مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی تھیں۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3503Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3503)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ نے آپ کو ایسی پانچ چیزیں عطا کی ہیں، جو اللہ نے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی تھیں۔
1- مجھے مدد کے طور پر رعب دیا گیا ہے، جو میرے دشمنوں کے دلوں میں ڈال دیا جاتا ہے، خواہ ان کے اور میرے درمیان ایک مہینے کی مسافت ہی کیوں نہ حائل ہو۔
2- ہمارے لیے پوری زمین کو مسجد بنایا گیا ہے کہ ہم جہاں چاہيں، نماز پڑھ لیں۔ اسی طرح پانی کے استعمال کی قدرت نہ ہونے کی صورت میں اسے پاکی کے حصول کا ذریعہ بھی بنایا گیا ہے۔
3- ہمارے لیے جنگ سے حاصل ہونے والے اموال غنیمت کو حلال کیا گیا ہے۔ اموال غنیمت سے مراد دراصل وہ اموال ہيں، جو مسلمانوں کو کفار سے جنگ کے وقت حاصل ہوتے ہيں۔
4- مجھے قیامت کے دن کی ہول ناکیوں سے لوگوں کو آرام پہنچانے کے لیے شفاعت عظمی دی گئی ہے۔
5- مجھے تمام جنوں اور انسانوں کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔ جب کہ مجھ سے پہلے آنے والے نبی اپنی اپنی قوموں کے لیے نبی بناکر بھیجے جاتے تھے۔
حدیث کے فوائد
- انسان کسی کو بتانے یا اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو گنوا سکتا ہے۔
- اس امت اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر اللہ کا کرم کہ اس نے مذکورہ چیزیں عطا کی ہيں۔
- نماز وقت پر پڑھنا ہر حال میں واجب ہے۔ باقی نماز کی شرطوں، ارکان اور واجبات میں سے انسان جن کی طاقت رکھے گا، انھیں ادا کرے گا۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو خصوصی طور پر جس شفاعت کا حق دیا گیا ہے، اس کی مختلف قسمیں ہیں۔ مثلا بندوں کے لیے اس بات کی شفاعت کہ اللہ ان کے درمیان فیصلہ کر دے، اہل جنت کو جنت میں داخل کرنے کی شفاعت اور آپ کے چچا ابو طالب کے عذاب کو ہلکا کرنے کی شفاعت۔ یاد رہے کہ آپ ابو طالب کو جہنم سے نکالنے کی شفاعت نہيں کریں گے، کیوں کہ ان کا انتقال کفر کی حالت میں ہوا تھا۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اور بھی امتیازی خصائص ہیں، جن کا ذکر اس حدیث میں نہیں ہوا ہے۔ جیسے جامع ترین کلمات میں بات رکھنے کی صلاحیت، آپ پر نبیوں کے سلسلے کا ختم ہو جانا اور ہماری صفوں کو فرشتوں کی صفوں کی مانند قرار دیا جانا اور دیگر خصوصیات۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that Allah granted him five privileges that none of the prophets before him had been granted.
First: I was made victorious through terror that was cast into my enemies' hearts, although a distance of one month's journey separated us.
Second: The earth has been made for us a place of worship where we can pray wherever we are, and it has been made for us a means of purification through dust when water is not an option.
Third: The spoils of war, which Muslims take during their war against the disbelievers, have been made lawful for us.
Fourth: I have been granted the major intercession to relieve people of the horror of the Day of Judgment.
Fifth: "I have been sent to all creation": mankind and jinn, unlike the prophets before him who were sent to their people only.