صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کی سرزمین میں رہتے ہیں، تو کیا…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
2956Sahih صحیح
عن أبي ثَعْلبة الخُشني رضي الله عنه قال: «أَتَيْتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله، إنا بأرض قوم أهل كتاب، أَفَنَأْكُلُ في آنِيَتِهِم؟ وفي أرض صيد، أَصِيدُ بِقَوْسِي وبِكَلْبِي الذي ليس بِمُعَلَّمٍ، وبِكَلْبِي المُعَلَّمِ، فما يَصلح لي؟ قال: أمَّا مَا ذَكَرْتَ- يعني من آنية أهل الكتاب-: فإِنْ وجدْتُمْ غيرها فلا تأكلوا فيها، وإِنْ لم تَجِدُوا فاغسِلوهَا، وكلوا فِيهَا، وما صدتَ بِقَوْسِكَ، فذَكَرْتَ اسمَ الله عَلَيه فَكُلْ، وما صِدْتَ بِكَلْبِكَ المُعَلَّمِ، فَذَكَرْتَ اسْمَ الله عليه فَكُلْ، وما صِدْتَ بِكَلْبِكَ غيرِ المُعَلَّمِ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ».
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کی سرزمین میں رہتے ہیں، تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا سکتے ہیں؟ اور ہم ایسی زمین میں رہتے ہیں، جہاں شکار بہت ہوتا ہے۔ میں تیر کمان سے بھی شکار کرتا ہوں اور اپنے اس کتے سے بھی جو سکھایا ہوا نہیں ہے اور اس کتے سے بھی جو سکھایا ہوا ہے، تو اس میں سے کس کا کھانا میرے لیے جائز ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے جو اہل کتاب کے برتن کا ذکر کیا ہے، تو اگر تمھیں اس کے سوا کوئی اور برتن مل سکے، تو اس میں نہ کھاؤ، لیکن کوئی دوسرا برتن نہ ملے، تو ان کے برتن کو خوب دھو کر اس میں کھا سکتے ہو اور جو شکار تم اپنی تیر کمان سے کرو اور (تیر پھینکتے وقت) اللہ کا نام لیا ہو، تو اسے کھا سکتے ہو اور جو شکار تم نے غیر سدھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور اسے خود ذبح کیا ہو، تو اسے کھا سکتے ہو۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Tha‘labah al-Khushani (may Allah be pleased with him) reported: I went to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) and asked: "We live in the land of the People of the Book; can we eat in their plates? It is also a land of game, and I hunt the game with my bow, with my untrained hound and with my trained hound. What is lawful for me to eat?" He said: "As for what you have mentioned about the plates of the People of the Book, if you can find other plates, do not use theirs, but if you cannot find (other than theirs), wash their plates and eat in them. If you hunt an animal with your bow after mentioning Allah's name, eat it. If you hunt something with your trained hound after mentioning Allah's name, eat it. If you hunt something with your untrained hound and manage to slaughter it (before it dies), eat it."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #2956

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے بیان کیا کہ وہ لوگ، اہل کتاب کے ہمسائیگی میں رہنے کی بنا پر کچھ مسائل کے شکار ہیں۔ یہاں اہل کتاب سے ان کی مراد یہود و نصاری ہیں۔ ایسے میں کیا ان کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ ان کے برتنوں میں گندگی کایقین رکھتے ہوئے بھی کھاسکتے ہیں؟ چنانچہ آپ ﷺ نے انھیں دو شرطوں کے ساتھ ان کے برتنوں میں کھانے کے جواز کا فتویٰ دیا۔ کھانے کے علاوہ دیگر امور میں ان برتنوں کا استعمال بدرجۂ اولی جائز ہوگا۔
(1) ایک یہ کہ انھیں ان کےعلاوہ برتن میسر نہ آئیں (2) اور دوسری یہ کہ وہ ان برتنوں کو دھو کر ہی استعمال کریں۔
انھوں نے آپ ﷺ سے اس بات کا بھی تذکرہ کیا کہ وہ ایسی سرزمین میں رہتے ہیں، جہاں شکار بہت زیادہ عام ہے اور وہ اپنی کمان، شکار اور اس کے آداب کے بارے میں تربیت یافتہ کتے اور بلا تربیت یافتہ کتے سے بھی شکار کرتے ہیں، تو ان کے لیے کس شکار کا کھانا جائز ہے اور ان آلات سےکیے گئے شکار میں سے کون سا حلال ہے؟ آپ ﷺ نے انھیں فتویٰ دیا کہ تیر وکمان سے کیا جانے والا شکار اس شرط کے ساتھ حلال ہے کہ "بسم اللہ" کہتے ہوئے تیر چھوڑا جائے۔
جہاں تک کتوں سے کیے جانے والے شکار کا معاملہ ہے، توسکھائے گئے کتوں کو چھوڑتے وقت بسم اللہ کہنے سے، وہ شکار بھی حلال ہوجاتا ہے اور غیر سکھائے گئے کتوں کے ذریعے کیا جانے والا شکار اسی صورت میں حلال ہے کہ شکار زندہ حالت میں دستیاب ہو اور اس کو شرعی طور پر ذبح کیا جائے۔

Explanation

Abu Tha‘labah (may Allah be pleased with him) asked the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) if they were allowed to eat in the plates of the People of the Book, although they may be impure? "The People of the Book" refers to the Jews and the Christians, who were Abu Tha‘labah’s neighbors. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) permitted him to use these plates for eating or otherwise on two conditions:
1. Failing to find other utensils.
2. Washing them.
He then said that they were living in a land full of game and he would hunt with his bow, his trained hound, and his untrained hound. He asked what would be lawful to eat if caught by any of them. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) told him that the game shot by his bow would be permissible to eat on condition that he must mention the name of Allah, the Exalted, when he releases the arrow from the bow. Likewise, it would be permissible to eat the game caught by the trained hound if the name of Allah was mentioned when releasing it. However, it would not be permissible to eat the game caught by the untrained hound, unless the game was found alive and slaughtered in an approved manner.

Topics موضوعات