جب تم میں سے کوئی کسی چیز کو سترہ بنا کر اس کی طرف نماز پڑھ رہا ہو، اور کوئی اس کے آگے سے گزرنے کی کوشش کرے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
وفي رواية: «إذا كان أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فلا يَدَعْ أحدا يمُرُّ بين يديه، فإنْ أبى فَلْيُقَاتِلْهُ؛ فإن معه القَرِينَ».
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ :”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو آگے سے گزرنے نہ دے اور اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑائی کرے کیوں کہ اس کےساتھ (شیطان) ہے“۔
Another narration reads: "If anyone of you is praying, he should not let anyone pass in front of him; if he refuses then use force, for he has a (devil) companion with him."
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10871Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 10871)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
جب نمازی اپنی نماز میں داخل ہو اور وہ اپنے سامنے لوگوں سے سترہ رکھے ہوئے ہو تاکہ لوگ اس کے آگے سے گزر کر اس کی نماز میں نقص نہ پیدا کریں اور جب وہ اپنے رب سے مناجات کرنے لگے۔پھر اس کے سامنے سے کوئی شخص گزرنے کی کوشش کرے تو اس کو اچھے طریقے سے روکے، اگر وہ آرام و سکون سے نہیں رکتا تو اس کی حرمت ختم ہوئی وہ سرکشی کرنے والا بن چکا او ر اب جائز ہے کہ اس کی سرکشی کو ہاتھ سے لڑائی کرکے روکا جائے، کیوں کہ اس کا یہ عمل ان شیطانی افعال میں سے ہے جن کے ذریعے وہ لوگوں کی عبادتوں کو خراب کرنا چاہتے ہیں، اور ان کی نمازوں میں تلبیس وشکوک پیدا کرتے ہیں۔
Explanation
Before a Muslim starts praying, he can place something in front of him to conceal him from people so that the reward of his prayer is not reduced by their passing in front of him. When he starts communication with his Lord, he should lightly repel anyone who wishes to pass in front of him. If that person is not repelled with ease, this means he has violated the limits and become an aggressor. In this case, it is permissible to push him away and stop his aggression by force. Passing in front of the praying person belongs to the deeds of the devils who wish to spoil people's acts of worship and confuse them during their prayer.