صحیح مسلم
Sahih Muslim

”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھ لی ہیں؟ تین یا چار…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
11231Sahih صحیح
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيَطْرَحِ الشَّكَّ، وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعْنَ لَهُ صَلَاتَهُ، وَإِنْ كَانَ صَلَّى إِتْمَامًا لِأَرْبَعٍ كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھ لی ہیں؟ تین یا چار ؟ تو وہ شک کو چھوڑ دے اور جتنی رکعتوں پر اسے یقین ہو ان پر اعتماد کرے اور پھر سلام سے پہلے دو سجدے کرلے۔ اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لی ہیں تو یہ سجدے اس کی نماز کو جفت (چھ رکعتیں) کردیں گے اور اگر پوری چار رکعات پڑھی ہوں، تو یہ سجدے شیطان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہوں گے“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Sa‘īd al-Khudri (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "When anyone of you is in doubt about his prayer, not knowing how much he prayed, three or four, let him dispel the doubt and build upon what he is certain about, then perform two prostrations before making Taslīm. If he has prayed five, they will make his prayer even-numbered, and if he has prayed exactly four, they will be humiliation for the devil."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: رواه مسلم
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #11231

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب کسی نمازی کو اپنی نماز کی رکعتوں کے بارے میں شک و شبہ ہو جائے اور پتہ نہ چل سکے کہ تین رکعت پڑھی ہے یا چار رکعت، تو جس رکعت کے بارے میں شک ہو اسے شمار نہ کرے۔ مثلا اگر تین اور چار کے بارے میں شبہ ہو، تو تین رکعات یقینی ہیں۔ اس لیے چوتھی رکعت پڑھ لے اور سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کر لے۔

ایسے میں اگر اس نے پہلے ہی چار رکعتیں پڑھ لی ہيں، تو بعد کی ایک رکعت ملاکر پانچ رکعتیں ہو گئيں اور سہو کے دو سجدے ایک رکعت کے عوض میں ہو گئيں۔ اس لیے رکعتیں طاق نہیں جفت ہو گئيں۔ اس کے برعکس اگر زائد رکعت کو ملاکر چار رکعت پڑھی ہے، تو پھر اس نے بغیر کمی بیشی کے اتنی ہی رکعتیں پڑھی ہيں، جتنی پڑھنی چاہیے تھیں۔

ایسے میں سہو کے دو سجدے شیطان کی ذلت و رسوائی کا سامان اور اسے ناکام و نامراد واپس کرنے کی نشانی ثابت ہوں گے۔ کیوں کہ شیطان نے اس کی نماز خراب کرنے کی کوشش تو کی تھی، لیکن ابن آدم نے سجدہ کرکے اسے درست کر لیا، جسے کرنے سے ابلیس نے انکار کر دیا تھا، جب اس نے آدم کو سجدہ کرنے کے سلسلے میں اللہ کے حکم کی تعمیل سے انکار کر دیا تھا۔

حدیث کے فوائد

  • نماز پڑھ رہے شخص کو جب نماز کی رکعتوں کے بارے میں شک ہوجائے اور بالیقین فیصلہ نہ کر سکے کہ کتنی رکعت پڑھی ہے، تو شک کو پرے رکھ کر یقین کے مطابق کام کرے۔ یعنی کم کو درست مان کر نماز پوری کرے اور سلام پھیرنے سے پہلے سجدۂ سہو کر کے سلام پھیرے۔
  • سہو کے دونوں سجدے دراصل نماز میں در آنے والے خلل کو دور کرنے اور شیطان کو ناکام و نامراد واپس کرنے کا ذریعہ ہیں۔
  • اس حدیث میں جس شک کا ذکر ہے، اس سے مراد وہ تردد ہے، جس میں کوئی رجحان نہ پایا جائے۔ اگر ظن وگمان موجود اور وہ غالب ہو جائے، تو اسى پر عمل کیا جائے گا۔
  • وسوسوں سے لڑنے کی اورشرعی احکام پر عمل کے ذریعہ انہیں دور کرنے کى ترغیب۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) clarified that if the person praying is in doubt about his prayer, not knowing how much he prayed, three or four, let him exclude the extra number that he doubts and not take it into account, so three is the number he is certain about, and let him perform a fourth Rak'ah, then offer two prostrations before making Taslīm (salutation of peace ending the prayer).

If he has actually offered four Rak‘ahs, they will become five by adding a Rak‘ah, and the two prostrations of forgetfulness stand for one Rak‘ah, so the total will be even, not odd. On the other hand, if he has prayed four in total with the extra Rak‘ah, then he has performed what is due on him without any increase or decrease.

In this case, the two prostrations of forgetfulness will bring humiliation and defeat to the devil and will drive him away from fulfilling his goal because he threw him into confusion regarding his prayer and tried to spoil it. However, man's prayer became complete when he obeyed Allah Almighty through prostration, which was the same act through which Satan disobeyed Allah when he refused to obey Him by prostrating to Adam.

Topics موضوعات