اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والے کی حفاظت کی ذمے داری لی ہے؛ اگر اس کی وفات ہوگئی، تو اللہ اسے جنت…
ولمسلم: «مثل المجاهد في سبيل الله -والله أعلم بمن جاهد في سبيله- كَمَثَلِ الصَّائِمِ القائم، وَتَوَكَّلَ الله لِلْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِهِ إنْ تَوَفَّاهُ: أن يدخله الجنة، أو يرجعه سالما مع أجر أو غنيمة».
مسلم کی روایت میں ہے: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال -اور اپنی راہ میں جہاد کرنے والے کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے- قیام کرنے والے روزے دار کی طرح ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والے کی حفاظت کی ذمے داری لے لی ہے؛ اس کی وفات ہوگئی، تو جنت میں داخل کرے گا۔ ورنہ صحیح سالم ثواب اور مالِ غنیمت کے ساتھ واپس لائے گا“۔
A narration of Muslim reads: "The Mujāhid in the cause of Allah, and Allah knows best who fights in His cause, is like the one who fasts and stands (in prayer at night), and Allah has guaranteed for the one who fights in His cause to admit him into Paradise if He takes his soul, or to return him safe and sound with reward or booty."
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اس حدیث کی تمام روایات متفق علیہ ہیں۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #2957Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 2957)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اس حدیث میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے اللہ کی طرف سے اس ضمانت کا بیان ہوا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا محض اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے خالص جہاد کے لئے نکلتا ہے، تو اللہ اسے تین چیزوں میں سے کسی ایک یا دو چیزوں کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر وہ شہید کردیا گیا، تو اللہ اسے جنت میں داخل کرنے کا ضامن ہے اورباقی بچ گیا تو اسے ثواب یا غنیمت کے ساتھ گھر واپس پہنچائے گا۔ یعنی یا تو ثواب کے ساتھ بغیر غنیمت کے یا ثواب اور غنیمت دونوں کے ساتھ۔
رہی دوسری روایت، جسے صاحبِ 'عمدہ' نے مسلم کی طرف منسوب کیا ہے، حالاں کہ وہ متفق علیہ ہے، اس میں بیان کیا گيا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کی فضیلت یعنی ایسا عمل جو جہاد کے قائم مقام ہو، انسانی طاقت سے باہر کی چیز ہے؛ کیوں کہ وہ عمل لگاتار نماز، روزہ اور قیام اللیل میں لگے رہنا ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔
Explanation
In this Hadīth, there is a guarantee from Allah for the one who leaves in His cause and for whom nothing other than Jihad is the reason for his leaving, as a sincere believer, that he has a promise from Allah for one of three things or two. If he is killed, then he will have a guarantee from Allah to admit him into Paradise, and if he remains alive, then Allah will return him home with any reward and war booty he obtained, meaning: reward without war booty or both.
As for the second narration, which was attributed by the author of Al-‘Umdah to Muslim, and which is agreed upon, it states that the virtue of Jihad in the cause of Allah, meaning: what is like Jihad but exceeds the human ability is that, instead of going out in the way of Allah, one enters one's place of prayer and continuously prays and fasts, and this is why the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "You will not be able to do so."