Sunan Ibn Majah سنن ابن ماجہ

”دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ، اللہ تم سے محبت کرے گا اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے بے نیاز ہو جاؤ، لوگ تم سے…

عَنْ أَبِي العَبَّاسِ سَهْلِ بْنِ سَعِدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ أَحَبَّنِي اللَّهُ وَأَحَبَّنِي النَّاسُ، فَقَالَ: «ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبُّكَ اللَّهُ، وَازْهَدْ فِيمَا عِنْدَ النَّاسِ يُحِبُّكَ النَّاسُ».
ابو العباس سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے جسے میں کرلوں تو اللہ بھی مجھ سے محبت کرے اور لوگ بھی مجھ سے محبت کریں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ، اللہ تم سے محبت کرے گا اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے بے نیاز ہو جاؤ، لوگ تم سے محبت کریں گے۔“
Abu al-‘Abbās Sahl ibn Sa‘d as-Sā‘idi (may Allah be pleased with him) reported: A man came to the Prophet (ﷺ) and said: O Messenger of Allah, guide me to a deed which, if I do it, Allah will love me and people will love me. He said: "Be indifferent to worldly life; Allah will love you, and be indifferent to what people have; people will love you."

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابن ماجہSunan Ibn Majah
Original wording: اسے ابن ماجہ وغیرہ نے حسن اسانید کے ساتھ روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Hasan حسن
Good: acceptable, slightly below Sahih
قابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہ
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #4307

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

ایک شخص نے اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے عرض کیا کہ آپ اسے کوئی ایسا عمل بتلا دیں جسے وہ کرنے لگے تو اللہ کی محبت حاصل ہو جائے اور لوگوں کی محبت ملنے لگے۔ لہذا اللہ کے رسول ﷺ نے اس سے فرمایا: اللہ کی محبت اس وقت حاصل ہوگی، جب تم دنیا کی زائد اور ایسی چیزوں کو چھوڑ دو، جو آخرت میں نفع بخش نہ ہوں اور جن سے دین کا نقصان ہو سکتا ہو۔ جب کہ لوگوں کی محبت اس وقت حاصل ہوگی، جب تم ان کے پاس موجود دنیا کی لالچ نہ کرو۔ کیوں کہ اپنے پاس موجود دنیا سے محبت فطری طور پر ہر انسان کو ہے۔ لہذا اس معاملے میں مزاحمت کرنے والے سے اسے نفرت ہوگی اور اس پر توجہ نہ دینے سے محبت ہوگی۔

حدیث کے فوائد

  • زہد کی فضیلت۔ زہد یہ ہے کہ انسان ان تمام چيزوں سے صرف نظر کرے، جو آخرت میں سود مند نہ ہوں۔
  • زہد کا مقام ومرتبہ ورع سے اعلى ہے، کیوں کہ ورع یہ ہے کہ نقصان دہ چیز کو ترک کردیا جائے اور زہد یہ ہے کہ اخروی اعتبار سے جو چیز فائدہ مند نہ ہو اسے بھی ترک کردیا جائے۔
  • سندھی کہتے ہيں: دنیا لوگوں کو محبوب ہے۔ اس لیے جو شخص اس میں ان سے جس قدر مزاحمت کرتا ہے وہ اسی قدر ان کے نزدیک ناپسندیدہ ہوتا ہے۔ جو لوگوں کو بنا کسی مزاحمت کے ان کے محبوب کے ساتھ مشغول چھوڑ دیتا ہے، وہ اپنی کنارہ کشی کے بہ قدر ان کے یہاں محبوب ہوتا ہے۔

Explanation

A man asked the Prophet (ﷺ) to guide him to a deed that, if he does it, Allah will love him and people will love him. He (ﷺ) said to him: Allah will love you if you renounce what is surplus in this world and will not benefit you in the Hereafter, and if you abandon what may be harmful for your religion; and people will love you if you renounce their worldly possessions, for they naturally love them, and if anyone tries to take what they have, they will hate him, and whoever renounces it, they will love him.

Topics موضوعات