ہم اللہ کے نبی ﷺ کے زمانہ میں صدقۂ فطر، ہر چھوٹے بڑے، آزاد یا غلام کی جانب سے ایک صاع کھانے کی چیز، یا ایک…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4454Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4454)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
مسلمان اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے بعد خلفائے راشدین کے دور میں ہر چھوٹے بڑے شخص کی جانب سے ایک ایک صاع کھانے کی چيز نکالا کرتے تھے۔ اور ان دنوں ان کے کھانے کی چيزیں یہ تھیں: جَو، کشمش ، پنیر اور کھجور۔ یہاں یہ یاد رہے کہ صاع چار مد کا ہوتا ہے اور ایک مد ایک معتدل قد وقامت والے شخص کے ایک لپ کے برابر ہوتا ہے۔ لیکن حب معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ کی حیثیت سے مدینہ آئے اور شامی گیہوں کى کثرت ہوگئى، تو انھوں نے خطبہ دیا اور فرمایا: میں سمجھتا ہوں کہ شام کی دو مد (نصف صاع) گیہوں ایک صاع کھجور کے برابر ہے۔ چنانچہ لوگوں نے ان کے اس قول پر عمل کرنا شروع کر دیا۔ لیکن ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جہاں تک میری بات ہے تو میں زندگی بھر زکاۃ فطر اسی طرح نکالتا رہوں گا، جس طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے دور میں نکالا کرتا تھا۔
حدیث کے فوائد
- اس حدیث کے اندر یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دور میں صدقۂ فطر کھانے کی چيز کا ایک صاع نکالا جاتا تھا۔ جنس اور قیمت خواہ کچھ بھی ہو۔
- انسانوں کی ہر غذا صدقہ فطر کے طور پر نکالى جا سکتى ہے۔ حدیث میں چار اصناف کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لیے آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہی اصناف لوگوں کی غذا تھیں۔
- فطرہ میں غذا کی بجائے پیسہ اور نقد نکالنا جائز نہیں ہے۔
- نووی شرح مسلم میں کہتے ہيں: جب صحابہ کے اندر اختلاف ہو جائے، تو ان میں سے کسی کا قول کسی سے اولی نہيں ہو سکتا۔ ایسے میں ہمیں کوئی دوسری دلیل تلاش کرنی ہوگی۔ چنانچہ ہم پاتے ہيں کہ احادیث اور قیاس اس بات پر متفق ہيں کہ دیگر کھانے کی چيزوں کی طرح گیہوں کا ایک صاع ہونا بھی ضروری ہے۔ اس لیے اس پر اعتماد کرنا واجب ہے۔
- ابن حجر کہتے ہيں: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بتاتی ہے کہ ان کے اندر اتباع سنت، آثار کو مضبوطی سے پکڑے رہنے اور نص کے ہوتے ہوئے اجتہاد کرنے سے گریز کرنے کا جذبہ کس قدر موجزن تھا۔ یہاں یہ یاد رہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کا اجتہاد اور لوگوں کی موافقت اس بات کی دلیل ہے کہ اجتہاد کرنا جائز اور قابل ستائش ہے، لیکن اگر نص موجود ہو تو اس کا کوئی اعتبار نہيں ہے۔
Explanation
Muslims used to give out Zakat al-Fitr on behalf of every young and old person as one Sā‘ of food during the time of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and during the time of the Rightly-Guided Caliphs. Their food was barley, (raisins): dry grapes, (Aqit): dried yogurt, and dates. One Sā‘ is equivalent to four Mudds, and one Mudd is equal to two handfuls of an average person. When Mu‘āwiyah (may Allah be pleased with him) came to Madīnah as a caliph and the Syrian wheat became abundant, he delivered a speech and said: I see that two Mudds of the Syrian wheat (half a Sā‘) is equivalent to one Sā‘ of dates, so the people adopted this opinion. Abu Sa‘īd al-Khudri (may Allah be pleased with him) said: As for me, I will continue to give it as I used to give it during the Prophet's lifetime for as long as I live.