صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

اے عمر! کیا تم نہیں جانتے کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی مانند ہوتا ہے؟

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
4450Sahih صحیح
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: «بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم عمر رضي الله عنه على الصدقة. فقيل: منع ابن جميل وخالد بن الوليد، والعباس عم رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما يَنْقِم ابن جميل إلا أن كان فقيرا: فأغناه الله؟ وأما خالد: فإنكم تظلمون خالدا؛ فقد احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتَادَهُ في سبيل الله. وأما العباس: فهي عليَّ ومثلها. ثم قال: يا عمر، أما شَعَرْتَ أن عمَّ الرجل صِنْوُ أبيه؟».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا۔ (واپسی پر) آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ ابن جمیل، خالد بن ولید اور رسول اللہ ﷺ کے چچا عباس نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابن جمیل انکار نہیں کرتا ہے، مگر یہ کہ پہلے وہ فقیر تھا اور اب اللہ تعالیٰ نے اسے مالدار بنادیا۔ رہے خالد، تو (زکوۃ کا مطالبہ کرکے) تم ان پر ظلم کررہے ہو۔ انہوں نے اپنی زرہیں اور سامانِ جنگ اللہ کی راہ میں وقف کردیا ہے۔ اور رہی بات عباس کی تو ان کی زکوۃ اس سال اور اگلے سال کی میرے ذمہ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اے عمر! کیا تم نہیں جانتے کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی مانند ہوتا ہے؟
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) sent ‘Umar (may Allah be pleased with him) to collect the charity. It was said that Ibn Jamīl, Khālid ibn al-Walīd, and Al-‘Abbās, the Prophet's uncle withheld it. Thereupon, the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) said: "How come that Ibn Jameīl withheld it; was he not poor then made rich by Allah?" As for Khālid, you are doing him injustice for he devoted his armor and war gear to the cause of Allah. As for Al-‘Abbās, the charity due on him and the like of it are upon me." Then he said: "O ‘Umar, do you not know that a man’s uncle is like his father?"
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #4450

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نبی ﷺ نے عمر بن الخطاب کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ جب عمر رضی اللہ عنہ عباس بن عبد المطلب کے پاس زکوٰۃ لینے آئے تو انہوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا اور ایسا ہی خالد بن ولید اور ابن جمیل نے کیا۔
عمر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور ان تینوں کی شکایت کی۔
تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابن جمیل کے پاس تو نہ دینے کا کوئی عذر نہیں ماسوا اس کے کہ وہ ایک فقیر شخص تھا جسے اللہ نے امیر بنا دیا۔ اس امیری کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے زکوٰۃ ادا کرے۔
خالد کے بارے میں یہ کہہ کر کہ انہوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا ہے تم ان پر ظلم کر رہے ہو۔ اس نے تو اپنی زرہیں اور سامانِ جنگ اللہ کی راہ میں وقف کردیا ہے۔ لہٰذا ایک ایسا آدمی کس طرح زکوٰۃ روک سکتا ہے جو ایسی چیز خرچ کرکے اللہ کی قربت حاصل کرتاہے جو اس پر واجب نہیں ہے، پھر وہ ایسی چیز سے انکار کردے جو اللہ نے اس پر واجب کیا ہے، یہ بہت دور کی بات ہے۔ رہی بات عباس رضی اللہ عنہ کی تو آپ ﷺ نے ان کی طرف سے ادائیگی کی ذمہ داری لی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ نے ایسا ان کے مقام و منزلت کے پیش نظر کیا ہو، جیساکہ آپ ﷺ کے اس فرمان سے پتہ چلتا ہے: کیا تم نہیں جانتے کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی مانند ہوتا ہے؟۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) sent ‘Umar ibn al-Khattāb (may Allah be pleased with him) to collect Zakah. When ‘Umar asked Al-‘Abbās ibn ‘Abd al-Muttalib to pay the share due on him, he refused, and so did Khālid ibn al-Walīd and Ibn Jamīl. So ‘Umar went to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) to complain to him about the three men. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said that Ibn Jamīl had no excuse for withholding Zakah except that he was poor and Allah made him wealthy, the thing that necessitated his immediate payment of Zakah. As for Khālid, it was unjust to say that he refused to pay Zakah, for he had devoted his armors and war gears to exclusive use in the cause of Allah. By this, he wanted to get closer to Allah by spending something not mandatory on him. So it was impossible that he would withhold a mandatory charity. As for Al-‘Abbās, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said that he would pay Zakah on his behalf, probably because of his being held in high esteem as indicated by: “Do you not know that a man’s uncle is like his father?"

Topics موضوعات