Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim صحیح بخاری · صحیح مسلم

جب دو مسلمان تلواریں سونت کر ایک دوسرے کے مد مقابل آجائیں، تو قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہوں گے

عن أبي بَكرة رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ»، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟ قَالَ: «إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ».
ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : "جب دو مسلمان تلواریں سونت کر ایک دوسرے کے مد مقابل آجائیں، تو قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہوں گے۔" میں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! یہ شخص تو قاتل ہے (اس لیے جہنمی ہوا)، مقتول کا کیا قصور ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ بھی اپنے مد مقابل کو قتل کرنا چاہتا تھا“۔
Abu Bakrah (may Allah be pleased with him) reported: I heard the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) say: "When two Muslims meet to fight each other with their swords, both the killer and the killed are doomed to Hellfire." I said: "O Messenger of Allah, that is the case with the killer, but what about the killed one?" He said: "Indeed, he was keen to kill his companion."

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق عليه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #4304

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی ﷺ بتا رہے ہيں کہ جب دو مسلمان اپنے اپنے ہاتھ میں تلوار لے کر ایک دوسرے کے مد مقابل آ جائیں اور دونوں ایک دوسرے کی جان لینے پر آمادہ ہوں، تو قاتل اپنے بھائی کا قتل کرنے کی وجہ سے جہنمی ہوگا۔ صحابہ کو حدیث میں کہی گئی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ مقتول کیوں جہنم میں جائے گا؟ چنانچہ اللہ کے نبی ﷺ نے بتایا کہ وہ جہنمی اس لیے ہوگا کہ وہ بھی اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ تھا اور وہ اپنے ارادے میں کام یاب اس لیے نہيں ہو سکا کہ اس کا مد مقابل اپنے ارادے میں کام یاب ہو گیا اور اس پر سبقت لے گیا۔

حدیث کے فوائد

  • دل سے گناہ کا پختہ ارادہ کرنے والا اور اس کے اسباب کو بروئے کار لانے والا سزا کا مستحق ہے۔
  • مسلمانوں کو آپسی لڑائی سے گریز کی سخت تاکید کی گئی ہے اور اس پر جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔
  • حق کی بنیاد پر مسلمانوں کے بیچ ہونے والی لڑائی اس وعید کے دائرے میں نہيں آئے گی۔ مثلا باغیوں اور فساد برپا کرنے والوں سے لڑائی۔
  • کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنے والے کو محض کبیرہ کے ارتکاب کی وجہ سے کافر نہيں ٹھہرایا جائے گا، کیوں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے باہم لڑنے والے دو لوگوں کو مسلمان کہا ہے۔
  • جب دو مسلمان کسی بھی ایسے ہتھیار کے ساتھ آمنے سامنے ہو جائیں، جس سے جان لی جا سکتی ہو اور ان میں سے ایک شخص دوسرے شخص کی جان لے لے، تو جان لینے والے اور جان سے ہاتھ دھونے والا دونوں جہنمی ہوں گے۔ اس حدیث میں تلوار کا ذکر محض مثال کے طور پر ہوا ہے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informs that if two Muslims fight each other with their swords, with each one intending to kill the other, the killer will be in Hellfire for the actual killing of his companion; but the Companions were confused regarding the killed one and why he would be in Hellfire! The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) explained that he, too, would be in Hellfire because of his keenness to kill his companion and that nothing prevented him except that his companion managed to kill him first.

Topics موضوعات