آنے والے وقت میں ترجیح دیے جانے کے معاملے اور ایسی باتیں سامنے آئیں گی، جو تمھیں بری لگیں گی۔” صحابہ نے کہا :…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3156Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3156)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں مسلمانوں کے حکمراں ایسے لوگ بن جائیں گے، جو مسلمانوں کے اموال وغیرہ کو اپنی مرضی کے مطابق خرچ کریں گے اور مسلمانوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھیں گے۔ ان کی جانب سے دین سے متعلق کئی ایسی چیزیں سامنے آئيں گی، جو قابل نکیر ہوں گی۔ چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا : ایسی حالت میں ان کو کیا کرنا چاہیے؟ آپ نے بتایا کہ ان کا عام مسلمانوں کے اموال کو ہڑپ لینا تم کو اس بات پر نہ ابھارے کہ ان کی بات سننے اور ماننے کی جو ذمہ داری تمہارے اوپر عائد ہوتی ہے‘ اس کو ادا کرنے سے دست بردار ہو جاؤ۔ تم صبر سے کام لینا، ان کی بات سننا اور ماننا، ان سے الجھنے کی کوشش مت کرنا، اپنا حق اللہ سے مانگنا اور اس بات کی دعا کرنا کہ اللہ ان کی اصلاح فرمائے اور ان کے شر اور ظلم سے تم کو بچائے۔
حدیث کے فوائد
- یہ حدیث محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے نبی ہونے کی ایک اہم دلیل ہے، کیوں اس میں آپ نے اپنی امت کے اندر ایک بات پیش آنے کی بات کہی اور وہ بات بالکل اسی طرح پیش آبھی گئی۔
- جس شخص پر کوئی مصیبت آنے والی ہو، اسے اس مصیبت کے بارے میں پہلے ہی بتا دینا جائز ہے، تاکہ وہ اس کے لیے تیار رہے اور جب مصیبت آئے تو صبر سے کام لے اور اسے ثواب کا ذریعہ سمجھے۔
- کتاب و سنت پر مضبوطی سے قائم رہنا فتنے و اختلاف سے نکلنے کا راستہ ہے۔
- حکمرانوں کی باتوں کو بھلے طریقے سے سننے اور ماننے اور ان کے خلاف بغاوت نہ کرنے کی ترغیب، اگرچہ ان کی جانب سے کچھ ظلم بھی ہو رہا ہو۔
- فتنوں کے وقت سنت کى اتباع کرنا اور حکمت سے کام لینا چاہیے۔
- انسان کو اپنے اوپر واجب حقوق کو ادا کرنا چاہیے، اگرچہ اس کے اوپر تھوڑا بہت ظلم ہی کیوں نہ ہو رہا ہو۔
- اس حدیث سے اس شرعی قاعدے کی دلیل ملتی ہے کہ جب دو برائیاں سامنے ہوں، تو ان میں سے زیادہ ہلکی برائی کا انتخاب کیا جائے گا۔ یا پھر جب دو نقصان دہ چیزیں سامنے ہوں، تو ان میں سے کم نقصان دہ چیز کا انتخاب کیا جائے گا۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed us that there will be rulers assigned to be in charge of Muslims and they will monopolize the Muslims' wealth and spend it as they wish, depriving the Muslims of their rights thereof. These rulers will also do things, related to the religion, that are disapproved by the Shariah. The Companions (may Allah be pleased with them) asked about what they should do in such a case. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) told them not to let these rulers' monopoly of wealth prevent them from fulfilling their duty towards them, including listening and obeying. Rather, they should have patience, listen and obey them without disputing their authority. Moreover, they should ask Allah for their rights and ask Him to guide these rulers and ward off their evil and oppression.