ایک شخص نے نبی ﷺ سے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے آنے کی اجازت دے دو۔ یہ اپنے قبیلے کا بہت ہی…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3688Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3688)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ایک آدمی نے نبی ﷺ سے اندر داخل ہونے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے آنے دو، یہ اپنے قبیلے کا بہت ہی برا شخص ہے، یا آپ ﷺ نے ”أخو العشيرة“ کی بجائے ”ابْن العشيرة“ فرمایا۔ جب وہ آ بیٹھا تو آپ ﷺ اس کے ساتھ بہت خندہ روئی اور خوش مزاجی سے پیش آئے۔ اس آدمی کے چلے جانے کے بعد ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ نے اس آدمی کو دیکھا تھا تو آپ نے ایسے کہا تھا جب کہ بعد ازاں آپ اس سے بہت خندہ روئی اور خوش مزاجی سے پیش آئے ہیں، (اس کی کیا وجہ ہے؟)۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! تم نے مجھے بد گو کب پایا ہے؟ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے برا شخص وہ ہو گا جس سے لوگ اس کے شر سے بچنے کے لئے کنارہ کشی کرلیں۔
یہ شخص فسادی اور فتنہ انگیز لوگوں میں سے تھا اس لئے آپ ﷺ نے اس کی غیر موجودگی میں اس کا ذکر اس انداز میں کیا جس کا وہ حق دار تھا اور فرمایا کہ وہ اپنے قبیلہ کا بدترین شخص ہے۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو اس کی فتنہ انگیزی پر متنبہ کرنے کے لئے یہ فرمایا تا کہ وہ اس سے دھوکہ نہ کھا بیٹھیں۔ چنانچہ جب آپ بھی کسی ایسے شخص کو دیکھیں جو برا اور گمراہ ہو لیکن اس نے اپنی فصاحت کی بدولت لوگوں کو مسحور کر رکھا ہو تواس صورت میں آپ کے لئے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ یہ شخص برا ہے تاکہ لوگ اس سے دھوکہ نہ کھا لیں۔ کتنے ہی ایسے چرب زبان اور فصیح الکلام لوگ ہوتے ہیں جن کا ڈیل ڈول آپ کو بہت بھاتا ہے اور جب وہ کوئی بات کرتے ہیں تو اسے آپ بغور سنتے ہیں لیکن ان میں خیر نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ایسے شخص کی حقیقتِ حال کو بیان کرنا واجب ہے۔ باقی رہا آپ ﷺ کا اس شخص کے ساتھ نرمی کے ساتھ پیش آنا تو یہ مدارات (دل رکھنے) کے قبیل سے تھا۔ اہل علم کےنزدیک دوسروں کے ساتھ برتاؤ میں مدارات ضروری ہے بخلاف مداہنت کے۔ اس سے مراد وہ مداہنت ہے جس کی وجہ سے کسی واجب سے دستبردار ہونا پڑے یا پھر کسی ممنوعہ کام سے چشم پوشی ہو یا کسی حرام کا ارتکاب ہو۔ ایسا کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ﴾ [سورة القلم: 9] ”وہ تو چاہتے ہیں کہ کہیں آپ نرمی کریں تو وہ بھی نرمی کریں“۔ جب کہ مدارات اور لوگوں کے ساتھ اس انداز میں برتاؤ کرنا جس سے مصلحت کا حصول ہو اور اس سے کوئی برائی بھی مرتب نہ ہوتی ہو تو یہ ایک مشروع عمل ہے۔
Explanation
A man asked permission to see the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him). So he said: "Let him in. What an evil brother -or son- of his people he is!" When the man sat with him, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was cheerful and at ease with him. When the man left, ‘Ā’ishah said to him: "O Messenger of Allah, when you saw the man you said such and such about him, but then you met him with a cheerful face and you were at ease with him!" The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "O ‘Ā’ishah, when have you known me to be rude? The worst person in the sight of Allah on the Day of Resurrection is the one whom people avoid for their evil." That man was evil, and that was the reason why the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said about him in his absence what he deserves in order to warn people of his evil so that they would not be deceived by him. So if you see a person who is wicked and corrupt but has enchanted people with his eloquence, it is your duty to expose his corrupt character to people so that they would not be deceived by him. How many a man with an eloquent tongue and impressive style whom when you see you admire his figure and when he speaks you listen to his speech, but there is no good in him, so it is a duty to make this known to people. As to being nice to the man, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) did so in order to appease him. Scholars stated that appeasement is required in dealing with others, unlike adulation and compromise. Compromise that leads to forfeiting a religious obligation or committing a prohibition or overlooking it is absolutely impermissible; Allah, the Almighty, said: {They wish that you should compromise (in religion out of courtesy) with them, so they (too) would compromise with you} [Sūrat al-Qalam: 9]. As to appeasement and treating people in a way that realizes benefit and does not lead to the slightest harm, it is legitimate.