صحیح مسلم
Sahih Muslim

کیا میں تمہیں ایسی چیزیں نہ بتاؤں، جن سے اللہ تعالی گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند کر دیتا ہے؟

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3574Sahih صحیح
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟» قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں ایسی چیزیں نہ بتاؤں، جن سے اللہ تعالی گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند کر دیتا ہے؟" صحابہ نے عرض کیا : ضرور، اے اللہ کے رسولﷺ؟ آپﷺ نے فرمایا : "ناگواری کے باوجود اچھی طرح وضو کرنا، مسجد تک زیادہ قدم چلنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور یہی رباط ( دشمنوں سے حفاظت کے لیے سرحد کی پہرہ داری کرنا ) ہے"۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Shall I not guide you to what Allah erases the sins and elevates the ranks with?" They said: Yes, O Messenger of Allah. He said: "Performing ablution thoroughly despite the hardships, frequent steps to mosques, and waiting for one prayer after another; such is the Ribāt (garrison)."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: رواه مسلم
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3574

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ سے پوچھا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ان کی رہ نمائی ایسے اعمال کی جانب کی جائے، جو گناہوں کی بخشش، ان کو انسان کے اعمال لکھنے والے فرشتوں کے رجسٹر سے مٹا دیے جانے اور جنت میں اونچے درجات کے سبب بنتے ہوں؟

صحابہ نے عرض کیا : ضرور رہنمائی فرمائيں۔ آپ نے فرمایا :

1- پریشانی، جیسے ٹھنڈی، پانی کی کمی، جسمانی تکلیف اور پانی گرم ہونے کے باوجود پورے طور پر اور اچھی طرح وضو کرنا۔

2- مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنا۔ اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ مسجد سے گھر دور ہو یا مسجد آنا جانا زیادہ ہو۔ حدیث میں آئے ہوئے لفظ "الخُطا" کے معنی دو قدموں کے درمیان کی دوری کے ہيں۔

3۔ نماز کے وقت کا انتظار کرنا، اس میں دل کا اٹکا رہنا، اس کی تیاری کرنا اور اس کے لیے جماعت کے انتظار میں مسجد کے اندر بیٹھا رہنا۔ ایک نماز پڑھ لینے کے بعد مسجد میں بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرنا۔

اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ دراصل یہی اعمال حقیقی مرابطہ (دشمن سے حفاظت کے لیے سرحد کی پہرے داری) ہیں۔ کیوں کہ یہ نفس کی طرف آنے والے شیطانی راستوں کو بند کرتے ہيں، خواہشات کو مغلوب کرتے ہيں اور نفس کو وسوسے قبول کرنے سے روکتے ہيں۔ اس طرح اللہ کا لشکر شیطان کے لشکر پر فتح یاب ہوتا ہے۔

حدیث کے فوائد

  • مسجد میں نماز باجماعت کی پابندی کرنے، نمازوں کا اہتمام کرنے اور ان سے غفلت نہ برتنے کی فضیلت و اہمیت۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بہترین پیش کش اور اپنے صحابہ کو شوق دلانے کا عمدہ انداز کہ آغاز سوال کے انداز میں ایک بڑے ثواب سے کیا۔ دراصل یہ تعلیم کا ایک کارگر طریقہ ہے۔
  • سوال و جواب کے ذریعے کسی مسئلے کو پیش کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ کسی بات کو پہلے مبہم طور پر رکھنے اور اس کے بعد اس کی وضاحت کرنے سے بات دل میں نقش زیادہ ہوتی ہے۔
  • نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہی رباط ہے۔ یعنی یہی وہ رباط ہے، جس کی ترغیب دی گئی ہے۔ رباط کے اصل معنی کسی چیز پر روکے رکھنے کے ہیں۔ اس طرح کے انسان نے گویا خود کو طاعت و بندگی پر روک لیا۔ اس بات کی بھی گنجائش ہے کہ مراد یہ ہو کہ یہی افضل رباط ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے: جہاد در اصل نفس سےجہاد کرنا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد ممکن اور میسَّر رباط ہو۔ یعنی یہ کام کرنا بھی رباط کی ایک قسم ہے۔
  • لفظ رباط کا مکرر استعمال کیا گیا ہے اور اس پر "ال" لگایا گیا ہے جو کہ معرفہ بنانے کے لئے ہوتا ہے، تاکہ ان اعمال کی اہمیت وعظمت کو اجاگر کیا جائے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) asked his Companions if they wanted him to guide them to deeds that would be a means of forgiving sins and erasing them from the records of the guardian angels and elevating ranks in Paradise.

The Companions said: Yes, we want this. He said:

First: Completing and perfecting the ablution despite hardships like coldness, scarcity of water, physical pain, and hot water.

Second: Frequent steps—distance between the two feet—made to mosques, given the remoteness of the house from the mosque and the frequent repetition.

Third: Waiting for the time when the prayer becomes due, having one's heart attached to it, getting ready for it, and sitting in the mosque for its sake, waiting for the congregation. Then, on performing the prayer, one stays in his prayer area waiting for another prayer.

After that, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) clarified that such things represent the real Ribāt (standing at the frontline of danger against the enemy) because it blocks the devil's ways to the self, overpowers personal desires, and prevents the self from accepting the devil's whispering. This way, the party of Allah defeats the devil's soldiers, which is the major Jihad, and that puts it in the same position of standing guard at the frontline against the enemy.

Topics موضوعات