اللہ تعالی پر بھروسہ کرنا واجب ہے، اللہ تعالی کا اپنے انبیاء ورسل اور اولیاء کی حفاظت کا بیان
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3447Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3447)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
یہ اس وقت کا واقعہ ہے کہ جب آپ ﷺ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ جب آپ ﷺ نے اعلانیہ لوگوں کو اسلام کی دعوت دی، لوگوں کو بلایا اور لوگوں نے آپ کی اتباع کی۔ مشرکین ڈر گئے اور آپ کی دعوت کے خلاف کھڑے ہوگئے، آپ ﷺ پر سختی کی اورقول و فعل کے ذریعہ آپ ﷺ کو تکلیفیں پہنچائیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مکہ سے مدینے کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دی۔ آپ ﷺ کے ساتھ صرف ابوبکر رضی اللہ عنہ، راہبر اور خادم تھے۔پس آپ ﷺ نے اللہ کے حکم سے سے ہجرت کی اور آپ ﷺ کے ساتھ ابو بکر رضی اللہ عنہ ہو لیے، جب مشرکین نے آپ ﷺ کی مکہ سے روانگی کی خبر سنی تو آپ ﷺ کو پکڑ کر لانے والے کو دو سو (200) اونٹ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کو پکڑ لانے پر سو (100) اونٹ انعام رکھا، لوگ آپ دونوں کو پہاڑوں، وادیوں اور غاروں اور ہر جگہ تلاش کرنے لگے، یہاں تک کہ اس غار پر آ رُکے جس میں نبی ﷺ اور ابوبکر پناہ گزین تھے۔ یہ غار ثور ہے جہاں تین دنوں تک چھپے رہے یہاں تک کہ آپ دونوں کی تلاش کا معاملہ نرم پڑگیا، چنانچہ اسی موقعہ سے ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا اے اللہ کے رسول ﷺ! ان میں سے کوئی اگر اپنے پاؤں کے نیچے دیکھ لے تو ہم انہیں نظر آ جائیں۔ اس لیے کہ ہم ان کے قدموں کے نیچے غار میں ہی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا:اے ابو بکر! ان دو لوگوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ﴿لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا﴾ (سورۃ التوبۃ: 40) ترجمہ: غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ ممکن ہے کہ آپ ﷺ نے یہ دونوں جملے بھی کہے ہوں یعنی ”مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا“ اور ”لا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا“۔
آپ ﷺ کا یہ کہنا: ”ان دو لوگوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہے“ یعنی کیا کوئی ان دونوں کو اذیت وغیرہ پہنچانے کی طاقت رکھتا ہے؟ اور جواب ہے: نہیں کوئی یہ طاقت نہیں رکھ سکتا ہے۔ اس لیے کہ جسے اللہ دینا چاہے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے وہ روکنا چاہے اسے کوئی دینے والا نہیں، اس کو کوئی رسوا نہیں کرسکتا جسے اللہ تعالی عزت دے اور جسے اللہ ذلیل کر دے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں، (فرمان الٰہی ہے) ﴿قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ (آل عمران: 26) ترجمہ: ”آپ کہہ دیجیے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے“۔
Explanation
The Commander of the Believers, Abu Bakr as-Siddīq (may Allah be pleased with him), said during the time of migration: I looked at the feet of the polytheists standing above us at the entrance of Cave Thawr while we were inside, and I said: O Messenger of Allah, if one of them were to look at his feet, he would see us beneath him. He replied: O Abu Bakr, what do you think of the two when Allah is their third, granting them victory, aid, protection, and support?!