صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

رسول اللہ ﷺ کے تلبیہ کے الفاظ یہ ہوا کرتے تھے: ’’اے اللہ ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
4535Sahih صحیح
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَبَّيْكَ اللهُمَّ، لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَزِيدُ فِيهَا: لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: رسول اللہ ﷺ کے تلبیہ کے الفاظ یہ ہوا کرتے تھے: ’’اے اللہ ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بلاشبہ ہر تعریف اور نعمت تیری ہے اور تیری ہی بادشاہت ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس میں ان الفاظ کا اضافہ کرلیا کرتے تھے:’’میں حاضر ہوں، میں تیری خدمت میں موجود ہوں، میری سعادت ہے تیرے پاس آنے میں، بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، میں حاضر ہوں اور رغبت تیری ہی طرف ہے اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے۔‘‘
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdullah ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him and his father) reported: The Talbiyah of the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him): "Labbayka Allāhumma labbayk, labbayka la sharīka laka labbayk, inna al-hamda wa an-ni‘mata laka wal-mulk, la sharīka lak." (O Allah, I respond to Your call, I do respond. I respond to Your call, You have no partner, I do respond. Verily, praise, blessing, and sovereignty belong to You; You have no partner) He said: ‘Abdullah ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him and his father) used to add: Labbayka labbayka, wa sa‘dayka, wa al-khayru biyadayk. Labbayka wa ar-raghbā’u ilayka wa al-‘amal (I respond to Your call, I respond to Your call, and I ask You to make me happy.) Goodness is in Your Hands. I respond to Your call, and to You belong desires and actions).
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق عليه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #4535

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب حج یا عمرہ میں داخل ہونا چاہتے، تو یہ تلبیہ کہتے: (لبيك اللهم لبيك) اے اللہ! میں اخلاص، توحید اور حج وغیرہ کی طرف تیرى ہر دعوت کو قبول کرنے کے بعد پھر لازمی طور پر اس کو قبول کرتا ہوں۔ (لبيك لا شريك لك لبيك) کیوں کہ تنہا تو ہی عبادت کا حق دار ہے۔ تیری ربوبیت، الوہیت اور اسما وصفات میں تیرا کوئی شریک نہيں ہے۔ (إن الحمد) بلاشبہ حمد، شکر اور ثنا تیرے ہی لیے ہے (والنعمة) اور نعمت تیری ہی جانب سے ہے اور تو ہى اس کو عطا کرنے والا ہے (لك) ان تمام چیزوں کو ہر حال میں تیرے ہی لیے صرف کیا جائے گا۔ (والملك) بادشاہت بھی تیری ہی ہے۔ (لا شريك لك) تیرا کوئی شریک نہیں ہے، لہذا یہ ساری چيزیں تیرے ہی لیے صرف ہوں گی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنمہا اس میں ان الفاظ کا اضافہ فرماتے تھے: (لبيك لبيك وسعديك) میں حاضر ہوں تیری خدمت میں۔ میں حاضر ہوں تیری خدمت میں۔ مجھے بار بار سعادت سے بہرہ ور کر۔ (والخير بيديك) ساری کی ساری خیر تیرے ہاتھ میں ہے اور تیرے فضل سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ (لبيك والرغباء إليك) میں حاضر ہوں تیری خدمت میں۔ طلب اور سوال اسی سے کیا جائے گا، جس کے ہاتھ میں خیر ہوتی ہے۔ (والعمل) اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے۔ کیوں کہ تو ہی عبادت کا حق دار ہے۔

حدیث کے فوائد

  • حج و عمرہ میں تلبیہ پکارنا مشروع ہے۔ اس کی تاکید اس لیے آئی ہے کہ یہ حج و عمرہ کی خاص پہچان ہے، جس طرح تکبیر نماز کی خاص پہچان ہے۔
  • ابن منیر کہتے ہیں: تلبیہ کی مشروعیت اس بات کى طرف اشارہ ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں کو عزت بخشى ہے اور وہ اس طور پر کہ بندوں کا اس کے گھر تک پہونچنا دراصل اس کے بلاوے پر ہے۔
  • بہتر یہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سکھائے ہوئے تلبیہ ہی کا اہتمام کیا جائے۔ لیکن کچھ اضافہ کر لینے میں کوئی حرج نہيں ہے، کیوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس پر خاموشی برتی۔ ابن حجر کہتے ہیں: یہ تطبیق کی سب سے بہتر صورت ہے۔ مرفوع الفاظ کو الگ سے پڑھا جائے گا۔ اس کے بعد اگر موقوف طور پر وارد الفاظ کو پڑھنا چاہے یا اپنی جانب سے کچھ مناسب الفاظ چن لے، تو انھیں الگ سے پڑھے گا، تاکہ یہ مرفوع الفاظ کے ساتھ خلط ملط نہ ہوں۔ اس کا حال دراصل تشہد کی دعا جیسا ہے۔ کیوں اس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: پھر اس کے بعد سوال ومانگنے اور حمد و ثنا کے جو الفاظ چاہے، چن لے۔ یعنی مرفوع الفاظ سے فارغ ہونے کے بعد۔
  • بلند آواز سے تلبیہ پکارنا مردوں کے حق میں مستحب ہے۔ البتہ عورت پست آواز سے تلبیہ پڑھے گی، تاکہ فتنہ کا باعث نہ ہو۔

Explanation

The Talbiyah of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him), when intending to start the rituals of Hajj or ‘Umrah, was to say: (O Allah, I respond to Your call, I do respond) duly time and again regarding what You have called us to, including sincerity, monotheism, Hajj, and others. (I respond to Your call, You have no partner, I do respond) for You alone are worthy of worship, and You have no partner in Your lordship, worship, names, and attributes.) (Verily, praise), gratitude, commendation, and (blessing) are from You, and You are the One Who gives them; (to You) they are directed in all circumstances, (and sovereignty) also belongs to You. (You have no partner), as they all belong to You alone. Ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him and his father) used to add: (I respond to Your call, I respond to Your call, and I ask You to make me happy), i.e., make me happy time and again. (Goodness is in Your Hands) all of it and out of Your grace. (I respond to Your call and to You belong desires), requests, and demands, i.e., to the One in Whose Hands goodness lies (and actions), as You are the One worthy of worship.

Topics موضوعات