صحیح راستہ اختیار کرو اور جان ركھو کہ تم میں سے کوئی بھی اپنے عمل کی وجہ سے نجات نہیں پا سکتا”۔ صحابہ کرام…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3469Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3469)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کو اس بات کی ترغیب دی کہ عمل کرتے رہیں، افراط و تفریط سے بچتے ہوئے جہاں تک ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہیں، ان کے عمل کا مقصد حق جوئی ہو‘ بایں طور کہ اخلاص الہی اور اتباع سنت کے ساتھ عمل کریں، تاکہ ان کے اعمال قبول ہوں اور نزول رحمت کا سبب بنیں۔
اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ فقط تم میں سے کسی کا عمل اسے نجات نہيں دلا سکتا۔ بلکہ اللہ کی رحمت شامل حال ہونا ضروری ہے۔
صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کے اتنے سارے اعمال بھی آپ کو نجات نہيں دلا سکتے؟
جواب دیا: مجھے بھی نہيں، جب تک کہ اللہ اپنے فضل ورحمت کی چادر مجھ پر نہ پھیلا دے۔
حدیث کے فوائد
- نووی کہتے ہيں: حدیٹ کے الفاظ (سدِّدوا وقاربوا) کے معنی یہ ہوئے کہ درستگی کی تلاش میں رہو اور اس پر عمل کرو۔ اگر ایسا نہ کر سکو، تو اس سے قریب رہو۔ سداد کے معنی درستگی کے ہیں۔ یعنی افراط و تفریط کے درمیان کی راہ، نہ غلو کرو اور نہ کوتاہی کی راہ اپناؤ۔
- شیخ ابن باز کہتے ہيں: جس طرح برے اعمال جہنم میں داخل ہونے کا سبب ہیں، اسی طرح اچھے اعمال جنت میں داخل ہونے کا سبب ہیں۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ جنت میں داخلہ محض عمل کی بنیاد پر نہيں مل سکتا بلکہ اللہ کا درگزر اور اس کی رحمت ضروری ہے۔ لوگ داخل تو ہوں گے اپنے اعمال کی وجہ سے، لیکن اس داخلے کو اللہ کی رحمت، اس کا عفو و درگزر اور اس کی مغفرت واجب کرے گی۔
- بندے کو اپنے عمل پر غرور اور تکبر نہیں کرنا چاہیے، خواہ وہ جس قدر بھی ہو، کیوں کہ اللہ تعالی کا حق اس کے عمل سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اس لیے بندے کو خوف وامید دونوں سے لیس ہونا چاہیے۔
- بندوں کے اوپر تنی ہوئی اللہ کے فضل و احسان کی چادر ان کے اعمال سے کہیں زیادہ کشادہ ہے۔
- نیک اعمال جنت میں داخل ہونے کا سبب ہیں اور جنت سے سرفراز ہونا محض اللہ کے فضل اور رحمت سے ممکن ہے۔
- کرمانی کہتے ہیں: جب سارے لوگ اللہ کی رحمت کی بدولت ہی جنت میں داخلہ پا سکتے ہيں، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر بطور خاص یہ بتانے کے لیے کیا گیا ہے کہ جب آپ کا جنت میں داخل ہونا یقینی ہے اور اس کے باوجود آپ اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل نہیں ہو سکتے، تو دوسرے لوگ بہ درجہ اولی داخل نہيں ہو سکتے۔
- نووی کہتے ہيں: ارشاد باری تعالی: (اپنے ان اعمال کے سبب جنت میں داخل ہو جاؤ جو تم دنیا میں کیا کرتے تھے۔) [النحل: ۳۲]، (یہ وہ جنت ہے جس کا تم وارث اپنے کیے ہوئے اعمال کے سبب بنائے گئے ہو۔) [ الزخرف : 72] اور اس طرح کی ديگر آیتیں جو یہ بتاتی ہيں کہ اعمال کی بدولت جنت میں داخلہ نصیب ہوگا، ان کے اور ان احادیث کے درمیان تعارض نہيں ہے۔ کیوں کہ ان آیتوں کے معنی بس اتنا ہیں کہ جنت میں داخلہ اعمال کے سبب سے نصیب ہوگا۔ لیکن اعمال کی توفیق، ان کے اندر اخلاص اور ان کی قبولیت اللہ کی رحمت اور فضل و کرم سے نصیب ہوتی ہے۔ یہی ان احادیث کا مقصد ہے۔ لہذا یہ صحیح ہے کہ جنت میں داخلہ اعمال کے سبب ملے گا، لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ اعمال کی توفیق اللہ کی رحمت سے نصیب ہوتی ہے۔
- ابن الجوزی کہتے ہيں: اس سے چار جوابات نکل کر سامنے آتے ہيں: 1- عمل کی توفیق اللہ کی رحمت سے ملتی ہے۔ سچائی تو یہ ہے کہ اگر اللہ کی رحمت شامل حال نہ ہو تو نہ ایمان کی دولت نصیب ہو اور نہ اطاعت کی سعادت، جن سے کہ نجات ملتی ہے۔ 2- غلام کے منافع آقا کے ہوا کرتے ہيں۔ لہذا اس کا عمل بھی اس کے آقا کا حق ہے۔ ایسے میں آقا اپنے غلام کو جو بھی انعام دے اسے اس کے فضل و کرم کا ہی نام دیا جائے گا۔ 3- کچھ حدیثوں میں آیا ہے فی نفسہ دخول جنت اللہ کی رحمت سے نصیب ہوگا اور درجات کی تقسیم اعمال کی بنیاد پر ہوگی۔ 4- نیکی کے کام کرنے میں تھوڑا سا وقت لگتا ہے، جب کہ اس کے نتیجے میں ملنے والا ثواب دائمی ہوتا ہے۔ اس لیے ختم ہو جانے والے اعمال کے بدلے میں ملنے والا دائمی انعام فضل وکرم ہی کہلائے گا۔ بدلہ نہيں۔
- رافعی کہتے ہيں: کسی بھی عمل کرنے والے کے لیے مناسب نہيں ہوگا کہ نجات اور درجات کے حصول کے سلسلے میں اپنے عمل پر بھروسہ کر لے۔ کیوں کہ اس کے پاس جو اعمال ہیں، وہ اللہ کی توفیق کی بنا پر ہیں اور اگر وہ گناہوں سے محفوظ رہا ہے، تو اسے محفوظ اللہ نے رکھا ہے۔ اس لیے یہ سب کچھ اللہ کے فضل وکرم اور اس کی رحمت کا نتیجہ ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) urges the Companions to offer good deeds and fear Allah as much as they can, with neither extremism nor negligence, and to intend what is right by their deeds through being fully sincere to Allah and complying with the Sunnah so their deeds would be accepted and would be a cause for bestowing mercy upon them.
Then he informed them that none of them would be saved by his deeds alone; rather, there must be Allah's mercy.
They said: O Messenger of Allah, not even you would be saved by your deeds despite their great significance?
He said: Not even me unless Allah conceals me by virtue of His mercy.