گیا تھا لیکن بعد میں اسے منسوخ کر دیا گیا۔ نماز میں صرف تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہوتی ہے۔
میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے جاہلیت کو ترک کیے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ یعنی مجھے جاہلیت کو چھوڑے کچھ ہی عرصہ گزرا ہے۔ جاہلیت کا اطلاق اس حالت پر ہوتا ہے جو شریعت کے آنے سے پہلے تھی۔ اسے جاہلیت کا نام ان لوگوں کی بہت زیادہ جہالت اور برائی کی وجہ سے دیا گیا۔ میں کفر سے اسلام کی طرف منتقل ہو گیا ہوں لیکن ابھی تک مجھے دین کے احکام کا علم نہیں ہے۔ ان کے کچھ ساتھی کاہنوں کے پاس جاتے اور ان سے مستقبل میں پیش آنے والے غیبی امور کے بارے میں پوچھتے۔ آپﷺ نے فرمایا: تم ان کے پاس نہ جاؤ، کاہنوں کے پاس آنے سے اس لیے منع کیا گیا کیونکہ وہ غیبی امور کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ بعض اوقات ان کی بات صحیح نکل آتی ہے جس کی وجہ سے انسان کے فتنے میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہوتا ہے کیونکہ یہ لوگوں کے لیے بہت سے شرعی امور کو مشتبہ بنا دیتے ہیں۔ کئی صحیح احادیث میں کاہنوں کے پاس آنے اور ان کی باتوں کی تصدیق کرنے کی ممانعت اور ان کی دی گئی شیرینی کے حرام ہونے کا حکم آیا ہے۔
ہم میں سے کچھ لوگ برا شگون لیتے ہیں، تَطَیّر کا معنی ہے کسی دیکھی یا سنی گئی بات یا پھر کسی وقت یا جگہ سے برا شگون لینا۔ عرب لوگ بدشگونی لینے میں معروف تھے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی اچھے کام کا ارادہ کرتا اور پھر پرندے کو دائیں یا بائیں جانب جاتے ہوئے دیکھ لیتا جیسا کہ ان کے ہاں معروف تھا تو وہ اپنے ارادے سے بازآجاتا۔اسی طرح کوئی شخص کسی آواز کو سن کر یا کسی آدمی کو دیکھ کر اس سے برا شگون لیتا۔ بعض لوگ نکاح کے سلسلے میں شوال کے مہینے سے بد شگونی لیتے۔ بعض لوگ بدھ کے دن یا صفر کے مہینے سے بد شگونی لیتے۔ ان سب باتوں کو شریعت نے باطل قرار دیا ہے کیونکہ اس سے انسان کی عقل، سوچ اور طرزِعمل کو ضرر لاحق ہوتا ہے۔ انسان کا ان امور کی پرواہ نہ کرنا ہی دراصل اللہ پر توکل ہے۔
”یہ ایسی بات ہے جو وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں (ایک طرح کا وہم ہے) یہ وہم انھیں ان کے کسی کام سے نہ روکے“ یعنی بدشگونی ایسی شے ہے جو ان کے دلوں میں پیدا ہو ہی جاتی ہے اور اس سلسلے میں ان پر کوئی عتاب بھی نہیں۔ اسے وہ خود سے نہیں لاتے چنانچہ اس کی ذمہ داری بھی ان پرعائد نہیں ہوتی۔ تاہم انہیں چاہیے کہ وہ اس کی وجہ سے اپنے امور میں تصرف کرنے سے نہ رکیں۔ اس بات پر انہیں قدرت حاصل ہے چنانچہ اس کی ذمہ داری ان پرعائد ہوتی ہے۔ اس لیے نبی ﷺ نے بدشگونی پرعمل کرنے اور اس بات سے منع فرمایا کہ وہ اس کی وجہ سے اپنے کاموں سے رک جائیں۔ بہت سی صحیح احادیث میں بدشگونی کی ممانعت آئی ہے۔ بدشگونی کو یہاں بدشگونی پر عمل کرنے پر محمول کیا جائے گا نہ کہ اس سوچ پر جو انسان کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے تاہم لوگوں کے ہاں اس کا جو تقاضا ہوتا ہے اس پر وہ عمل نہیں کرتا۔
”ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں“ عربوں کے ہاں ”خط“ یہ تھا کہ کاہن آکر اپنے سامنے موجود لڑکے کو حکم دیتا کہ وہ ریت میں بہت سی لکیریں کھینچے۔ پھر اسے کہتا کہ وہ دو دو کر کے ان کو مٹاتا جائے۔پھر وہ ان لکیروں میں جوآخری لکیریں بچ جاتی ان کو دیکھتا۔ اگر باقی ماندہ لکیریں جفت (جوڑ) ہوتیں تو یہ فلاح و کامیابی کی دلیل ہوتی اور اگر اکیلی (طاق) ہوتی تو یہ نامرادی اور مایوسی کی دلیل ہوتی۔
آپ ﷺ نے فرمایا: انبیائے کرام میں سے ایک نبی بھی لکیریں کھینچتے تھے یعنی وہ نبی ریت میں کھینچی گئی لکیروں کی طرح لکیرں کھینچتے اور ان لکیروں کے توسط سے فراست کے بل بوتے پر امور کو جاننے کی کوشش کرتے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ نبی ادریس علیہ السلام یا دانیال علیہ السلام تھے۔ ”فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ“ یعنی جس کا خط اس نبی علیہ الصلاۃ والسلام کے خط کے موافق ہو گیا۔ ”فَذَاك“ یعنی جس کا خط اس نبی کے خط کے موافق ہو گیا اس کے لیے یہ جائز ہے۔ لیکن چونکہ ہمارے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے اس موافقت کا یقینی طور پرعلم ہو سکے اس لیے ایسا کرنا مباح نہیں ہے۔ مقصد یہ کہ ایسا کرنا حرام ہے کیونکہ یہ جائز صرف اسی وقت ہو گا جب موافقت کا یقین ہو جائے اوراس کا یقین ہمیں ہو نہیں سکتا۔
اس بات کا بھی احتمال ہے کہ ایسا کرنا ہماری شریعت میں منسوخ ہو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ علم رمل اس نبی کی نبوت کی علامت ہو اور چونکہ ان کی نبوت ختم ہو چکی اس لیے ہمیں اسے اپنانے سے منع کر دیا گیا۔ بہرحال یہ حدیث علم رمل پر عمل کرنے کی حرمت پر دلالت کرتی ہے نہ کہ اس کے جائز ہونے پر۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں علم رمل کے بارے میں لوگوں کے طرزِعمل اور اس کے فاسد ہونے کی بھی نشاندہی ہے کیونکہ موافقت کا تقاضا ہے کہ اس کا علم ہو اور علم دو طریقوں میں سے کسی سے حاصل ہو سکتا ہے:
اول: اس علم کی کیفیت کے بیان میں کوئی صریح اورصحیح نص موجود ہو۔
دوم: اس نبی سے لے کر ہمارے نبی ﷺ کے دور تک یہ تواتر کے ساتھ منقول ہو۔ اور یہ دونوں ہی باتیں موجود نہیں۔
یہاں یہ جان لینا مناسب ہے کہ انبیاء علمِ غیب کی طرف دعوت نہیں دیتے اور نہ ہی لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ ان کو علمِ غیب حاصل ہے۔ لوگوں کو انہوں نے امورِغیب میں سے جو کچھ بتایا وہ انہیں اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی علم ہوا تھا۔ چنانچہ وہ اسے اپنی طرف منسوب نہیں کرتے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿عَالِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا، إِلاَّ مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا﴾ ”وہ عالم الغیب ہے، اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا سوائے اُس رسول کے جسے اُس نے(غیب کا کوئی علم دینے کے لیے) پسند کر لیا ہو، تو اُس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے“۔ (الجن 26، 27) کیونکہ علمِ غیب اللہ نے اپنے لیے خاص کر رکھا ہے۔ چنانچہ جو شخص بھی اپنے بارے میں اس کا دعوی کرے گا وہ ربوبیت کی بعض خصوصیات کا حامل ہونے کا مدعی ہو گا اور یہی کچھ اس کاروبار کے کرنے والے کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ان لوگوں کے اس جھوٹے دعوے کا پول کھل جاتا ہے کہ یہ نبی ان کے استاد ہیں۔
معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ کے علاقوں میں میری بکریاں چرایا کرتی تھی یعنی ان کی ایک باندی تھی جو احد کے قریب واقع ایک جگہ پر ان کی بھیڑ بکریاں چراتی تھی۔ ایک دن میں وہاں گیا تو دیکھا کہ ایک بھیڑیا میری ایک بکری کو اٹھا کر لے گیا ہے یعنی انہیں پتا چلا کہ بھیڑیے نے ایک بھیڑ کو چیر پھاڑ ڈالا ہے۔ اگرچہ بھیڑ بکریاں ان کی تھیں تاہم انہوں نے کہا کہ ”اس باندی کی بھیڑ بکریاں“یعنی جن کی وہ دیکھ بھال کرتی تھی۔ آخر میں بھی انسانوں میں سے ایک انسان ہوں۔ مجھے بھی غصہ آتا ہے جس طرح کہ دوسرے لوگوں کو غصہ آجاتا ہے، ”اسف“ کا معنی ہے: غصہ، یعنی بھیڑیے کے بھیڑ کو کھا لینے کی وجہ سے میں اس پر غصے ہوا۔ چنانچہ میں نے اسے سختی کے ساتھ مارنے کا ارادہ کیا جیسا کہ غصے میں ہوتا ہے۔ میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا، لیکن میں نے ایسا نہ کیا بلکہ اسے ایک تھپڑ مارنے پر ہی اکتفاء کیا۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا۔ مجھ پر اسے تھپڑ مارنا بہت گراں گزرا تھا، اس باندی کو تھپڑ مارنے کے بعد وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپﷺ کو سارا ماجرا سنایا۔ آپ ﷺ نے ان کا باندی کو تھپڑ مارنا بہت بڑا عمل جانا۔ جب معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ نبی ﷺ پر ان کے اس عمل کا بہت اثر ہوا اور آپ ﷺ نے اسے دل پر لیا ہے تو وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ یعنی اسے مارنے کے بدلے میں اسے میں غلامی سے آزاد کر دیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے کرآؤ۔چنانچہ میں اسے لے کر آپ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ یعنی وہ معبود کہاں ہے جو عبادت کا حق دار اور صفات کمال سے متصف ہے؟ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے پوچھا: تیرا رب کہاں ہے؟ نبی ﷺ نے اس سوال کے ذریعے اس بات کی یقین دہانی کرنا چاہی کہ وہ موحّد ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس سے ایسی بات پوچھی جس کا مقصود سمجھ میں آتا ہے کیونکہ اللہ کے آسمان میں ہونے پر اعتقاد رکھنا موحدین کی علامت ہے۔ اس نے کہا: آسمان میں۔ یہاں سے ”السماء“ سے مراد ”اوپر“ ہے اور یہ کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہرشے سے بالا تر اپنے عرش کے اوپر ہے جو کہ مخلوقات کے لیے چھت ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ میں کون ہوں؟ اس نے جواب دیا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا: اسے آزاد کر دو۔ یہ مومنہ ہے۔ جب اس نے اللہ کےاوپر ہونے اور آپ ﷺ کی رسالت کی گواہی دے دی تو آپ ﷺ نے اسے آزاد کرنے کا حکم دیا کیونکہ یہ اس کے ایمان اور عقیدہ کی درستگی کی دلیل تھی۔

Explanation

Mu‘āwiyah ibn al-Hakam As-Sulami (may Allah be pleased with him) relates what happened when he was praying with the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) in one of the congregational prayers. He heard a man sneeze and say: "Praise is due to Allah," so he responded immediately by saying: "May Allah have mercy upon you," based on the statement of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him): "When anyone of you sneezes, he should say 'Praise be to Allah,' and his brother or companion should say 'May Allah have mercy upon you.'" Mu‘āwiyah (may Allah be pleased with him) was unaware that responding to the one who sneezes by saying "May Allah have mercy upon you” is recommended outside the prayer. "People looked at me disapprovingly," i.e. they gave him a critical look without speaking. He did not know the reason for their disapproval, so he said: "May my mother lose me," i.e. I am doomed. "Why do you stare at me?" i.e. what makes you look at me with such anger? "They began to strike their thighs with their hands," i.e. expressing more disapproval. He understood that they wanted him to be silent and stop talking, so he said nothing. He was wondering about the ugliness of what he had done, and their exaggerated disapproval of his action. He wanted to argue with them, but he said nothing out of compliance, because they were more knowledgeable than him. So, he did not act on his anger or ask them about the reason for their disapproval. When the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) finished the prayer, he was not harsh with him, nor did he reproach him. Rather, he explained to him the Shariah ruling in a way that made it more likely to be accepted and obeyed. "By Allah, he neither scolded me, nor beat me, nor insulted me", rather he gently explained the Shariah ruling, saying: "In prayer, nothing of people's ordinary speech is allowed. Only Tasbīh, Takbīr, and recitation of the Qur'an are allowed", i.e. it is unlawful for people to converse with one another in prayer, it was permissible in the early days of Islam but was later on abrogated. What is permissible during the prayer is: glorifying Allah, declaring His greatness, and recitation of the Qur'an. He told the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) that he had recently abandoned the pre-Islamic beliefs and reverted to Islam, hence, he was not aware of all the rulings of religion. He then mentioned that some of his companions go to diviners, and ask them about matters of the unseen that will occur in the future. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) forbade him from going to diviners because they speak about matters of the unseen, and some of their predictions may coincide with reality, and this could be misleading. There are many corroborating authentic Hadīths that demonstrate the prohibition of going to diviners, and believing what they say, as well as paying their fees. Mu‘āwiyah then mentioned the belief in omens, i.e. feeling pessimistic based on something seen or heard, or based on a certain time or place. The Arabs were known for their belief in evil omens, to the point that if one of them intended to do something good, and then he saw birds fly to the right or left – depending on what was known among them – he would delay what he wanted to do. Also, among them were those who would hear a sound or see a person and take it as an evil omen, or those who would be pessimistic about getting married in the month of Shawwāl, or those who would be pessimistic about Wednesday, or the month of Safar. All of this was invalidated by the divine legislation, due to its negative effect on one's mind, thinking, and attitude. Paying no attention to such things represents reliance on Allah. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) commented on that saying that pessimism is an involuntary feeling, and there is no blame on one in this regard. However, one should not let such pessimism prevent him from managing his affairs, which is something he can control, and one is thus held accountable for. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) forbade them from acting on omens, and letting such belief in evil omens prevent them from managing their affairs. There are authentic Hadīths that collectively demonstrate the prohibition of believing in omens, which here refers to acting upon them, not to what one feels about them without his actions being affected. "I said: 'Among us are men who draw lines'": According to the Arabs, drawing lines meant that a person would bring a diviner and in front of him would be a boy whom he would order to draw several lines on the sand. Then he would order him to erase them two at a time, then he would look at what finally remained of those lines. If an even number remained, then this would be a proof of happiness and prosperity. If an odd number remained, then this would be a proof of disappointment and hopelessness. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said that there was a Prophet who used to draw lines, like the lines drawn in the sand, and would know about matters through perspicacity by the position of those lines. This prophet was either Idrīs (Enoch) or Danyāl (Daniel) (peace be upon them). So if their lines were as the lines of that Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) that would be permissible. However, there is no way for us to know for certain that it is done in the same manner of that prophet, so it is not permissible. This statement denotes the prohibition of such a practice, because it is not permissible except with certainty that it is the same as that done by that prophet, and we are not certain. One possibility is that this practice was abrogated in our divine legislation. Another possibility is that the permissibility of drawing lines was a sign on the prophet-hood of that prophet, and it has ceased; so we have been prohibited from practicing it. In sum, the Hadīth indicates the unlawfulness of practicing geomancy, not its permissibility. Furthermore, it indicates the invalidity of the manner in which people practice it, because practicing it in the same way as that prophet requires knowledge of it, and knowledge comes through one of the following ways: 1. A clear, authentic text that clarifies the manner of this science. 2. An uninterrupted transmission concerning this matter from the time of that prophet to the time of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him). Both ways do not exist. It is worth mentioning in this context that prophets do not claim knowledge of the unseen, and they never inform people that they know the unseen. Whatever they informed people of unseen matters was only learnt through revelation from Allah, and they never attributed it to themselves. Allah, the Almighty, says (what means): {The All-Knower of the unseen, and He reveals to none His unseen. Except to a messenger whom He has chosen, and then He makes a band of watching guards to march before him and behind him} [Sūrat al-Jinn: 26-27]. That is because the unseen is part of that knowledge which is exclusive to Allah, and no one claims it for himself except a person who claims to share with Allah some of the characteristics of Lordship. That is exactly what the masters of this craft do. Hence, the fraud of these people appears in their claim that this prophet is their teacher. Mu‘āwiyah then mentioned that he had a bondmaid who tended his sheep in a place close to Mount Uhud. One day he happened to pass that way and found out that a wolf had killed one of the sheep that belonged to him. He became angry and wanted to beat her severely for that, but he only gave her a slap. Then he went to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) who considered what he had done grievous. Mu‘āwiyah ibn al-Hakam As-Sulami (may Allah be pleased with him) asked if he should emancipate her, and the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) ordered him to bring her to him. When he brought her, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said to her: "Where is Allah?" i.e. where is the deity worthy of worship and characterized by traits of perfection? By this question, he wanted to make sure that she believed in the oneness of Allah, so he spoke to her by what would make his purpose understood, as the sign of those who believe in monotheism is their belief that Allah is in the heaven. She replied that Allah is in Heaven, meaning that He is above everything and above His Throne which is the canopy of the creation. He asked her about himself, and she replied that he was the Messenger of Allah. Thereupon, he ordered Mu‘āwiyah to set her free, for being a believing woman. Her replies were a clear proof of her faith and the soundness of her beliefs.

Topics موضوعات