اے حکیم! بلا شبہ یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے۔ پس جس نے اسے دلى سخاوت کے ساتھ لیا، اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
حکیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس پر میں نے کہا کہ یارسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کربھیجا ہے! میں آپ کے بعد کسی سے کچھ نہیں مانگوں گا، یہاں تک کہ دنیا کو چھوڑ جاؤں ۔ چنانچہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حکیم رضی اللہ عنہ کو کوئی شے دینے کے لیے بلاتے، تو وہ لینے سے انکار کردیتے تھے ۔ بعد ازاں عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دینے کے لیے بلایا، لیکن انھوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے مسلمانو ! میں حکیم کے معاملے میں تمھیں گواہ بناتا ہوں کہ اس مال فے میں اللہ کی طرف سے ان کا جو مقررہ حق ہے، میں نے اسے ان کے سامنے پیش کیا، لیکن انھوں نے اسے لینے سے انکار کردیا ۔ تاوقت وفات حکیم رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے بعد لوگوں میں سے کسی سے کچھ نہ مانگا۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3703Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3703)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
مفہوم حدیث: حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کچھ مال مانگا۔ آپ ﷺ نےا نھیں مال دے دیا۔ انھوں نے پھر مانگا، تو آپ ﷺ نے پھر دے دیا۔ پھر مانگا، تو آپ ﷺ نے انھیں پھر دے دیا اور اس کے ساتھ ہی آپ ﷺ نے فرمایاکہ اے حکیم: "یہ مال بہت سرسبز اور میٹھا ہے" ۔ یعنی یہ بہت محبوب و مرغوب ہے ۔ دل اسے پسند کرتے ہیں اور طبعی طور پر اس کی طمع رکھتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی، جیسے دل کو تروتازہ پھل، خوش نما منظر اور خوش ذائقہ مٹھائی پسند ہوتی ہیں۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اسے سخاوت دل کے ساتھ لیا“ یعنی جس نے مال اس طرح حاصل کیا کہ دل صاف ہو، اصرار، لالچ اور شدیدخواہش کی آمیزشنہ ہو۔ ”اس کے لیے اس میں برکت رکھ دی جاتی ہے“ یعنی اللہ تعالی اس میں برکت ڈال دیتے ہیں اوریوں وہ بڑھتا اور زیادہ ہوتا چلا جاتا ہے، اگرچہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، اورایسے شخص کو قناعت دے دی جاتی ہے۔ وہ دل کا تونگر ہو جاتا ہے۔ اس کا دل پر سکون رہتا ہے اور وہ اس مال کے ساتھ سعادت مندانہ زندگی گزارتا ہے۔
”جو شخص دل کے لالچ کے ساتھ اسے لیتا ہے“ یعنی اس کے دل میں مال کی شدید خواہش بسی ہوتی ہے، وہ اسے حاصل کرنے کے درپے رہتا ہے اوراس کے اندر لالچ کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ ”تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی“۔ یعنی اللہ تعالی اس مال سے برکت نکال لیتےہیں اورایسے شخص کو قناعت سے محروم کردیتے ہیں اور یوں وہ ہمیشہ دل کا فقیر ہی رہتا ہے، چاہے اسے پوری دنیا کے خزانے ہی کیوں نہ دے دیے جائیں ۔ مسلم شریف میں اسی معنی کی ایک اور حدیث بھی ہے، جس میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو فقط خازن ہوں۔ جسے میں خوش دلی سے دیتا ہوں، اس کے لیے اس میں برکت رکھ دی جاتی ہے اور جو شخص اسے مانگ کر اور لالچ کے ساتھ مجھ سے لیتا ہے، وہ اس شخص کی مانند ہوتا ہے، جو کھاتا تو ہے، لیکن سیر نہیں ہوتا“۔ ”وہ اس شخص کی مانند ہوتا ہے، جو کھاتا تو ہے، لیکن سیر نہیں ہوتا“ یعنی اس حریص شخص کی مانند ہوتا ہے، جو جتنا بھی کھائے اس کا پیٹ نہیں بھرتا۔
جب میلان نفس کے ساتھ لینے کا یہ حال ہے، تو اس شخص کا کیا حال ہوگا، جو مانگ مانگ کر لیتا ہے۔ اس کا حال تو اس سے بہت ہی گیا گزرا ہوگا۔ اسی لیے نبی ﷺ نے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا:”اس مال میں سے اگر کچھ تمھارے پاس بغیر کسی نفسی میلان اور بن مانگے آجائے، تو اسے لے لو اور جو نہ آئے، اس کے پیچھے اپنے دل کو نہ لگاؤ“ یعنی جس ملنے والے مال میں تمھارے نفس کا میلان ہو اور اس میں رغبت و اشتیاق ہو، اسے مت لو اور اسی طرح جو مانگنے پر آئے، اسے بھی مت لو۔
”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ اسے بہتر ہے“ یعنی نہ مانگنے والا ہاتھ مانگنے والے ہاتھ سے بہترہے ۔ کیوںکہ اس نے اپنے آپ کو مانگنے کی ذلت سے بچا لیا، اس ہاتھ کے برعکس جس نے اپنے آپ کو ذلت میں ڈال کر اپنی قدروعزت میں خود ہی کمی کی۔
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اس ذات کی قسم اٹھائی، جس نے نبی ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، اس بات پر کہ وہ آپ ﷺ کے بعد کسی سے کچھ نہیں مانگیں گے ۔انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! جس ذات نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، اس کی قسم! میں آپ کے بعد کسی سے کچھ نہیں مانگوں گا، یہاں تک کہ دنیا چھوڑ جاؤں۔
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی، تو وہ انھیں کچھ دینا چاہتے، لیکن وہ اسے قبول نہیں کرتے تھے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد جب عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی تو انھوں نے آپ کو بلوایا، تاکہ انھیں کچھ دے سکیں، لیکن انھوں نے لینے سے انکار کردیا ۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو گواہ بناتے ہوئے کہا: گواہ رہو کہ میں انھیں مسلمانوں کے بیت المال سے دینا چاہتا ہوں، لیکن وہ قبول نہیں کرتے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا اس لیے کہا کہ روزقیامت اللہ کے سامنے ان کی عمر رضی اللہ عنہ پر کوئی حجت باقی نہ رہے اور وہ لوگوں کے سامنے اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوجائیں۔ تاہم پھر بھی حکیم رضی اللہ عنہ ان سے کچھ نہ لینے پر مصررہے، یہاں تک کہ وفات پاگئے۔
Explanation
Hakīm ibn Hizām (may Allah be pleased with him) asked the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) for some of the worldly goods, and he gave them to him. Then he asked again, and the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) gave him. Then the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said to him: O Hakīm, this wealth is sweet and tempting. Whoever receives it without asking and takes it without greed or insistence, it will be blessed for him. But whoever takes it out of craving and desire, it will not be blessed for him—he will be like the one who eats but is never satisfied. And the upper hand that gives is better in the sight of Allah than the lower hand that asks. Hakīm said: I said: O Messenger of Allah, by the One Who sent you with the truth, I will never again ask anyone for anything after you until I depart this world. The successor of the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him), Abu Bakr (may Allah be pleased with him), would call Hakīm to give him his share (from the treasury), but he would refuse to accept anything. Then the Commander of the Believers, ‘Umar (may Allah be pleased with him), also called him to give him something, but he likewise refused to accept it. So ‘Umar said: O Muslims, I offer him his rightful share—that which Allah has allotted to him from the spoils of war obtained without fighting—yet he refuses to take it. Hakīm never took anyone's wealth by asking after the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) until he passed away (may Allah be pleased with him).