رسول اللہ ﷺ کے تلبیہ کے الفاظ یہ ہوا کرتے تھے: ’’اے اللہ ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4535Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4535)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب حج یا عمرہ میں داخل ہونا چاہتے، تو یہ تلبیہ کہتے: (لبيك اللهم لبيك) اے اللہ! میں اخلاص، توحید اور حج وغیرہ کی طرف تیرى ہر دعوت کو قبول کرنے کے بعد پھر لازمی طور پر اس کو قبول کرتا ہوں۔ (لبيك لا شريك لك لبيك) کیوں کہ تنہا تو ہی عبادت کا حق دار ہے۔ تیری ربوبیت، الوہیت اور اسما وصفات میں تیرا کوئی شریک نہيں ہے۔ (إن الحمد) بلاشبہ حمد، شکر اور ثنا تیرے ہی لیے ہے (والنعمة) اور نعمت تیری ہی جانب سے ہے اور تو ہى اس کو عطا کرنے والا ہے (لك) ان تمام چیزوں کو ہر حال میں تیرے ہی لیے صرف کیا جائے گا۔ (والملك) بادشاہت بھی تیری ہی ہے۔ (لا شريك لك) تیرا کوئی شریک نہیں ہے، لہذا یہ ساری چيزیں تیرے ہی لیے صرف ہوں گی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنمہا اس میں ان الفاظ کا اضافہ فرماتے تھے: (لبيك لبيك وسعديك) میں حاضر ہوں تیری خدمت میں۔ میں حاضر ہوں تیری خدمت میں۔ مجھے بار بار سعادت سے بہرہ ور کر۔ (والخير بيديك) ساری کی ساری خیر تیرے ہاتھ میں ہے اور تیرے فضل سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ (لبيك والرغباء إليك) میں حاضر ہوں تیری خدمت میں۔ طلب اور سوال اسی سے کیا جائے گا، جس کے ہاتھ میں خیر ہوتی ہے۔ (والعمل) اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے۔ کیوں کہ تو ہی عبادت کا حق دار ہے۔
حدیث کے فوائد
- حج و عمرہ میں تلبیہ پکارنا مشروع ہے۔ اس کی تاکید اس لیے آئی ہے کہ یہ حج و عمرہ کی خاص پہچان ہے، جس طرح تکبیر نماز کی خاص پہچان ہے۔
- ابن منیر کہتے ہیں: تلبیہ کی مشروعیت اس بات کى طرف اشارہ ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں کو عزت بخشى ہے اور وہ اس طور پر کہ بندوں کا اس کے گھر تک پہونچنا دراصل اس کے بلاوے پر ہے۔
- بہتر یہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سکھائے ہوئے تلبیہ ہی کا اہتمام کیا جائے۔ لیکن کچھ اضافہ کر لینے میں کوئی حرج نہيں ہے، کیوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس پر خاموشی برتی۔ ابن حجر کہتے ہیں: یہ تطبیق کی سب سے بہتر صورت ہے۔ مرفوع الفاظ کو الگ سے پڑھا جائے گا۔ اس کے بعد اگر موقوف طور پر وارد الفاظ کو پڑھنا چاہے یا اپنی جانب سے کچھ مناسب الفاظ چن لے، تو انھیں الگ سے پڑھے گا، تاکہ یہ مرفوع الفاظ کے ساتھ خلط ملط نہ ہوں۔ اس کا حال دراصل تشہد کی دعا جیسا ہے۔ کیوں اس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: پھر اس کے بعد سوال ومانگنے اور حمد و ثنا کے جو الفاظ چاہے، چن لے۔ یعنی مرفوع الفاظ سے فارغ ہونے کے بعد۔
- بلند آواز سے تلبیہ پکارنا مردوں کے حق میں مستحب ہے۔ البتہ عورت پست آواز سے تلبیہ پڑھے گی، تاکہ فتنہ کا باعث نہ ہو۔
Explanation
The Talbiyah of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him), when intending to start the rituals of Hajj or ‘Umrah, was to say: (O Allah, I respond to Your call, I do respond) duly time and again regarding what You have called us to, including sincerity, monotheism, Hajj, and others. (I respond to Your call, You have no partner, I do respond) for You alone are worthy of worship, and You have no partner in Your lordship, worship, names, and attributes.) (Verily, praise), gratitude, commendation, and (blessing) are from You, and You are the One Who gives them; (to You) they are directed in all circumstances, (and sovereignty) also belongs to You. (You have no partner), as they all belong to You alone. Ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him and his father) used to add: (I respond to Your call, I respond to Your call, and I ask You to make me happy), i.e., make me happy time and again. (Goodness is in Your Hands) all of it and out of Your grace. (I respond to Your call and to You belong desires), requests, and demands, i.e., to the One in Whose Hands goodness lies (and actions), as You are the One worthy of worship.