اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3566Sahih Muslim (HadeethEnc 3566)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے بغل میں سوئی ہوئی تھی کہ رات میں آپ بستر پر نہیں ملے۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے حجرے کی اس جگہ کو ٹٹولا، جہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نماز پڑھا کرتے تھے، تو پایا کہ آپ سجدے کی حالت میں ہیں، آپ کے دونوں قدم کھڑے ہيں اور کہہ رہے ہیں:
"اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ". یعنی اے اللہ! مجھے تیری رضا چاہیے۔ میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ تو مجھ پر یا میری امت پر ناراض ہو جائے۔ "وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ"۔ میں تیرے بے پایاں عفو و درگزر کے ذریعہ تیری سزا سے پناہ مانگتا ہوں۔ "وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ". میں تیری صفات جمالی کے وسیلے سے تیری صفات جلالی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ کیوں کہ تجھ سے پناہ بس تو ہی دے سکتا ہے۔ اللہ کے دربار کے علاوہ نہ کوئی بچ کر نکلنے کی جگہ ہے اور نہ کوئی پناہ گاہ۔ "لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ"۔ میں ہزار کوشش کے باوجود تیری ان نعمتوں اور احسانات کو کما حقہ شمار نہيں کر سکتا، جن سے تونے مجھے نواز رکھا ہے۔ "أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ"۔ تو ویسا ہی ہے، جیسا تونے اپنی تعریف کرتے ہوئے اپنے بارے میں بتایا ہے۔ تونے اپنی تعریف اپنے شایان شان انداز میں کی ہے۔ تیری تعریف کا حق دوسرا کوئی ادا کر نہیں سکتا۔
حدیث کے فوائد
- سجدے میں ان دعاؤں کو پڑھنا مستحب ہے۔
- میرک کہتے ہيں: نسائی کی ایک روایت میں ہے: آپ یہ دعا اس وقت کرتے، جب نماز سے فارغ ہو جاتے اور بستر پر چلے جاتے۔
- اللہ تعالی کی صفات کے ذریعہ اللہ کی حمد وثنا بیان کرنا اور کتاب وسنت سے ثابت شدہ اسمائے گرامی کے ذریعہ اللہ سے دعا کرنا مستحب ہے۔
- رکوع و سجود میں خالق کی تعظیم کرنے کی مشروعیت۔
- جس طرح اللہ پاک وبرتر کی ذات کے ذریعہ پناہ طلب کرنا جائز ہے، اسی طرح اللہ تعالی کی صفات کے ذریعہ پناہ طلب کرنا بھی جائز ہے۔
- خطابی کہتے ہیں: اس دعا کے اندر ایک باریک نکتہ موجود ہے۔ نکتہ یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ سے اس کی ناراضگی سے اس کی رضا کی پناہ مانگی ہے اور اس کی سزا سے اس کے عفو ودرگزر کی پناہ مانگی ہے۔ رضا اور ناراضگی دونوں ایک دوسرے کی ضد ہيں۔ اسی طرح عفو ودرگزر اور سزا بھی ایک دوسرے کی ضد ہيں۔ لیکن جب آپ نے ایسی ہستی کا ذکر کیا، جس کی کوئی ضد نہيں ہے، یعنی اللہ سبحانہ و تعالی کا ذکر کیا، تو بس اسی کی پناہ مانگی۔ کسی اور کی نہيں۔ مطلب یہ کہ اللہ کی کما حقہ عبادت اور اس کی تعریف میں ہونے والی کوتاہی سے مغفرت طلب کی گئی ہے۔ دعا کے الفاظ "لا أحصي ثناء عليك" کے معنی ہیں: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا اور یہ میرے بس کا کام نہيں ہے۔
Explanation
‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) said: I was sleeping beside the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him), and I could not find him at night. I touched the place where he used to pray in the room with my hand and found him prostrating with his feet erect, and he was saying:
(I seek refuge with) and appeal to (Your pleasure from Your wrath) over me or over my Ummah, (and) I seek refuge (with Your pardon) and Your abundant forgiveness (from Your punishment), (And I seek refuge with You from You) and with the attributes of Your beauty from the attributes of Your majesty, as none can grant protection from You except You, and there is no shelter and no refuge from Allah except in Allah. (I cannot enumerate praise of You), and I am incapable and cannot list or count it because of my inability to enumerate Your favor and benevolence in a way that befits You no matter how hard I try. (You are as You have praised Yourself) as it is You Who have praised Yourself in a way that befits You, so who could praise You duly?!