موطا امام مالک · مسند احمد
Muwatta Malik · Musnad Ahmad

اللہ تعالی کا فرمان ہے: میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں، میری خاطر ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے والوں،…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3362Sahih صحیح
عن أبي إدريس الخولاني رحمه الله قال: دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشقَ، فَإِذَا فَتًى بَرَّاق الثَنَايَا وَإِذَا النَّاس مَعَه، فَإِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيءٍ، أَسْنَدُوهُ إِلَيهِ، وَصَدَرُوا عَنْ رَأْيِهِ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ، فَقِيل: هَذَا مُعَاذ بْنُ جَبَلٍ رضي الله عنه فَلَمَّا كان مِنَ الغَدِ، هَجَّرتُ، فَوَجَدتُه قَدْ سَبِقَنِي بِالتَهْجِير، وَوَجَدتُهُ يُصَلِّي، فَانتَظَرتُهُ حَتَّى قَضَى صَلاَتَه، ثُمَّ جِئتُهُ مِن قِبَلِ وَجْهِهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيه، ثُمَّ قُلتُ: وَالله إِنِّي لَأُحِبُّكَ لِلَّه، فَقَال: آلله؟ فَقُلتُ: آلله، فقال: آللهِ؟ فقُلْتُ: آلله، فَأَخَذَنِي بَحَبْوَةِ رِدَائِي، فَجَبَذَنِي إِلَيه، فَقَال: أَبْشِر! فَإِنِّي سَمِعتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «قَالَ الله -تعَالَى-: وَجَبَت مَحَبَّتِي لِلمُتَحَابِّين فِيَّ، وَالمُتَجَالِسِينَ فِيَّ، وَالمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ، وَالمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ».
ابو ادریس خولانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں دمشق کی جامع مسجد میں داخل ہوا، تو دیکھا کہ وہاں چمک دار دانتوں والا ایک جوان ہے، جس کے ساتھ لوگ بیٹھے ہیں۔ جب ان کا کسی بات میں اختلاف ہوجاتا، تو وہ اس کی طرف رجوع کرتے اور جو رائے وہ دیتا، اسے تسلیم کر لیتے۔ میں نے اس جوان کے بارے میں پوچھا کہ وہ کون ہے؟ تو بتایا گیا کہ وہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں۔ جب اگلا دن آیا، تو میں نے جلدی کی، لیکن (جب مسجد پہنچا تو) میں نے دیکھا کہ وہ مجھ سے پہلے ہی پہنچ چکے ہیں اور نماز پڑھ رہے ہیں۔ میں ان کا انتظار کرنے لگا، یہاں تک کہ انھوں نے اپنی نماز پوری کر لی۔ میں ان کے سامنے کی طرف سے ان کے پاس آیا اور انھیں سلام کرنے کے بعد میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اللہ کی خاطر آپ سے محبت کرتا ہوں۔ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم کھاتے ہو؟۔ میں نے کہا: میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں۔ انھوں نے پھر کہا: اللہ کی قسم کھاتے ہو؟۔ میں نے جواب دیا : میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں۔ اس پر انھوں نےمیری چادر کے پہلو سے مجھے پکڑا اور اپنی طرف کھینچتے ہوئے فرمایا: خوش ہو جاؤ! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: ”میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں، میری خاطر ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے والوں، میری خاطر ایک دوسرے کی زیارت کرنے والوں اور میری خاطر ایک دوسرےسے تعاون كرنے والوں كے لیے میری محبت واجب ہوگئی“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Idrīs al-Khawlāni (may Allah have mercy upon him) reported: I once entered the Damascus mosque. I saw a young man who had shining teeth, and people were with him. When they differed over anything, they would refer it to him and would adopt his opinion. I asked who he was and I was told that he was Mu‘ādh ibn Jabal (may Allah be pleased with him). On the next day, I went early to the mosque, but found that he had arrived earlier than me and was praying. I waited until he completed his prayer, and then went to him from the front, greeted him and said: "By Allah, I love you for the sake of Allah." He asked: "By Allah?" I replied: "Yes, by Allah." He then asked me again: "By Allah?" I replied: "Yes, by Allah." Then he took hold of the waist edge of my cloak, drew me close to himself and said: "Rejoice, for I heard the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) saying: 'Allah, the Almighty, said: ‘My love is certainly due to those who love one another for My sake, sit with one another for My sake, visit one another for My sake, cooperate and give one another for My sake.''"
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
موطا امام مالکMuwatta Malikمسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3362

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اس حدیث میں اللہ کے لیے باہم محبت کرنے کی فضیلت کا بیان ہے۔ مراد یہ کہ یہ تمام امور طرفین سے ہوں، جیسے کہ تفاعل باب کا صیغہ دلالت کرتا ہے اور اللہ کی رضا کی کے لیے ہوں، نہ کہ کسی عارضی غرض کی بنا پر۔ ایسے شخص کے لیے اس کے مولی کی محبت واجب ہو جاتی ہے، جو کہ عظیم ترین جزا ہے اور اس شخص کی بلندی مرتبہ کی دلیل ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: ”جس نے اللہ کے لیے محبت کی، اسی کے لیے نفرت کی، اسی کی خاطر دیا اور اسی کی خاطر روک لیا، تو اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا“۔
ابو ادریس خولانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں اللہ کی خاطر آپ سے محبت کرتا ہوں۔ انھوں نے فرمایا: کیا تم قسم کھاتے ہو؟۔ یہ دلیل ہے کہ وہ بات کے اثبات کے لیے قسمیں کھا تے تھےاور بار بار قسم کھا کر اور اٹھوا کر بات کی تاکید کی جاتی تھی۔
ابو ادریس خولانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: انھوں نے میری چادر کے پہلو سے مجھے پکڑا۔ اس سے مراد چادر کا وہ حصہ ہے، جس سے ”احتباء“ کیا جاتا ہے یعنی اس کے دونوں کنارے۔
”انھوں نے مجھے اپنی طرف کھینچا“ ایسا انھوں نے انہیں اپنے قریب اور مانوس کرنے اور جو بات وہ بتا رہے تھے، اس پر اظہار رضامندی اور انھیں وہ خوش خبری سنانے کے لیے کیا، جو نبی ﷺ نے ہر اس شخص کے لیے دی ہے، جو ایسے کرتا ہے۔
”خوش ہو جاؤ“ یعنی اپنی اس حالت پر خوش ہو جاؤ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”اللہ تعالی فرماتا ہے“۔ ایسا انھوں نے اپنی طرف سے دی جانے والی اس خوش خبری کو نبی صادق و مصدوق ﷺ کے واسطے سے رب تعالی شانہ کی طرف منسوب کرنے کے لیے کہا؛ تا کہ ابو ادریس رحمہ اللہ کو پوری طرح یقین ہو جائے اور اس بات کے ذریعے سے انھیں مکمل خوش خبری ملے (یہ جان کر) کہ یہ نبی ﷺ کے واسطے سے ان کی رب کی بات ہے، نہ کہ معاذ رضی اللہ عنہ کا اپنا ذاتی اجتہاد۔
اللہ عز و جل نے فرمایا: ”میری محبت واجب ہو گئی“۔ یعنی ان کے لیے میری محبت یقینی ہو گئی۔
”میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں اور میری خاطر ایک دوسرے سے مل بیٹھنے والوں کےلیے“۔ مراد یہ کہ ان کا بیٹھنا اللہ عز و جل کی ذات کے لیے ہو، بایں طور کہ وہ اللہ کے ذکر، اس کی حدود کو قائم کرنے، اس کے وعدے کو پورا کرنے، اس کے حکم کی پاس داری کرنے، اس کے مشروع کردہ احکامات و اوامر کو بجا لانے اور اس کی حرام کردہ اشیا سے اجتناب کرنے میں ایک دوسری کے ساتھ تعاون کریں۔
”میری خاطر ایک دوسرے کی زیارت کرنے والوں کے لیے“۔ یعنی ان کا ایک دوسرے سے ملنا اللہ کی خاطر اور اس کی ذات اورخوش نودی کے لیے ہو، بایں طور کہ وہ اس کی رضا کے لیے محبت کریں یا اس کی اطاعت گزاری میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔
”میری خاطر ایک دوسرے سے تعاون کرنے والوں کے لیے“۔ جو اللہ کی خوش نودی کے لیے تن و روح لگا دیتے ہیں، بایں طور کہ اس کے دشمن کے خلاف جہاد اور اس کے علاوہ دیگر حکم کردہ معاملات میں باہم متحد ہو جاتے ہیں یا پھر اگر دوسرے کو مال کی ضرورت ہو، تو وہ اپنا مال اسے دے دیتا ہے۔

Explanation

This Hadīth highlights the virtue of loving one another for the sake of Allah. The meaning is that whoever does all of these things, i.e. each of the two parties, as the verb form implies, if he does them seeking the pleasure of Allah, the Almighty, not for a perishable interest or some purpose, then the love of his Master will be due to him. This, indeed, is the greatest reward and it indicates the honor of such deeds. It was also reported that: "Whoever loves, hates, gives, and withholds for My sake, he has perfected faith." "By Allah, I love you for the sake of Allah." He asked: "By Allah?" I replied: "Yes, by Allah." This is a proof that they frequently used oaths and repeated them for the sake of verification and confirmation. "Drew me close to himself", meaning: closely and intimately, displaying acceptance of what he told him, and to convey to him the glad tidings of what the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said about the one who does that. So, he said to him: 'Rejoice', meaning: at the state you are in because "I heard the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) saying: 'Allah, the Almighty, said"; Mu‘ādh informed him that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) reported this statement from his Lord, Blessed and Exalted, so that Abu Idrīs would be certain about the statement and would fully rejoice over the news, since it was the statement of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) which he reported from his Lord, and not a personal opinion of Mu‘ādh (may Allah be pleased with him). "My love is certainly due", meaning: My love has been affirmed for them. "To those who love one another for My sake, sit with one another for My sake", meaning: Their gatherings are especially for the sake of Allah, for the sake of cooperation in the remembrance of Allah, the Exalted, establishing His limits, honoring His covenant, fulfilling His commands, preserving His laws, following His orders, and avoiding His prohibitions. "Visit one another for My sake", meaning: Their visits to one another are intended for Allah's sake and seeking His pleasure, love, and approval; whether they do it out of loving each other for His sake, or in cooperation on His obedience. "Cooperate and give one another for My sake", meaning: exert themselves for His pleasure, including spending on Jihad against His enemies, and other such things that they were commanded to do; as well as giving each other money if needed.

Topics موضوعات