جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کے ليے کھڑا ہو اور اس کے سامنے اونٹ کے کجاوے کے پچھلے حصے کی لکڑی کے برابر کوئی…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
وفي رواية من حديث ابن عباس رضي الله عنهما : «يقطع الصلاة المرأة الحائض والكلب».
اور ايک دوسری روايت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا): ”کتا اور بالغہ عورت نماز کو توڑ ديتے ہيں“۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih Muslimسنن ابو داؤدSunan Abi DawudOriginal wording: اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10870Sahih Muslim & Sunan Abi Dawud (HadeethEnc 10870)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کے ليے کھڑا ہو تو سامنے بطورِ سترہ اونٹ کے کجاوہ (پالان) کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز رکھ لے اور يہ دوتہائی ہاتھ کے برابر ہو تی ہے۔ اگر وہ ايسا نہيں کرتا ہے تو اس کی نماز کو تين چيزوں ميں سے کوئی ايک توڑ دیتی ہے: عورت، ابوداؤد کی روایت میں عورت کے ساتھ حائضہ یعنی بالغہ کی قید لگائی گئی ہے، گدھا، اور سیاہ کتا۔ اگر کوئی نماز ميں اپنے سامنے سترہ رکھ لے تو سترہ کے پیچھے سے کسی کے گزرنے سے اس کی نماز باطل نہيں ہوگی گرچہ مذکورہ تینوں میں سے ہی کسی کی گزر کیوں نہ ہو۔
حدیث کے ایک راوی عبد اللہ بن صامت کہتے ہيں کہ میں نے کہا: اے ابوذر! سرخ و زرد کتے کے بالمقابل سیاہ کتے کی تخصیص کی کیا وجہ ہے؟ یعنی دیگر کتوں کے بجائے صرف اسی کتے کو نماز کے توڑنے کے ساتھ کیوں خاص کیا گیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: اے بھیجتے! میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایسا ہی سوال کیا جیسا تو نے مجھ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”سیاہ کتّا شیطان ہے“۔ نماز کو کاٹنے کا مطلب نماز کو باطل کرنا ہے، اور يہی فتویٰ مستقل کميٹی برائے افتاء (سعودی عرب) کے مفتیان نے بھی ديا ہے۔
جب کہ بعض علماء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ نماز خراب وباطل نہيں ہوتی بلکہ اس کا خشوع و خضوع ختم ہوجاتا ہے۔
Explanation
When someone stands up to pray, he should place a screen the height of the back of a saddle (approximately two-thirds of a cubit) in front of him, otherwise his prayer would be invalidated by the passing of any one of these three in front of him: a woman – restricted to a menstruating woman in the narration of Abu Dawūd – a donkey, or a black dog. However, if he places a screen in front of him, his prayer will be valid regardless of anything passing by on the other side of the screen, including those three. The narrator, ‘Abdullāh ibn As-Sāmit, asked: “O Abu Dharr: "What is the difference between a black dog and a red or a yellow dog?” Meaning: why did the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) single out a black dog? He said: “O nephew, I asked the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) the same question, and he answered: "A black dog is a devil.” According to the Saudi Arabian Permanent Committee for Scholarly Research and Iftā', this Hadīth means that the passing of a woman, a donkey, or a black dog in front of someone praying, renders the prayer void. However, some scholars thought that the intended meaning was that one’s focus in prayer would be interrupted or the prayer’s perfection would be compromised, rather than it would render the prayer void or invalid.