”جو شخص دو لڑکیوں کو ان کے جوان ہونے تک پالے، تو قیامت کے دن میں اور وہ اس طرح سے آئیں گے“۔ یہ کہتے وقت آپ…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3360Sahih Muslim (HadeethEnc 3360)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جسے دو بیٹیاں یا بہنیں دی گئيں اور اس نے ان کے اخراجات برداشت کیے، تربیت کی، اچھائی سکھائی اور برائی سے خبردار کیا، پھر دونوں بڑی اور بالغ ہو گئيں، تو وہ اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم قیامت کے دن کچھ اس طرح آئيں گے۔ یہ کہتے وقت آپ نے اپنی شہات کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملاکر دکھایا۔
حدیث کے فوائد
- شادی یا بلوغت تک بیٹیوں کے اخراجات برداشت کرنا اور تعلیم و تربیت کا انتظام کرنا بڑے اجر وثواب کا کام ہے۔ یہی حال بہنوں کا بھی ہے۔
- لڑکیوں کی پرورش کا ثواب لڑکوں کی پرورش سے زیادہ ہے۔ کیوں کہ یہاں لڑکیوں کے بارے میں جس طرح کی بات کہی گئی ہے، اس طرح کی بات لڑکوں کے بارے میں نہیں کہی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی پرورش میں خرچ بھی زیادہ ہوتا ہے اور ان کا خیال بھی زیادہ رکھنا پڑتا ہے۔ کیوں کہ پردے کے اہتمام کی وجہ سے وہ اپنے کام خود سے نہیں کر سکتیں اور لڑکوں کی طرح زندگی کی دوڑ بھاگ میں بھی شامل نہيں ہو سکتیں۔ ساتھ ہی یہ کہ ان سے والد کو یہ امید نہيں ہوتی کہ بیٹوں کی طرح ان سے دشمن کے مقابلے کے وقت قوت حاصل ہوگی، اس کا نام زندہ رہے گا اور اس کا نسب جاری رہے گا۔ لہذا ان کی پرورش و پرداخت کے لیے صبر، اخلاص اور حسنِ نیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہذا اس میں اجر وثواب بھی زیادہ ہے اور ایسے شخص کو قیامت کے دن اللہ کی معیت نصیب ہوگی۔
- عورت کے بالغ ہونے کی علامتيں: پندرہ سال پورے ہو جانا، حیض آ جانا خواہ پندرہ سال سے پہلے ہی کیوں نہ ہو، ناف کے نیچے کے بال اگ آنا یا احتلام ہونا یعنی نیند کی حالت میں منی نکل جانا۔
- قرطبی کہتے ہیں: دونوں کے بالغ ہونے سے مراد ایسے حال تک پہنچنے کے ہيں کہ دونوں مستقل بالذات ہو سکیں۔ اور عورتیں مستقل بالذات اس وقت ہوتی ہيں، جب ان کی شادی ہو جائے۔ اس لیے بالغ ہونے سے مراد حیض آجانا اور مکلف ہو جانا نہيں ہے۔ کیوں کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ بالغ ہونے سے پہلے ہی شادی ہو جائے اور کفالت کی ذمے داری شوہر کے سر پر چلی جائے۔ اس کے برخلاف ایسا بھی ہوتا ہے کہ حیض آ گیا، لیکن وہ اپنے مصالح کے بارے میں خود سے سوچنے اور فیصلے لینے کی اہل نہیں ہو سکی۔ ایسے میں اگر اسے تنہا چھوڑ دیا جائے تو ضائع ہو جائے گی اور اس کے حالات بگڑ جائيں گے۔ لہذا ایسی حالت میں اسے تحفظ اور دیکھ بھال کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، تاکہ لوگوں کے اندر اس سے شادی کرنے کی رغبت پیدا ہو۔ انھیں باتوں کے مدنظر علما نے کہا ہے کہ بچی کے والد کے سر سے نان ونفقہ کی ذمے داری اس کے بالغ ہو جانے سے نہیں اترتی، بلکہ اس کی زندگی میں شوہر کے قدم رکھنے کے بعد اترتی ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that one who is granted two daughters, or two sisters, and he takes care of them by providing for them, raising them, directing them to goodness, and warning them against evil and the like until they grow up and reach puberty, he will come on the Day of Judgment along with the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) like these two, and he joined his index and middle fingers.