صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

انس رضی اللہ عنہ کی والدہ نے ان سے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا راز ہر گز کسی کو نہ بتانا۔ انس رضی اللہ عنہ نے…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3502Sahih صحیح
عن ثابت عن أنس رضي الله عنه قال: أتى عَلَيَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أَلْعَبُ مع الغِلْمَانِ، فَسَلَّمَ علينا، فبعثني إلى حاجة، فأَبْطَأْتُ على أمي، فلما جِئْتُ، قالت: ما حَبَسَكَ؟ فقلت: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم لحاجة، قالت: ما حاجتُه؟ قلت: إنها سِرٌّ، قالت: لا تُخْبِرَنَّ بِسِرِّ رسول الله صلى الله عليه وسلم أحدًا، قال أنس: والله لو حَدَّثْتُ به أحدًا لحَدَّثْتُكَ به يا ثابت.
ثابت رحمہ اللہ، انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے بیان کیا: میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے ہمیں سلام کیا اور مجھے ایک ضروری کام سے بھیجا۔ مجھے اپنی والدہ کے پاس آنے میں دیر ہو گئی۔ جب میں آیا تو میری والدہ نے پوچھا: کس وجہ سے تم نے آنے میں دیر کردی؟ میں نے جواب دیا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے کسی ضروری کام سے بھیجا تھا۔ انھوں نے دریافت کیا کہ آپ ﷺ کا ضروری کام کیا تھا؟ میں نے کہا: یہ ایک راز ہے۔ اس پر انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کا راز ہر گز کسی کو نہ بتانا۔ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم اے ثابت! اگر میں یہ راز کسی کو بتانے والا ہوتا تو تمھیں ضرور بتادیتا۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Thābit reported that Anas (may Allah be pleased with him) said: "The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) came to me while I was playing with some boys, and he greeted us. Then he sent me on an errand. I was late for my mother, and when I came to her, she said: 'What held you up?' I said: 'The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) sent me on an errand.' She said: 'What was that errand?' I said: 'It is a secret.' She said: 'Do not tell anyone the secret of the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him).'" Anas said: "By Allah, if I were to tell anyone about it, I would have told you about it, O Thābit."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3502

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

ثابت رحمہ اللہ، خادمِ رسول انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کا ان کے پاس سے گزر ہوا جب کہ وہ لڑکوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کیونکہ انس رضی اللہ عنہ چھوٹے بچے تھے۔ آپ ﷺ نے کھیلنے والے ان بچوں کو سلام کیا اور پھر انس ابن مالک رضی اللہ عنہ کو بلا کر انھیں کسی ضروری کام کےلیے بھیج دیا۔ انھیں اپنی والدہ کے پاس آنے میں کچھ دیر ہو گئی۔ جب وہ اپنی والدہ کے پاس آئے تو انھوں نے پوچھا: تمہیں کس وجہ سے دیر ہو گئی؟ انھوں نے جواب دیا کہ مجھے نبی ﷺ نے کسی ضروری کام پر بھیج دیا تھا۔ وہ پوچھنے لگیں کہ آپ ﷺ کا وہ ضروری کام کیا تھا ؟ انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کا راز کسی کو نہیں بتا سکتا۔یعنی میں کسی کو بھی اس راز کے بارے میں نہیں بتاؤں گا۔ اس پر ان کی والدہ نے ان کی تایید، انھیں ان کی بات پر ثابت قدم رہنے اور ان کے عذر کو قبول کرتے ہوئےکہا کہ: رسول اللہ ﷺکا راز ہرگز بھی کسی کو نہ بتانا۔ کیوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے اپنی والدہ کو رسول اللہ ﷺ کا راز بتانے سے انکار کر دیا تھا۔ پھر انس رضی اللہ عنہ نے اپنے شاگرد ثابت البنانی رحمہ اللہ سے فرمایا جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہتے تھے کہ نبی ﷺ نے مجھے جس ضروری کام سے بھیجا تھا اس کے بارے میں اگر میں کسی کو بتاتا تو وہ تم ہوتے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) passed by Anas while he was playing with some boys, as he was a young boy too. So he greeted them while they were playing and then called Anas ibn Mālik (may Allah be pleased with him) and sent him on an errand. This caused him to be late for his mother, and when he came to her, she asked him: "What was it that delayed you?" He said: "The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) sent me on an errand." She asked: "What was his need?" He said: "I am not telling anyone the secret of the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him)." So she said: "Do not tell anyone the secret of the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him)" In support and agreement with him and establishing an excuse for his refusal to tell her the secret of the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him). Then Anas said to his student Thābit al-Banāni, who kept his company: "If I were to inform anyone of the errand that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) sent me on, I would have informed you of it."

Topics موضوعات