میں نہیں چاہتا کہ آپ ﷺ کا راز فاش کردو، ہاں اگر نبی ﷺ انھیں چھوڑ دیتے تو میں ان کو قبول کر لیتا۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-BukhariOriginal wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3448Sahih al-Bukhari (HadeethEnc 3448)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ یہ بتا رہے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہوئیں یعنی خنیس بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ سے جو کہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے۔ اور وہ نبی کریم ﷺ کے ان ساتھیوں میں سے تھے جو مدینہ میں فوت ہوئے اور ان کی موت کی وجہ وہ زخم تھی جو انھیں جنگ احد میں لگی تھی۔ اسی طرح یہ ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے پہلے پہل اسلام قبول کیا اور ہجرت حبشہ بھی کی تھی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں"لقيت عثمان بن عفان" (میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملا) یعنی ان کی بیوی رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "فعرضت عليه حفصة" (میں نے ان کو حفصہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ پیش کیا) اس میں اس بات کا جواز ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا رشتہ اہل خیر اور نیک لوگوں کو پیش کر سکتا ہے، اس میں کوئی عیب نہیں جیسا کہ بخاری نے اس کا باب قائم کیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "فقلت: إن شئت أنكحتك حفصة بنت عمر" (میں نے کہا کہ اگر آپ پسند کریں تو میں آپ کا نکاح حفصہ بنت عمر سے کرا دوں) یہاں پر ایک اسلوب بیان کیا جا رہا ہے اور وہ جملہ شرطیہ کے ساتھ تعبیر کیا گیا تاکہ مخاطب کو اختیار کی مکمل آزادی ہو اور اس میں جرأت مندانہ حسن بیان اور قبولیت پر تشجیع پائی جاتی ہے۔ اور اس میں بیٹی کی نسبت اپنی طرف کی ہے جب کہ اس میں حذف کی بھی اجازت ہے جیسا کہ وہ کہتے کہ بنت عمر۔ اور آپ (اے عثمان) اس کے معاملے اور حسن معاشرت سے واقف ہیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیتے ہوئے کہا "سأنظر في أمري" (میں اس معاملے پر غور کروں گا) یعنی میں یہ سوچ لوں کہ کیا میں ابھی شادی کرنا چاہتا ہوں یا کوئی تاخیر ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں "فلبثت ليالي ثم لقيني فقال: قد بدا لي أن لا أتزوج يومي هذا" (میں نے کچھ دن انتظار کیا پھر ایک دن مجھے (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ) ملے اور کہا کہ مجھے یہی لگتا ہے کہ میں ابھی شادی نہ کروں)۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں "فلقيت أبا بكر الصديق -رضي الله عنه- فقلت: إن شئت أنكحتك حفصة بنت عمر فصمت" (میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملا اور کہا کہ اگر آپ پسند کریں تو میں حفصہ بنت عمر کا نکاح آپ سے کردوں تو وہ خاموش رہے) ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کوئی بات نہ کی اور الوداع کرتے ہوئے خاص انداز سے خاموشی اختیار کر لی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں "فكنت أوجد" (میں نے پایا) یعنی شدید غصہ۔"عليه منى على عثمان" (ان پر بہ نسبت عثمان کے) کیوں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے انھیں جواب مل گیا تھا جب کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے معاملے کو ویسے ہی چھوڑ دیا۔ " فلبثت ليالي ثم خطبها النبي فأنكحتها إياه فلقيني أبو بكر" (کچھ دن گزرے تو نبی کریم ﷺ نے نکاح کا پیغام بھیجا اور میں نے آپ ﷺ کے ساتھ حفصہ کا نکاح کر دیا۔ پھر مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ ملے) یعنی شادی کے بعد۔ گلہ دور کرنے اور حقیقتِ حال بیان کرنے کے لیے اپنا عذر پیش کیا اور اپنے بھائی کی تسلی کی خاطر ان سے کہا: "لعلك" (شاید کہ آپ) شفقت کے انداز میں۔ ان کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حسن خلق پر اعتماد تھا اور یہ بھی بھروسہ تھا کہ وہ ناراض نہیں ہوں گے۔ لیکن غصہ کا جواز ہونے کی وجہ سے ان کی طبع کا خیال کرتے ہوئے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا "لعلك وجدت علي حين عرضت عليّ حفصة فلم أرجع" (آپ نے میرے بارے میں اپنے دل میں کچھ پایا تو ہو گا ہی جب آپ نے حفصہ کے نکاح کی بات کی اور میں نے کوئی جواب نہیں دیا تھا) یعنی آپ کو اس وقت مجھ پر غصہ آیا ہو گا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے : ہاں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عملاً جو کچھ ہوا تھا وہ سچائی کے ساتھ بتا دیا۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا " فإنه لم يمنعني أن أرجع إليك فيما عرضت عليّ إلا أني كنت علمت أن النبيّ ذكرها" (آپ نے جو صورت میرے سامنے رکھی تھی اس کا جواب میں نے صرف اس وجہ سے نہیں دیا تھا کہ مجھے معلوم تھا کہ ر سول کریم ﷺنے ان کا ذکر کیا ہے ) یعنی میں شادی کا ارادہ رکھتا تھا لیکن نبی کریم ﷺ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کی رغبت کا اظہار ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس وقت کیا جب ان کے علاوہ اور کوئی بھی موجود نہیں تھا تو انھوں نے خیال کیا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا راز ہے جس کو بیان کرنا درست نہیں۔ اس لیے کہا کہ "فلم أكن لأفشي سرّ رسول الله" (میں نہیں چاہتا کہ رسول اللہ ﷺکا راز بیان کروں) یعنی جو بات چھپا کر مجھ سے کی میں اس کو ظاہر کر دوں۔ "ولو تركها النبيّ"(ہاں اگر آپ ﷺ انھیں چھوڑ دیتے) یعنی ان کے متعلق اپنا ارادہ ترک کر دیتے تو"لقبلتها" (تو میں ان کو قبول کر لیتا) وہ اس بات کو حرام سمجھتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے ساتھ نکاح کا تذکرہ کیا تھا جس کا انھیں علم تھا اور وہ وہاں پر شادی کرتے۔ اس میں افراد امت کی تربیت موجود ہے جو اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ راز کو چھپانا، اس کو خفیہ رکھنے میں انتہائی احتیاط کرنا اور اس کے بارے میں کسی بھی قسم کی بات کرنے سے رک جانا چاہئے جب یہ ڈر ہو کہ اس (افشائے راز) وجہ سے کوئی مصیبت ودقت پیش آسکتی ہے۔
Explanation
In this Hadīth, ‘Abdullāh ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him) quotes from his father, ‘Umar, his account of what he did when his daughter Hafsah became a widow after the death of her husband Khunays ibn Hudhāfah As-Sahmi. Khunays was the brother of ‘Abdullāh ibn Hudhāfah, and he was one of the Prophet's Companions. He died in Madīnah as a result of an injury that he sustained in the battle of Uhud. He was one of the first people to embrace Islam, and he made Hijrah to Abyssinia. ‘Umar said: "I met with ‘Uthmān ibn ‘Affān (i.e. after the death of his wife Ruqayyah, daughter of the Messenger of Allah, may Allah’s peace and blessings be upon him), and I offered Hafsah to him in marriage." This indicates the permissibility of offering a person’s daughter in marriage to a righteous man of good character and religion, and that there is no shame in doing so. Al-Bukhāri (may Allah have mercy upon him) entitled a chapter in his Sahīh: Permissiblity of offering one's daughter or sister in marriage to a righteous man. ‘Umar said to ‘Uthmān: "If you wish, I shall give you Hafsah, daughter of ‘Umar, in marriage." He used a conditional clause because it gives the addressee freedom of choice, and this is a good manner of speech that encourages the addressee to accept. ‘Umar was also keen on attributing his daughter to himself as if adding: "and you know ‘Umar's status and his good companionship." ‘Uthmān's reply was that he would think about it; i.e. he would consider whether he should marry then or delay it. ‘Umar then said that he waited a few days and then saw ‘Uthmān, who told him that he had decided not to marry 'at present'. He said 'at present' so that his answer would not be misunderstood to mean that he had chosen to remain celibate and never get married, which is forbidden in Islam. ‘Umar then met Abu Bakr As-Siddīq (may Allah be pleased with him) and said to him: "If you wish, I shall marry Hafsah, daughter of ‘Umar, to you." Abu Bakr was silent, but it was for a very specific reason. His silence made ‘Umar angry, more so than when ‘Uthmān refused his daughter since at least ‘Uthmān gave him a reply while Abu Bakr did not say a word. A few days later, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) proposed to marry Hafsah, and ‘Umar accepted and married her off to him. After the marriage had taken place, with the reason for Abu Bakr's silence no longer existing, Abu Bakr offered his apology to ‘Umar to remove any hard feelings between them. He said: "'Perhaps you were angry with me when you offered Hafsah to me and I said nothing in reply?" He used the word 'perhaps' because, knowing ‘Umar's good character, he should not be angry with him for that, but it is also possible that he was angry as a natural reaction. ‘Umar replied truthfully, saying that he was indeed angry at his silence. Abu Bakr told him that nothing had prevented him from responding except that he had heard the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) mentioning her; i.e. expressing his desire to marry her. It is possible that the Prophet mentioned his desire to marry Hafsah in the presence of Abu Bakr alone, so Abu Bakr considered this to be a secret that must not be disclosed. That is the reason why he said: "and I could not disclose the secret of the Messenger of Allah," i.e. share with anyone else what he told me in confidence. He added that if the Prophet had refrained from marrying her, he would have accepted her, because it is forbidden to propose to a woman whom the Prophet had expressed his desire to marry. This Hadīth teaches Muslims the obligation to keep the secret keenly and not to say what might lead to disclosing any part of it.