مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے جسے اگر میں کرتا رہوں، تو جنت میں داخل ہوجاؤں۔ آپ ﷺنے فرمایا : ’’اللہ کی عبادت…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3689Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3689)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
دیہات کا رہنے والا ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا، تاکہ آپ اسے کوئی ایسا عمل بتا دیں، جو اسے جنت میں داخل کر دے۔ لہذا آپ نے اسے بتایا کہ جنت میں داخل ہونے اور جہنم سے نجات پانے کی سعادت موقوف ہے ارکان اسلام کی ادائیگی پر، جو اس طرح ہیں : ایک اللہ کی عبادت کرنا اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرانا، پانچ وقت کی نمازیں قائم کرنا، جنہیں اللہ نے دن ورات میں اپنے بندوں پر فرض کیا ہے۔ مال کی جو زکاۃ واجب ہے‘ اسے نکال کر مستحقین کو دینا، وقت پر ماہ رمضان کے روزوں کی پابندی کرنا۔ اتنا سننے کے بعد وہ شخص بولا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں آپ سے سنے ہوئے فرض اعمال سے نہ زیادہ کروں گا اور نہ کم۔ لہذا جب وہ شخص جانے لگا، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جسے کو کوئی جنتی انسان ديکھنا پسند ہو، تو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔
حدیث کے فوائد
- دعوت کے کام کا آغاز ایک اللہ کی عبادت سے ہونا چاہیے۔
- نئے نئے مسلمان ہونے والے انسان کو صرف واجبات سکھانے پر اکتفا کرنا چاہیے۔
- یہ ضروری ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام بہ تدریج انجام دیا جائے۔
- آدمی کو اپنے دین کی بات سیکھنے کا حریص ہونا چاہیے۔
- صرف واجبات کی ادائیگی سے بھی انسان کام یاب ہو جائے گا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان نوافل کی ادائيگی میں سستی سے کام لے۔ کیوں کہ نوافل کے ذریعے فرائض میں رہ جانے والی کمیوں کو پورا کیا جاتا ہے۔
- بطور خاص بعض عبادتوں کا ذکر ان کی اہمیت اور وجوب کی دلیل ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دیگر عبادتیں واجب نہیں ہیں۔
Explanation
A Bedouin came to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) to guide him to a deed that would make him enter Paradise. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) answered him saying that being admitted to Paradise and saved from Hellfire are contingent on observing the pillars of Islam, which include worshipping Allah alone without associating partners with Him, establishing the five prayers that Allah has made obligatory upon His slaves every day and night, paying Zakah due on your wealth that Allah has made obligatory upon you and giving it to those entitled to have it, and maintaining the fast during the month of Ramadān in its due time. The man said: By the One in Whose Hand my soul is, I shall not add any act of obedience to these obligatory acts, which I heard from you, or deduct anything therefrom. When the man left, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: Whoever is pleased to look at a man from the dwellers of Paradise, let him look at this Bedouin.