Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim صحیح بخاری · صحیح مسلم

مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا، تو جوئیں سر سے میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ آپ ﷺ نے (یہ دیکھ کر فرمایا )…

عن عبد الله بن مَعْقِلٍ قال: «جلستُ إلى كَعْبِ بن عُجْرَةَ، فسألته عن الفدية، فقال: نزلت فِيَّ خاصة. وهي لكم عامة. حُمِلْتُ إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وَالقَمْلُ يَتَنَاثَرُ على وجهي. فقال: ما كُنْتُ أُرَى الوَجَعَ بَلَغَ بِكَ ما أَرَى -أو ما كنت أُرَى الجَهْدَ بلغ بك ما أَرى-! أَتَجِدُ شاة؟ فقلت: لا. فقال: صم ثلاثة أيام، أو أطعم ستة مساكين -لكل مسكين نصف صاع-».
وفي رواية: «فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ ، أو يُهْدِي شَاةً ، أو يصوم ثلاثة أيام».
عبد الله ابن معقل روایت کرتے ہیں کہ: میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے ان سے فدیہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ (قرآن شریف کی آیت ) اگرچہ خاص میرے بارے میں نازل ہوئی تھی لیکن اس کا حکم تم سب کے لیے ہے۔ ہوا یہ کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو جوئیں سر سے میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ آپ ﷺ نے (یہ دیکھ کر فرمایا ) میں نہیں سمجھتا تھا کہ تم اتنی تکلیف میں ہو گے۔ یا (آپ نے یوں فرمایا کہ ) میں نہیں سمجھتا تھا کہ تم اتنی جہد (مشقت) میں ہو گے۔ کیا تمہیں ایک بکری مل سکتی ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تین دن کے روزے رکھو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ، ہر مسکین کو آدھا صاع کھلانا۔
ایک اور روایت میں ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ چھے افراد میں ایک فرق (تین صاع) غلہ تقسیم کر دیں، یا ایک بکری کی قربانی دے دیں یا تین دن کے روزے رکھیں۔
‘Abdullāh ibn Ma‘qil reported: I sat with Ka‘b ibn ‘Ujrah and asked him about the ransom and he replied: "It (the verse) was revealed concerning my case specifically, but it is also meant for you in general. I was carried to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) and lice were falling on my face. He said: ‘I never thought your ailment has reached such an extent. Can you afford a sheep (as a ransom for shaving your head)?’ I replied: ‘No.’ He then said: ‘Fast three days, or feed six poor people.'"
In another narration: "The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) ordered him to either feed six people three Sā‘ (each will take half a Sā‘), slaughter a sheep as a sacrifice, or fast three days."

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #4536

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نبی ﷺ نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو حدیبیہ کے مقام پر حالت احرام میں دیکھا کہ بیماری کی وجہ سے جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی ہیں۔ نبی ﷺ کو ان کی یہ حالت دیکھ کر ان پر بہت ترس آیا اور آپ ﷺ نے فرمایا: میرا نہیں خیال تھا کہ تمھیں اس حد تک مشقت ہو رہی ہو گی، جس پر میں تمھیں اب دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: کیا تمھیں ایک بکری دستیاب ہو سکتی ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُم مَرِيضَاً أوْ به أذَىً مِنْ رَأسِه فَفِدْية مِنْ صِيَامٍ أوْ صَدَقَةٍ أوْ نُسُكٍ﴾ ”پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا اسے سر میں تکلیف ہو، تو روزوں سے یا صدقہ سے یا قربانی سے فدیہ دے“۔
اس پر نبی ﷺ نے انھیں اختیار دیاکہ یا تو وہ تین دن کے روزے رکھیں یا چھ مسکینوں کا کھانا کھلا دیں، بایں طور کہ ہر مسکین کو نصف صاع گیہوں یا کوئی اور غلہ دیں۔ یہ ان کے حالت احرام میں سر میں جوئیں پڑنے کی وجہ سے مجبورا اسے منڈانے کا کفارہ ہو جائے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے انھیں تینوں کے مابین اختیار دیا کہ وہ کسی کو بھی کر لیں۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) saw Ka‘b ibn ‘Ujrah in Al-Hudaybiyah while being in the state of Ihrām, and lice were falling down his face out of his illness. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) felt sorry for him and said he never thought his ailment was that serious. Then he asked Ka‘b: "Can you afford a sheep?" He said: 'No.' So, Allah, Blessed and Exalted, revealed the verse (which means): {And whoever among you is ill or has an ailment of the head [making shaving necessary] must offer a ransom of fasting [three days] or charity or sacrifice.} [Sūrat al-Baqarah: 196]
Thereupon, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) gave him choice either to fast three days, or feed six poor people; each receiving half a Sā‘ of wheat or the like. Both choices are an expiation for shaving his head during the state of Ihrām because he was forced due to the ailment in his head. In the other narration, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) gave him three options.

Topics موضوعات