کیا میں تمہیں جنتیوں کے اوصاف نہ بتاؤں؟ ہر کمزور اور متواضع شخص، اگر اللہ پر قسم اٹھا لے، تو اللہ اس کی قسم…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3573Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3573)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہاں اہل جنت اور اہل جہنم کے کچھ اوصاف بیان کیے ہیں۔
اہل جنت کی اکثریت ایسے لوگوں کی ہوگی جو تواضع کے پیکر، اللہ کے آگے جھکنے والے اور اس اس سامنے فروتنی اختیار کرنے والے ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ انھیں کمزور اور کم تر تصور کرتے ہیں۔ لیکن اللہ کے یہاں ان کی عظمت کا حال یہ ہوتا ہے کہ اگر اللہ کے فضل وکرم کی امید میں کوئی قسم کھا لیں، تو اللہ ان کی قسم کی لاج رکھ لے اور ان کے دامن مراد کو بھر دے۔
جب کہ جہنم میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہوگی، جو «عُتُل» یعنی بدخلق اور جھگڑا لو یا ایسے سرکش ہوں گے، جو خیر کی کوئی بات نہ مانیں۔ «جواظ» یعنی گھمنڈی، پیٹ کے پجاری، بھاری بھرکم جسم والے، اکڑ کر چلنے والے اور بدخلق ہوں گے۔ «مستكبر» یعنی ایسے نک چڑھے جو حق کو ٹھکرا دیں اور دوسرے لوگوں کو کم تر دیکھیں۔
حدیث کے فوائد
- اہل جنت کی صفات سے متصف ہونے کی ترغیب اور اہل جہنم کی صفات سے ڈرانا اور خبردار کرنا۔
- تواضع کا اظہار اللہ کے سامنے ہوتا ہے، اس کے اوامر ونواہی اور ان پر عمل کے ذریعہ ہوتا ہے اور مخلوق کے سامنے تواضع اس طرح ہوتا ہے کہ بندہ دوسروں کو کم تر نہ دیکھے۔
- ابن حجر کہتے ہيں: اکثر جنتی یہی لوگ ہوں گے، جیسے کہ جہنم کے اکثر لوگ دوسری قسم کے لوگ ہوں گے۔ یہ بتانا مقصود نہيں ہے کہ دونوں جانب بس یہی لوگ ہوں گے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed about some of the qualities of the dwellers of Paradise and those of Hellfire.
The majority among the dwellers of Paradise are: "Every weak person who is looked down upon," i.e., modest and submissive to Allah Almighty, who humbles himself to Him to the extent that some people may overpower and despise him. If this person, who humbles himself to Allah Almighty, makes an oath by Allah hoping for the generosity of Allah Almighty, He will fulfill it for him and make him realize his oath and will answer his request and supplication.
The majority among the dwellers of Hellfire are: every ‘Utul (cruel), i.e., harsh, rude, vehement disputer, or the indecent person who does no good; Jawāzh (greedy), i.e., the arrogant, gluttonous person who has an enormous body and who walks with a conceited gait and adopts bad morals; and Mustakbir (arrogant) for rejecting the truth and looking down upon others.