سنن ابو داؤد · جامع ترمذی · سنن نسائی · سنن ابن ماجہ · مسند احمد
Sunan Abi Dawud · Jami' at-Tirmidhi · Sunan an-Nasa'i · Sunan Ibn Majah · Musnad Ahmad

لوگ جب ظالم كو ظلم کرتا ہوا دیکھیں اور اسے نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ کی طرف سے ان سب پر عذاب نازل ہوجائے۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3470Sahih صحیح
عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رضي الله عنه أَنَّهُ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تَقْرَؤُونَ هَذِهِ الآيَةَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لاَ يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ}، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ مِنْهُ».
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا : اے لوگو! تم اس آیت کو پڑھتے ہو: "يَا أَيُّها الَّذِين آمَنُوا عَلَيكُم أَنفسَكُم لاَ يَضُرُّكُم مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيتُم۔" (سورہ مائدہ: 105) (اے ایمان والو! اپنی فکر کرو۔ جب تم راهِ راست پر چل رہے ہو، تو جو شخص گمراه رہے، اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔) میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : "لوگ جب ظالم كو ظلم کرتا ہوا دیکھیں اور اسے نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ کی طرف سے ان سب پر عذاب نازل ہوجائے۔"
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Bakr as-Siddīq (may Allah be pleased with him) reported: O people, you recite this verse: {O you who believe, take care of your own selves. Those who have gone astray will not harm you as long as you are guided.} Indeed, I heard the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) say: "When people see an oppressor but do not stop him, Allah will soon overwhelm them with a punishment from Him."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن نسائیSunan an-Nasa'iسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى وابن ماجه وأحمد
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3470

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ لوگ اس آیت کو پڑھتے ہيں :

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لاَ يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: 105]. (اے ایمان والو! اپنی فکر کرو۔ جب تم راهِ راست پر چل رہے ہو، تو جو شخص گمراه رہے، اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔)

اور اس سے یہ سمجھتے ہیں کہ انسان کی ذمے داری بس اپنی اصلاح کی فکر کرنا ہے۔ اگر کوئی گمراہ ہو رہا ہے، تو ہوا کرے۔ اس سے اس کا کچھ نہيں بگڑنے والا۔ ان پر اچھے باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کی ذمے داری عائد نہيں ہوتی۔

انھوں نے بتایا کہ یہ لوگوں کی خام خیالی ہے۔ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : لوگ جب کسی کو ظلم کرتے ہوئے دیکھ کر روکنے کی طاقت ہونے کے باجود اسے نہ روکیں، تو اس بات کا امکان بن جاتا ہے کہ اللہ ان سب پر اپنی جانب سے ایک عام عذاب بھیج دے۔ غلط کرنے والے پر بھی اور خاموش رہنے والے پر بھی۔

حدیث کے فوائد

  • خیرخواہی، اچھے کام کا حکم دینا اور برے کام سے روکنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
  • اللہ کے عقاب کا سامنا ظلم کرنے والے ظالم کو بھی کرنا پڑے گا اور طاقت رکھتے ہوئے اس کے خلاف آواز نہ اٹھانے والے خاموش تماشائی کو بھی۔
  • عوام کو نصوص قرآنی کی تعلیم دینے اور سمجھانے کا کام صحیح طریقے سے ہونا چاہیے۔
  • انسان کو اللہ کی کتاب کو سمجھنے پر خاص توجہ دینی چاہیے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ سمجھے کچھ اور اللہ کی مراد کچھ ہو۔
  • انسان بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے فریضے سے کنارہ کش رہ کر ہدایت یاب نہیں ہو سکتا۔
  • اس آیت کی صحیح تفسیر اس طرح ہے : اپنے آپ کو گناہوں سے بچائے رکھو۔ جب تم نے اپنے آپ کو گناہوں سے بچائے رکھا، تو بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی طاقت نہ رکھنے کی صورت میں گناہوں میں پڑ کر گمراہ ہونے والوں کی گمراہی تمھارے لیے ضرر رساں نہيں ہوگی۔

Explanation

Abu Bakr as-Siddīq (may Allah be pleased with him) informs that people recite the following verse:

{O you who believe, take care of your own selves. Those who have gone astray will not harm you as long as you are guided.} [Surat al-Mā’idah: 105]

and the meaning they grasp therefrom is that one should work on reforming himself alone, bearing in mind that the misguidance of others can never harm him after that and that they are not required to enjoin good or forbid evil.

However, he informed them that this was not the true meaning of the verse and that he heard the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) say: When people see the oppressor and do not stop him from practicing his oppression, despite having the ability to do so, Allah will soon overwhelm all of them, the evildoer and the one remaining silent regarding this, with a punishment from Him.

Topics موضوعات