ہم ایک غزوے میں رسول اللہﷺ کے ہمراہ ںکلے۔ ہم چھ آدمی تھے اور ہمارے درميان ایک ہی اونٹ تھا جس پرہم باری باری…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3704Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3704)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
حدیث کا مفہوم: یہ ہے کہ ابوموسی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ساتھ ایک غزوے میں نکلے۔ ان کے ساتھ ان کے کچھ اور ساتھی بھی تھے جن کی تعداد چھے تھی۔ ان کے پاس ایک اونٹ تھا جس پر وہ باری باری سوار ہوتے، چنانچہ ان میں سے ایک آدمی کچھ فاصلے تک اس پر سوار ہوتا، پھر جب اس کی باری ختم ہوجاتی تو وہ اونٹ سے اتر جاتا اور دوسرا اس پر سوار ہوجاتا۔ اسى طرح سے وہ باری باری سوار ہوتے رہے یہاں تک کہ اپنی منزل مقصود تک پہنچ گئے۔
'' اس سے ہمارے پاؤں زخمی ہوگئے تھے، میرا پاؤں بھی زخمی ہوگيا تھا اورميرے ناخن گرگئے تھے۔'' ایسا صحرائی علاقے میں ایک لمبی مسافت تک پیدل چلنے کی وجہ سے ہوا۔ پاؤں پھٹنے پر ان کے پاس کوئی ایسی چيز بھی نہیں تھی جسے وہ لپیٹ لیتے۔ چنانچہ وہ ننگے پاؤں ہی چلتے رہے جس سے انہیں بہت تکلیف ہوئی، تاہم وہ اپنے سفر سے رکے نہیں بلکہ دشمن کا سامنا کرنے کے لئے رواں دوں رہے۔
”ہم اپنے پاوں پر چیتھڑے لپیٹتے تھے“ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ طولِ مسافت اور زمین کی قوت وسختی کی وجہ سے ان کے جوتے پھٹ گئے تھے۔ تو وہ اپنے پاؤں پر چیتھڑے لپیٹتے تھے تاکہ زمین کی سختی اور گرمی سے انہیں محفوظ رکھ سکیں۔
”اس غزوے کا نام غزوۂ ذات الرقاع (چیتھڑوں والا غزوہ) پڑ گیا۔ کیونکہ ہم اپنے پاؤں پر چیتھڑے باندھ رکھے تھے“ یعنی رسول اللہﷺ کے اس غزوے کا نام بعد ميں غزوہ ذات الرقاع پڑگیا۔ اور يہ اس کی ايک وجہ تسميہ ہے۔
ابوبردہ کہتے ہیں: ”ابوموسی نے يہ حدیث بیان کی، پھر اسے نا پسند فرمايا اور فرمايا کہ ميں اسے بيان کرنا نہيں چاہتا تھا! ابو بردہ کہتے ہيں: گويا انہيں يہ بات ناپسند آئی کہ اپنے کسی عمل کو ظاہر کریں“ اس كا مطلب يہ ہے کہ ابوموسی رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد اس بات کی تمنا کی کہ کاش انہوں نے اسے بیان نہ کیا ہوتا کیونکہ اس میں خود ستائی کا اظہار ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ نیک عمل کو چھپانا اس کے اظہار سے افضل ہے الا يہ کہ اس کے اظہار میں کوئی مصلحت راجحہ ہو، مثلا بیان کرنے والا ایسا شخص ہو جس کی لوگ اقتدا کرتے ہوں۔ ایک دوسرى حدیث میں ہے: ”فَأَخْفَاهَا حَتَّى لا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ“. يعنى اس نے اسے (صدقہ کو) چھپاکر ديا یہاں تک کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی علم نہ ہوسکا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے ۔ متفق علیہ
Explanation
Hadīth explanation: Abu Mūsa (may Allah be pleased with him) and some of his companions went on a military expedition with the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him). They were six men and had only one camel that they would take turns riding it, until they reached their destination. Their feet got injured from walking for a long distance through the desert, to the extent that Abu Mūsa's toenails fell off. They did not have anything to cover their feet with because their sandals were torn on the way, so they were walking barefoot. Hence, their feet were terribly injured but they still kept walking to meet the enemy. They would wrap rags around their feet, which proves that their footwear was ruined from walking so far on a rugged terrain. This was one of the reasons for naming this expedition: the battle of Dhāt Ar-Riqā‘. Abu Mūsa reported this Hadīth but later regretted having mentioned it because he disliked to disclose any of his good deeds. This means that Abu Mūsa after mentioning this Hadīth wished that he had never mentioned it, because of what it implies of self praise, and because hiding good deeds from others is recommended, unless the benefit for revealing the deeds outweighs concealing it, such as if it is performed by someone who is an example for others. A relevant Hadīth in this regard reads: "So he concealed giving out charity so much that his left hand does not know what his right hand gives out." [Al-Bukhāri and Muslim]