صحیح بخاری
Sahih al-Bukhari

امیر المؤ منین! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: {خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3155Sahih صحیح
عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال: قَدِم عُيَينَة بن حِصنٍ، فَنزَل على ابنِ أَخِيه الحُرِّ بن قَيسٍ، وكان من النَّفَر الذين يُدنِيهِم عمر رضي الله عنه ، وكان القُرَّاء أصحاب مَجلِس عُمر رضي الله عنه ومُشاوَرَتِه كُهُولا كانوا أو شُبَّانًا، فقال عيينة لابن أَخِيه: يَا ابن أخي، لك وَجْه عند هذا الأمير فَاسْتَأذِن لِي عليه، فَاسْتَأذَن فَأَذِن لَه عُمر، فَلَمَّا دَخَل قال: هي يا ابن الخطَّاب، فَوالله مَا تُعطِينَا الجَزْلَ ولا تَحكُمُ فِينَا بِالعَدلِ، فغضب عمر رضي الله عنه حَتَّى هَمَّ أَنْ يُوقِعَ بِه، فقال له الحُرُّ: يا أمير المؤمنين، إنَّ الله تعالى قال لِنَبِيِّه صلى الله عليه وسلم : {خذ العفو وأمر بالعرف وأعرض عن الجاهلين}، وإِنَّ هذا مِن الجَاهِلِين، والله مَا جَاوَزَها عُمر حِين تَلاَهَا، وكان وَقَّافًا عند كِتَاب الله تعالى .
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ آئے اور انھوں نے اپنے بھتیجے حر بن قیس رضی اللہ عنہ کے یہاں قیام کیا۔ حر بن قیس رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے تھے، جنھیں عمر رضی اللہ عنہ اپنے قریب رکھتے تھے۔ علما عمر رضی اللہ عنہ کے شریکِ مجلس و مشورہ رہتے تھے؛ خواہ وہ بوڑھے ہوں یا جوان۔ عیینہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بھتیجے سے کہا: اے بھتیجے! تمھیں امیر المؤمنین کے یہاں رسوخ حاصل ہے۔ چنانچہ تم مجھے ان سے ملنے کی اجازت لے دو۔ حر بن قیس رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی۔ جب عیینہ رضی اللہ عنہ آئے، تو کہنے لگے: اے ابن خطاب! واللہ! تم ہمیں بہت زیادہ نہیں دیتے اور نہ ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے ہو"۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ غصہ میں آ گئے، یہاں تک کہ انھیں مارنے کا ارادہ کر لیا۔ اتنے میں حر بن قیس رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا:"امیر المؤ منین! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا کہ: {خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ} (الأعراف:198) ”آپ درگزر کو اختیار کریں، نیک کام کی تعلیم دیں اور جاہلوں سے ایک کناره ہو جائیں“۔
اور یہ جاہلوں میں سے ہیں۔ اللہ کی قسم! جب انھوں نے یہ آیت تلاوت کی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے بالکل بھی تجاوز نہ کیا۔ در حقیقت آپ رضی اللہ عنہ تھے ہی ایسے کہ آپ اللہ کی کتاب (کے احکامات) پر ٹھہر جاتے۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdullāh ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him) reported: ‘Uyaynah ibn Hisn came to Madīnah and stayed with his nephew Al-Hurr ibn Qays who was among the people close to ‘Umar (may Allah be pleased with him). The Qur’anic reciters, old or young, had the privilege of joining ‘Umar's council and he used to consult them. ‘Uyaynah said to Al-Hurr: "My nephew, you are privileged in the sight of the Commander of the Believers. So, seek permission for me to sit with him?" Al-Hurr asked ‘Umar and he granted permission. When ‘Uyaynah came into the presence of ‘Umar, he addressed him thus: "O son of Al-Khattāb, By Allah, you neither bestow much on us nor deal with us justly." ‘Umar (may Allah be pleased with him) got so angry that he was about to beat him. Thereupon, Al-Hurr said: ''O Commander of the Believers! Allah said to His Prophet: {Show forgiveness, enjoin what is good, and turn away from the ignorants} [Al-A‘rāf: 199]. Indeed, this one is from the ignorants." By Allah! ‘Umar stood committed to the verse when Al-Hurr recited it, as he always adhered strictly to the Book of Allah.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3155

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

جلیل القدر صحابی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو پیش آنے والے ایک واقعہ کے بارے میں ہمیں بتا رہے ہیں کہ ان کے پاس عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ آئے، جو اپنی قوم کے سرکردہ لوگوں میں سے تھے۔ انھوں نے اپنی بے سروپا گفتگو کا آغاز درشتگی اور مذمت بھرے انداز میں کیا اور پھر ڈانٹتے ہوئے کہنے لگے: "تم ہمیں بہت زیادہ نہیں دیتے اور نہ ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے ہو۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ شدید غصے میں آ گئے اور قریب تھا کہ وہ ان کی پٹائی كر دیتے، لیکن بعض علما جن میں ایک عیینہ رضی اللہ عنہ کے بھتیجے حر بن قیس رضی اللہ عنہ بھی تھے، آگے بڑھے اور خلیفۂ راشد رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: {خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ} (الأعراف: 199) ”آپ درگزر کو اختیار کریں، نیک کام کی تعلیم دیں اور جاہلوں سے ایک کناره ہو جائیں“۔
اور یہ جاہل لوگوں میں سے ہے۔ اس آیت پر عمر رضی اللہ عنہ ٹھہر گئے اور انھوں نے اپنا غصہ دبا لیا اور اس سے تجاوز نہ کیا؛ کیوں کہ آپ رضی اللہ عنہ اللہ کی کتاب (کے احکامات) پر رک جانے والے تھے۔ چنانچہ آپ کے سامنے تلاوت کی جانے والی اس آیت کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو نہ مارا۔
اللہ کی کتاب کے معاملے میں صحابۂ کرام کا طرز عمل یہی تھا کہ وہ اس سے تجاوز نہ کرتے۔ جب ان سے یہ کہہ دیا جاتا کہ یہ اللہ کا فرمان ہے، تو وہ رک جاتے؛ چاہے کچھ بھی ہو۔

Explanation

The noble Companion ‘Abdullāh ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him) informs us what happened to the Commander of the Believers ‘Umar ibn al-Khattāb (may Allah be pleased with him) when ‘Uyaynah ibn Hisn, of high status among his people, came to see him in Madīnah. ‘Uyaynah began his speech in a disrespectful manner and then criticized and rebuked ‘Umar, saying: “You neither bestow much on us nor deal with us justly.” As a result, ‘Umar became so furious that he was about to beat him; however, some of the Qur’anic reciters, including ‘Uyaynah’s nephew, Al-Hurr ibn Qays, stood up and addressed the rightly guided caliph ‘Umar, saying: “O Commander of the Believers! Allah said to His Prophet: {Show forgiveness, enjoin what is good, and turn away from the ignorants} [Al-A‘rāf: 199]. This one is from the ignorants.” ‘Umar stood committed to that verse and suppressed his anger, as he always adhered strictly to the Book of Allah. So, he refrained from beating this man in compliance with the verse that was recited to him. This is how the Companions (may Allah be pleased with them) used to show politeness and respect towards the Book of Allah. They would not violate its commands and teachings. Whenever it was said to them, “this is the word of Allah,” they would submit to it, no matter what.

Topics موضوعات