صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

تم اہلِ کتاب کی ایک قوم کے پاس جارہے ہو۔ تم انہیں سب سے پہلے اس بات کی طرف دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3390Sahih صحیح
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ: «إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ، فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللهِ حِجَابٌ».
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : رسول اللہ ﷺ نے جب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو ان سے فرمایا: "تم اہلِ کتاب کی ایک قوم کے پاس جارہے ہو۔ تم انہیں سب سے پہلے اس بات کی طرف دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتلانا کہ اللہ تعالی نے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان جائیں تو پھر انہیں بتلانا کہ اللہ تعالی نے ان پر زکوۃ فرض کی ہے، جو ان کے مال دار لوگوں سے لے کر انہی میں سے فقیر لوگوں میں تقسیم کی جائے گی۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان جائیں تو ان کے عمدہ اور قیمتی اموال لینے سے پرہیز کرنا اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا، کیوں کہ اس کے اور اللہ تعالی کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا"۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) said to Mu‘ādh ibn Jabal as he was sending him to Yemen: "You will come to a people of the Scripture. When you reach them, invite them to testify that none is worthy of worship except Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah. If they obey you in that, tell them that Allah has enjoined on them five prayers every day and night. If they obey you in that, tell them that Allah has enjoined Zakah on them, to be taken from the rich amongst them and given to the poor amongst them. If they obey you in that, beware of taking their best properties; and fear the invocation of an oppressed person, for there is no barrier between his invocation and Allah.”
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق عليه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3390

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو داعی اور معلم کی حیثیت سے یمن کی جانب بھیجا، تو ان سے کہا کہ ان کو ایک عیسائی قوم کا سامنا کرنا ہے، تاکہ وہ اس کے لیے تیار رہيں اور اس کے بعد بتایا کہ ان کو دعوت کے کام کا آغاز کرتے وقت اہم ترین سے اہم کی طرف رخ کرنے کے قاعدے کا دھیان رکھنا چاہیے۔ چنانچہ سب سے پہلے عقیدے کی اصلاح کی دعوت دینی چاہیے یعنی اس بات کی گواہی کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں۔ اسی گواہی کے ذریعے وہ اسلام میں داخل ہو سکتے ہیں۔ جب وہ یہ گواہی دے دیں، تو ان کو نماز قائم کرنے کا حکم دیں، کیوں کہ نماز توحید کے بعد سب سے بڑا فریضہ ہے۔ جب نماز قائم کر لیں، تو اس قوم کے مال داروں کو حکم دیں کہ اپنے فقیروں کو اپنے اموال کی زکاۃ دیں۔ اس کے بعد ان کو افضل ترین مال لینے سے منع کیا، کیوں کہ (زکاۃ میں) درمیانے قسم کا مال لینا ہی واجب ہوتا ہے۔ پھر ان کو ظلم سے بچنے کی وصیت کی، تاکہ مظلوم کی بد دعا کا شکار نہ ہونا پڑے، کیوں کہ مظلوم کی بد دعا قبولیت سے سرفراز ہو جاتی ہے۔

حدیث کے فوائد

  • اللہ کے علاوہ کسی کے سچے معبود نہ ہونے کی گواہی دینے کے معنی ہیں: ہر قسم کی عبادت کو صرف اللہ کے لیے خاص کرنا اور اس کے علاوہ دوسروں کی عبادت کو مکمل چھوڑ دینا۔
  • محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دینے کے معنی ہیں، ان پر اور ان کے لائے ہوئے پیغام پر ایمان لانا، ان کی تصدیق کرنا اور اس بات کو ماننا کہ وہ انسانوں کی جانب بھیجے جانے والے آخری رسول ہیں۔
  • علم رکھنے والے اور شبہات کے شکار شخص کو دعوت دینا جاہل کو دعوت دینے کی طرح نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا : "تم اہل کتاب کی ایک قوم کے پاس جا رہے ہو۔"
  • اس بات کی اہمیت کہ ایک مسلمان کو اپنے دین کے سلسلے میں بصیرت کا حامل ہونا چاہیے، تاکہ شبہات پیدا کرنے والوں کے شبہات سے بچ سکے۔ اس کے لیے علم طلب کرنا ضروری ہے۔
  • اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے بعد یہودیوں اور عیسائیوں کا دین باطل ہو گیا اور اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے ان کو قیامت کے دن نجات نہیں مل سکتی۔ نجات پانے کے لیے اسلام میں داخل ہونا اور آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لانا ضروری ہے۔

Explanation

When the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) sent Mu‘ādh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) to Yemen to call its people to Allah and teach them, he clarified to him that he would meet Christian people and that he should first call them to what is more important and then to what is less important, and so on. He should first call them to reform their creed by testifying that none is worthy of worship except Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah. This is because they enter Islam with this testimony. If they complied with that, he should then enjoin them to establish the prayer, for it is the most important obligation after the testimony of Tawhīd (monotheistic belief). If they established the prayer, he should then order the rich amongst them to pay Zakah on their property to the poor amongst them. Thereafter, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) warned him not to take their best property; instead, it is required to adopt a moderate approach in this regard. Then, he (may Allah's peace and blessings be upon him) instructed him to avoid oppression, lest an oppressed person might supplicate to Allah against him, as his supplication is readily answered.

Topics موضوعات