صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

يا رسول الله! لوگوں کو کیا ہوا کہ انھوں نے احرام کھول دیا ہے، حالاںکہ آپ نے ابھی تک اپنے عمرے کا احرام نہیں…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3496Sahih صحیح
عن حَفْصَة زَوْج النَّبِي رضي الله عنها قالت: «يَا رَسُولَ اللَّه، مَا شَأن النَّاس حَلُّوا مِنَ العُمرَة، وَلَم تَحِلَّ أنت مِنْ عُمْرَتِكَ؟ فَقَال: إنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدتُ هَدْيِي، فَلا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ».
زوجہ رسول ﷺ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا: يا رسول الله! لوگوں کو کیا ہوا کہ انھوں نے احرام کھول دیا ہے، حالاں کہ آپ نے ابھی تک اپنے عمرے کا احرام نہیں کھولاہے؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا: میں نے اپنے سر کے بالوں کو گوندھ رکھا ہے اور اپنی ہدی (قربانی کے جانور) کو قلادہ پہنا رکھا ہے۔ اس لیے میں اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتا (احرام نہیں کھول سکتا)، جب تک اپنی ہدی نحر نہ کر لوں۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Hafsah, one of the Prophet's wives, reported that she said: "O Messenger of Allah, how come the people have ended their state of Ihrām for ‘Umrah while you have not?" He said: "I have applied to my hair that which would make it matted and marked my sacrificial animal, and I will not end my Ihrām until I slaughter."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3496

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نبی ﷺ نے حجۃ الوداع میں عمرہ اور حج کے لیے احرام باندھا، ہدی ساتھ لیا اورسر کے بالوں کو منتشر ہونے سے روکنے کے لیے چپکا لیا؛ کیوں کہ آپ کا احرام لمبا ہونا تھا۔ آپ ﷺ کے کچھ صحابہ نے بھی آپ کے ساتھ احرام باندھ لیا۔ ان میں سے بعض نے عمرہ کے لیے احرام باندھا؛ اس نیت کے ساتھ کہ وہ اسے کھول کر حج کے لیے نیا احرام باندھیں گے۔ اکثر صحابہ اپنے ساتھ ہدی کا جانور نہیں لائے تھے۔ تاہم بعض ہدی کا جانور ہم راہ لائے تھے۔ جب وہ مکہ پہنچے اور طواف و سعی کرچکے، تو آپ ﷺ نے ان لوگوں کو جو ہدی کے جانورساتھ نہیں لائے تھے اور حج افراد اور حج قران کی نیت سے آئے تھے، انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے حج کو فسخ کرتے ہوئے اسے عمرہ بنا لیں اور احرام کھول لیں۔ تاہم خود نبی کریم ﷺ اور وہ لوگ جو اپنے ساتھ ہدی کا جانور لائے تھے، انھوں نے اپنا احرام باقی رکھا اور حلال نہ ہوئے۔ اس پر آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ لوگوں نے کیوں احرام کھول دیا ہے، حالاں کہ آپ نے احرام نہیں کھولا؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا: کیوں کہ میں نے اپنے سر کو گوندھ رکھا ہے (یعنی کسی چپکانے والی شے سے بالوں کو جما رکھا ہے) اور اپنی ہدی کے جانور کو بھی قلادہ پہنا کر ساتھ لایا ہوں، اس وجہ سے میں احرام نہیں کھول سکتا، تاوقتے کہ ہدی اپنے مقام پر پہنچ جائے۔ یعنی حج پورا ہونے کا دن جو کہ یوم النحر ہے آ جائے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) entered the state of Ihrām in the Farewell Pilgrimage for both ‘Umrah and Hajj. He led his sacrificial animal and applied something to his hair that would hold it back from spreading because the period of his Ihrām would be long. Some of his Companions did the same, while some made Ihrām for ‘Umrah (in the months of Hajj) intending to perform Hajj thereafter, and most of them did not lead their sacrificial animals with them, while some of them did. When they arrived at Makkah and made Tawāf and Sa‘i, he ordered those who had not led their sacrificial animals from among those who were performing Hajj only or comibning Hajj and ‘Umrah without a break in between to cancel their Hajj and make it an ‘Umrah only and end their Ihrām. As for him and those who led their sacrificial animals, they remained in the state of Ihrām. Thereupon, his wife Hafsah asked him why people had ended their Ihrām while he had not. He replied: "Because I have applied to my hair that which would make it matted and marked my sacrificial animal and drove it, and this prevents me from ending my Ihrām until the sacrificial animal reaches its place, which is the day that ends Hajj, the Day of Slaughter."

Topics موضوعات