لوگ اس وقت تک بھلائی میں رہیں گے، جب تک جلد افطار کرتے رہیں گے۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4438Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4438)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ لوگ اس وقت تک بھلائی میں رہیں گے، جب تک سورج ڈوبنے کا یقین ہو جانے کے فورا بعد افطار کر لیا کریں گے۔ اور ایسا سنت کى پیروى اور اس کی متعین کردہ حد پر رک جانے کى وجہ سے ہوگا۔
حدیث کے فوائد
- نووی کہتے ہيں: اس حدیث میں سورج ڈوبنے کا یقین ہو جانے کے بعد جلدی افطار کر لینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ اس امت کے اندر اس وقت تک نظم و ضبط برقرار رہے گا اور وہ خیر وبرکت سے محظوظ ہوتے رہيں گے، جب تک اس سنت پر کاربند رہيں گے۔ اور اس کا افطار میں تاخیر کرنا اس بات کی علامت ہوگی کہ وہ بگاڑ کی راہ پر گامزن ہونے جا رہی ہے۔
- لوگوں کے اندر خیر اتباع سنت کی وجہ سے باقی رہے گی۔ جیسے ہی سنت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع ہوگی، بگاڑ کی راہيں کھلنے لگیں گی۔
- اہل کتاب اور اہل بدعت کی مخالفت، جو افطار تاخیر سے کرتے ہيں۔
- ابن حجر کہتے ہیں: اس حدیث کے اندر افطار میں دیر نہ کرنے کی وجہ بیان کر دی گئی ہے۔ مہلب کہتے ہیں: اس کے اندر حکمت یہ ہے کہ دن کو دراز کر کے رات کے نہ اندر لے جایا جائے۔ یہ روزے دار کے لیے زیادہ راحت بخش ہے اور اس سے اس کے اندر عبادت کی طاقت زیادہ آتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی علما کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ جلدی اس کے بعد ہی کی جائے گی، جب اپنی آنکھ سے دیکھ لینے یا عدالت سے متصف دو شخصوں کی گواہی کے بعد اس بات کا یقین حاصل ہو جائے کہ سورج ڈوب چکا ہے۔ راجح قول کے مطابق صفت عدالت سے متصف ایک شخص کی گواہی بھی کافی ہے۔
- ابن حجر کہتے ہیں: تنبیہ: آج کے زمانے میں رونما ہونے والی ایک بہت ہی غلط بدعت یہ ہے کہ ماہ رمضان میں فجر سے لگ بھگ بیس منٹ پہلے دوسری اذان دے دی جاتی ہے اور یہ بتانے کے لیے کہ اب روزے کا ارادہ رکھنے والوں کے لیے کھانا پینا حرام ہو چکا ہے، چراغ بجھا دیے جاتے ہيں۔ اور ایسا اس بدعت کے گھڑنے والے کے اس گمان کى بنیاد پر ہوتا ہے کہ یہ عبادت میں احتیاط کے لئے کیا جاتا ہے۔ جب کہ اس حقیقت سے صرف معدودے چند افراد ہى واقف ہوتے ہیں۔ اور اس بدعت کى وجہ سے ان کے اندر یہ بدعت بھى در آئى کہ وہ اب سورج ڈوبنے کے کچھ دیر بعد ہی اذان دیتے ہیں اس گمان کى بنیاد پر کہ صحیح معنوں میں وقت کو پالیں۔ اس طرح افطار کو وقت سے پیچھے کردیا اور سحر کو آگے کردیا اور سنت کی مخالفت کے شکار ہو گئے۔ اور اسى لئے ان کے اندر خیر کم ہوگیا اور ان کے اندر شر کی گرم بازاری ہوگئى۔ اللہ المستعان۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that people will remain in a good state as long as they hasten to break their fast, after verifying the sunset, out of compliance with the Sunnah and not crossing its boundaries.