نبی ﷺ نے شام کی دو نمازوں میں سے ایک نماز – محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میرا غالب گمان ہے کہ وہ عصر کی نماز…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #11229Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 11229)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اس حديث میں يہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر نمازی بھول کر اپنی نماز ميں کوئی کمی کر دے تو وہ کيا کرے؛ اسے چاہيے کہ وہ اپنی بقیہ نماز پوری کرے، پھر سلام پھیر دے، اس کے بعد سہو کے دو سجدے کرے، جو نماز ميں واقع ہونے والی کمی کو پورا کر دیں گے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے ساتھيوں کو ظہر يا عصر کي نماز پڑهائی۔ جب آپ ﷺ نے پہلی دو رکعتیں پڑھ لیں تو سلام پھیر دیا۔ لیکن چونکہ آپ صلی اللہ عليہ وسلم انسان کامل تھے، آپ کے دل کو صرف مکمل عمل ہی سے اطمئنان حاصل ہوتا تھا، آپ کو نماز ميں کچھ کمی وخلل کا احساس ہوا، ليکن آپ کو اس کا سبب معلوم نہ تھا۔ چنانچہ آپ بے قرار دل کے ساتھ مسجد میں نصب ایک لکڑی کے ساتھ جا کھڑے ہوئے اور اس سے ٹيک لگا لیا، اور اپنے ایک ہاتھ کی انگليوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں ميں داخل کیا۔ کیوں کہ آپ صلی اللہ عليہ وسلم کو ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی چيز رہ گئی ہے جس کو آپ نے مکمل نہيں کيا ہے۔ جلدباز نمازی مسجد کے دروازوں سے نکل گئے اور وہ آپس ميں سرگوشی کر رہے تھے کہ کوئی معاملہ پیش آیا ہے اور وہ یہ کہ نماز کم کردی گئی ہے، گويا کہ وہ يہ سمجھ رہے تھے کہ نبی ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ عليہ وسلم پر نسیان نہيں طاری ہو سکتی۔ اور ان کے دلوں میں آپ صلی اللہ عليہ وسم کی ہیبت کیوجہ سے کسی کی ہمت نہيں ہوئی کہ اس معاملہ میں آپ سے زبان کھولے، حالانکہ ان میں ابو بکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی تھے۔ لیکن آپ صلی اللہ عليہ وسلم کے ساتھيوں ميں ایک شخص، جسے لوگ ذوالیدین کہتے تھے، اس چپی کو توڑتے ہوئے عرض کيا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کردی گئی؟ تو آپ ﷺ نے – اپنے گمان کے مطابق – فرمایا: نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کم ہوئی ہے۔ اس وقت جب ذواليدين کو معلوم ہوگیا کہ نماز کم نہيں کی گئی ہے اور ان کو یقین تھا کہ آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے صرف دو ہی رکعتیں پڑھی ہیں، تو وہ سمجھ گئے کہ آپ ﷺ بھول گئے ہیں، لہٰذا انہوں نے کہا :بلکہ آپ بھول گئے ہيں۔ آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے ذو الیدین کی خبر کی صحت کی تاکید کے لیے اپنے ارد گرد موجود صحابہ سے پوچھا: کيا ذو اليدين جو کہہ رہے ہيں وہ سچ ہے کہ ميں نے صرف دو ہی رکعت نماز پڑھی ہے؟ صحابہ کرام نے جواب ديا: ہاں۔ اس وقت اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم آگے بڑھے اور جو نماز چھوٹ گئی تھی اسے پڑھی، اور تشہد کے بعد سلام پھیرا، پھر بيٹھے ہوئے تکبیر کہی اور اصل نماز کے سجدے کے مثل یا اس سے بھی لمبا سجدہ کیا، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھایا اور تکبیر کہی، پھر تکبیر کہی اور دوسرے سجدے کے مثل یا اس سے بھی لمبا سجدہ کیا پھر اپنا سر اٹھایا اور تکبیر کہی، پھر سلام پھیرا اور تشہد ميں نہيں بيٹھے۔
Explanation
This noble Hadīth shows what to do when part of the prayer has been missed. One should complete what remains of the prayer, then perform Taslīm, and then perform two prostrations for forgetfulness.
Abu Hurayrah reported that the Prophet led the Companions in the Zhuhr or ‘Asr prayer and finished after two Rak‘ahs. As the Prophet was perfect and only satisfied with perfect actions, he felt that there was a deficiency, without knowing the reason behind it. So he leaned up against a piece of wood in the mosque and intertwined his fingers. He was worried, because he felt that there was something incomplete. Some people left the mosque quickly through the doors, privately speaking among themselves that something had taken place, meaning that the prayer had been reduced. They found it hard to believe that it was possible for the Prophet to forget, because they were in awe of him. No one, not even Abu Bakr and ‘Umar dared to talk to him about the matter.
However, a Companion named Dhu al-Yadayan broke the silence. He asked the Prophet: ''O Messenger of Allah, did you forget or has the prayer been reduced?'' The Prophet assumed that neither had happened. So learning that the prayer had not been reduced, Dhu al-Yadayn concluded that the Prophet had forgotten, because he was certain that he had only prayed two Rak‘ahs. The Prophet then realized that he had forgotten (part of the prayer). He wanted to make sure that Dhu al-Yadayn was correct, so he asked the Companions around him: ''Is it true what Dhu al-Yadayn is saying: that I only prayed two Rak‘ahs?'' They all said: ''Yes.'' So the Prophet moved forward and prayed the remaining two Rak‘ahs. After performing the Tashahhud, he performed the Taslīm. Then said Takbīr while he was sitting and prostrated as he would normally or a little longer and then raised his head from prostration. Next he said Takbīr and prostrated as he would normally or a little longer and then raised his head from prostration and said Takbīr. Finally, he performed Taslīm and ended the prayer.