”کیا میں تمھیں ایسا عمل نہ بتاؤں جو تمھارے سارے اعمال سے بہتر، تمھارے مالک کے ہاں سب سے زیادہ پاکیزہ، تمھارے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- جامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: رواه الترمذي وابن ماجه وأحمد
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3575Jami' at-Tirmidhi & Sunan Ibn Majah & Musnad Ahmad (HadeethEnc 3575)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا:
کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمھیں بتادوں کہ تمھارے عزیز وبرتر مالک کے یہاں تمھارا کون سا عمل سب سے افضل، اشرف اور پاکیزہ ترین ہے؟
جنت میں تمھارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا ہے؟
اور جو تمھارے لیے سونا اور چاندی صدقہ وخیرات کرنے سے بہتر ہے؟
اسی طرح جو تمھارے لیے اس بات سے بھی بہتر ہے کہ میدان جنگ میں تمھارا سامنا کفار سے لڑائى کے لئے ہو اور تم ان کی گردنیں مارو اور وہ تمھاری گردنیں ماریں؟
صحابہ نے جواب دیا : ہم ضرور بالضرور اس چیز کو جاننا چاہتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : تمام اوقات اور تمام حالات میں اللہ کا ذکر کرنا۔
حدیث کے فوائد
- ہمیشہ ظاہری وباطنی ہر طرح سے اللہ تعالی کا ذکر کرتے رہنا عظیم ترین تقرب اور اللہ تعالی کے نزدیک مفید ترین عبادت ہے۔
- تمام اعمال اللہ کے ذکر کے لیے مشروع کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے: "نماز میرے ذکر کے لیے قائم کرو۔" اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "خانۂ کعبہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی اللہ کا ذکر قائم کرنے کے لیے مشروع کی گئی ہے۔" اس حدیث کو امام ابو داود اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
- عز بن عبد السلام اپنے قواعد میں کہتے ہيں: یہ حدیث ان نصوص میں سے ہے، جو دلالت کرتے ہيں کہ ثواب تمام عبادتوں میں تکان کے بہ قدر ہی نہیں ملتا۔ کبھی کبھی اللہ تھوڑے اعمال میں کثیر اعمال سے زیادہ ثواب عطا کرتا ہے۔ ثواب اعمال کے شرف ومنزلت میں رتبوں کے تفاوت کے اعتبار سے ملتا ہے۔
- مناوی فیض القدیر میں کہتے ہیں : اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ذکر ان لوگوں کے حق میں افضل تھا، جو اس وقت آپ کے سامنے موجود تھے۔ سامنے اگر ایسے بہادر لوگ موجود ہوتے، جو میدان جنگ میں پہنچ کر اسلام اور مسلمانوں کے حق میں مفید ہوتے، تو انھیں جہاد افضل عمل بتایا جاتا۔ اگر ایسے مال دار لوگ موجود ہوتے، جن کے مال سے غریبوں کو فائدہ ہوتا، تو انھیں افضل عمل صدقہ بتایا جاتا۔ حج کرنے کی طاقت رکھنے والے لوگ موجود ہوتے، تو ان کو حج افضل عمل بتایا جاتا۔ اگر ایسے لوگ ہوتے، جن کے والدین موجود ہوتے، تو انھیں ان کی خدمت کرنا افضل عمل بتایا جاتا۔ اس سلسلے میں وارد مختلف حدیثوں کے درمیان تطبیق دینے کا یہی طریقہ ہے۔
- کامل ترین ذکر وہ ہے، جو زبان سے کیا جائے اور ساتھ میں دل غور و فکر کرے، پھر اس ذکر کا درجہ آتا ہے، جو دل سے کیا جائے، جیسے غور و فکر اور پھر وہ ذکر جو صرف زبان سے کیا جائے۔ بہر صورت ذکر ثواب کا کام ہے۔
- ایک مسلمان کو مختلف اوقات کے اذکار، جیسے صبح و شام کے اذکار، مسجد، گھر اور بیت الخلا میں داخل ہونے اور نکلنے وغیرہ کے اذکار کا اہتمام کرنا چاہیے، جن کا اہتمام انسان کو کثرت سے اللہ کو یاد کرنے والوں کی صف میں لا کھڑا کر دیتا ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) asked his Companions:
Do you want me to tell you and inform you of the best of your deeds, the most honorable, the most fruitful, the most virtuous, and the purest in the sight of Allah Almighty, the Owner?
Deeds that are the highest in terms of your ranks in Paradise?
And that are better for you than giving gold and silver in charity?
And better for you than encountering the disbelievers in a battle and striking their necks and having them strike yours?
The Companions said: Yes, we want this.
He (may Allah's peace and blessings be upon him) said: Dhikr of Allah Almighty at all times, in all postures, and all circumstances.