صحیح بخاری
Sahih al-Bukhari

رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگوں کا وحی کے ذریعہ مواخذہ ہو جاتا تھا۔ لیکن اب چونکہ وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا اس…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
4234Sahih صحیح
عن عبد الله بن عتبة بن مسعود، قال: سمعت عمر بن الخطاب رضي الله عنه يقول: إن ناسا كانوا يُؤْخَذُونَ بالوحي في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وإن الوحي قد انقطع، وإنما نأخذكم الآن بما ظهر لنا من أعمالكم، فمن أظهر لنا خيرًا أَمَّنَّاهُ وقَرَّبْنَاهُ، وليس لنا من سريرته شيء، الله يحاسبه في سريرته، ومن أظهر لنا سوءًا لم نأمنه ولم نصدقه وإن قال: إن سريرته حسنة.
عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگوں کا وحی کے ذریعہ مواخذہ ہو جاتا تھا۔ لیکن اب وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا اس لیے ہم اب تمہارےظاہری اعمال کے مطابق تمہارا مواخذہ کریں گے۔ جو کوئی ظاہر میں ہمارے سامنے خیر کرے گا، ہم اسے امن دیں گے اور سے اپنے قریب کریں گے اور اس کے باطن سے ہمیں کوئی سروکار نہ ہو گا۔ اس کے باطن کا حساب تو اللہ تعالیٰ کرے گا اور جو کوئی ہمارے سامنے ظاہر میں برائی کرے گا تو ہم بھی اسے امن نہیں دیں گے اور نہ ہم اس کی تصدیق کریں گے اگرچہ وہ یہ کہے کہ اس کا باطن تو اچھا ہے۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdullāh ibn ‘Utbah ibn Mas‘ūd reported: I heard ‘Umar ibn al-Khattāb (may Allah be pleased with him) say: "People were judged by the divine revelation during the lifetime of the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) but the divine revelation has ceased. Now, we only judge you by what is apparent to us from your deeds. Whoever appears to be good, we trust and honor him, and what he does in secret is no concern of ours, for Allah will judge him for what he does in secret. Whoever appears to be evil, we will not trust or believe him, even if he says that his intentions are good."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #4234

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب وحی کے نزول کا وقت تھا اس وقت اگر کوئی اپنی بد باطنی کو مخفی رکھتا تو اس کا معاملہ وحی نازل ہونے کی وجہ سے نبی ﷺ سے پوشیدہ نہیں رہتا تھا کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں منافق لوگ موجود تھے جو اظہار تو اچھائی کا کرتے لیکن ان کے باطن میں شر ہوتا تھا۔ تاہم اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ پر نازل کی جانے والی وحی کے ذریعے سے ان کو رسوا کر دیتا لیکن اب چونکہ وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے چنانچہ اب لوگوں کو منافق کا علم نہیں ہو سکتا کیونکہ نفاق دل میں ہوتا ہے۔
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اب ہم تمہارے اعمال کے ظاہر پر تمہارا مواخذہ کریں گے۔ چنانچہ ظاہری طور پر جس کا عمل اچھا ہو گا اس سے ہم اچھا معاملہ روا رکھیں گے اس لیے ہمارے سامنے اس نے اچھے پہلو کو ظاہر کیا ہے اگرچہ باطنی طور پر وہ برائی کو مخفی رکھے اور جس نے برائی کو ظاہر کیا اس سے ہم اس برائی کےمطابق معاملہ کریں جو اس نے ظاہر کی ہے اور اس کی نیت جاننے کی ذمہ داری ہم پر نہیں ہے۔ نیت کا معاملہ رب العالمین عز و جل کے سپرد ہے جو انسانی نفس کے وسوسوں سے خوب واقف ہے۔

Explanation

‘Umar ibn al-Khattāb (may Allah be pleased with him) spoke about the one who concealed evil intentions at the time of divine revelation, and how that was made known to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) through the revelation. During the time of the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) some people were hypocrites, pretending to be good while concealing evil. However, Allah, the Exalted, exposed them through the revelation to His Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him). When the revelation ceased, people were incapable of knowing the hypocrites, because hypocrisy is in the heart. He thus said that they started judging people by what appears to them. So whoever appeared to be good, they dealt with him according to what he showed, even if he had evil intentions. Whoever appeared to be evil, they dealt with him according to the evil he showed, and they were not responsible for his intention. The intention is entrusted to the Lord of the Worlds, Exalted and Glorified, who knows what one's inner self whispers to him.

Topics موضوعات