Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim صحیح بخاری · صحیح مسلم

مردوں کے لیے تسبیح (سبحان اللہ کہہ کر امام کو نماز میں متنبہ کرنا) اور عورتوں کے لیےتالی بجانا ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «التَّسْبِيحُ للرجال، والتَّصْفِيق للنساء».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مردوں کے لیے تسبیح (سبحان اللہ کہہ کر امام کو نماز میں متنبہ کرنا) اور عورتوں کے لیےتالی بجانا ہے“۔
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Tasbīh is for the men, and clapping is for the women."

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #10652

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

حدیث کا مفہوم: ”مردوں کے لیے سبحان اللہ کہنا اور عورتوں کے لیےتالی بجانا ہے“، مسلم شریف کی ایک روایت میں ”نماز میں“ کے لفظ کا اضافہ ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جسے نماز کے اندر کوئی ایسی چیز پیش آ جائے جس کا تقاضا ہو کہ دوسرے کو اس کی خبر دی جائے جیسے نماز میں کسی خلل کے واقع ہونے پر امام کو متنبہ کرنا یا کسی اندھے کو دیکھنا جو کنویں میں گرنے والا ہو یا کسی باہر سے آنے والے کا اندر داخل ہونے کی اجازت چاہنا یا پھر نمازی کسی اور کو کسی بات کی خبر دینا چاہتا ہے تو ان صورتوں میں وہ سبحان اللہ کہے گا تاکہ جس بات پر وہ تنبیہہ کرنا چاہتا ہے، اسے وہ سمجھا سکے۔ یہ طریقہ مردوں کے لیے ہے۔ رہی بات عورت کی تو اگر اسے اپنی نماز میں کوئی ایسی صورت پیش آ جائے تو وہ تالی بجائے گی۔ تالی بجانے کی کیفیت یہ ہے کہ وہ اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر کسی بھی طریقے سے مارے گی۔ ایسا اس لئے ہے تاکہ نماز کو ان تمام باتوں سے دور رکھا جائے جو جنسِ نماز میں سے نہیں ہیں۔ کیونکہ نماز اللہ سبحانہ و تعالی سے مناجات کا مقام ہے۔ لہٰذا کلام کرنے کی ضرورت پیش آنے کے صورت میں وہی کہنا مشروع کیا گیاہے جو نماز کے اقوال کی جنس سے ہے اور وہ سبحان اللہ کہنا ہے۔

Explanation

The Hadīth shows how a Muslim can draw the attention of others while s/he is in prayer, as mentioned in another version narrated by Muslim. If a Muslim is performing prayer, and something occurs and requires him to bring it to the attention of another person, such as notifying the Imām of a fault in the prayer, or seeing a blind person falling in a well, or someone seeking permission to enter, or the praying person wants to notify someone else of a particular matter – in all of these cases and similar situations, the man should make Tasbīh to make others understand what he wants to draw attention to. The woman, however, should clap if something occurred during her prayer and she wants to draw the attention to it by hitting one hand with the other in any way. This is to make sure that the prayer does not involve any irrelevant words, because prayer is the place where one is communicating with Allah, Glorified and Exalted. Therefore, Allah permitted using words pertaining to the type of the sayings said in prayer, i.e. Tasbīh, when there is a need for one to talk during in it.

Topics موضوعات