اگر يہ بات جس كا علم مجھے بعد ميں ہوا، پہلے سے معلوم ہوتی تو میں اپنے ساتھ ہدی نہ لاتا، اور اگر میرے ساتھ ہدی…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
فبلغ ذلك النبي - صلى الله عليه وسلم- فقال: لَوِ اسْتَقْبَلْتُ من أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ ؛ ما أَهْدَيْتُ ، ولولا أن معي الهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ.
وحاضت عائشة. فَنَسَكَتْ المنَاسِك كلها، غير أنها لم تَطُفْ بالبيت. فلما طَهُرت وطافت بالبيت قالت: يا رسول الله، تَنْطَلِقُونَ بحج وعمرة، وأنطلق بحج؟ فأمر عبد الرحمن بن أبي بكر: أن يخرج معها إلى التَّنْعِيمِ ، فاعتمرت بعد الحج».
یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر يہ بات جس كا علم مجھے بعد ميں ہوا، پہلے سے معلوم ہوتی تو میں اپنے ساتھ ہدی نہ لاتا، اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی (عمرہ کے بعد) حلال ہو جاتا۔
عائشہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئی تھیں۔ اس لیے انہوں نے تمام اعمالِ حج ادا کئے لیکن بیت اللہ کا طواف نہیں کیا۔ پھر جب وہ پاک ہو گئیں اور بيت اللہ کا طواف کر لیا تو عرض کيا: اے اللہ کے رسول ! آپ لوگ حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس ہو رہے ہیں اور میں صرف حج ہی کرکے واپس ہوجاؤں؟، تو آپ ﷺ نے عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو حکم ديا کہ انہیں ساتھ لے کر تنعیم جائیں۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج کرنے کے بعد عمرہ کیا۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4550Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4550)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نبی ﷺ کے حج کے بارے ميں بتلا رہے ہیں کہ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ نے حج كا احرام باندھا، تاہم نبی ﷺ اور طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے سوا ان میں سے کسی کے پاس بھی ہدی کا جانور نہیں تھا۔ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس وقت یمن میں تھے۔ چنانچہ وہ آئے، اور ان کی فقاہت دیکھیے کہ انہوں نے احرام باندھا اور اپنے احرام کو نبی ﷺ کے احرام کے ساتھ معلق کردیا۔
جب وہ لوگ مکہ آئے تو نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے حج کا احرام ختم کر کے اسے عمرہ کے لئے کر دیں اور عمرہ کے لیے طواف اور سعی کریں اور پھر بال کتروا کر مکمل طور پر حلال ہوجائيں۔ یہ حکم اس شخص کے بارے میں تھا جو اپنے ساتھ ہدی نہیں لایا تھا۔
البتہ جو لوگ ہدی لے کر آئے تھے بشمول نبی ﷺ کے وہ طواف او ر سعی کرنے کے بعد اپنے احرام ہی ميں رہے۔
جن لوگوں کو حج کو عمرہ ميں تبديل کرنے کے ليے کہا گیا تھا وہ حيرت واستعجاب سے کہنے لگے: ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم حلال ہوکر اپنی بیویوں سے صحبت کریں اور پھر حج کا احرام باندھ کر منی کی طرف روانہ ہوں حالانکہ ہم نے ابھی ابھی اپنی بیویوں سے ہم بستری کی ہو؟
نبی ﷺ تک جب ان کی یہ بات پہنچی اور آپ ﷺ کو علم ہوا کہ ان پر یہ بات بڑی گراں گزر رہی ہے تو آپ ﷺ نے انہیں حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے دلاسہ دیا کہ: اگر مجھے یہ بات پہلے معلوم ہوتی جو بعد میں معلوم ہوئی ہے تو میں اپنے ساتھ یہ ہدی کا جانور نہ لاتا جس نے مجھے حلال ہونے سے روک دیا اور میں بھی تمہارے ساتھ حلال ہو جاتا۔ اس پر ان کے دل راضی اور مطمئن ہو گئے۔
جب وہ مکہ میں داخل ہونے والے تھے تو عائشہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہوگئيں۔ چنانچہ وہ حج قران کرنے والی ہو گئیں کیونکہ حیض آنے کی وجہ سے وہ بیت اللہ کا طواف نہ کر سکیں۔ تاہم طواف اور سعی کے علاوہ انہوں نے تمام مناسک ادا کئے۔
جب وہ حیض سے پاک ہو گئیں اور اپنے حج کے لیے بیت اللہ کا طواف کیا تو ان کے دل میں گرہ پڑ گئی کہ اکثر صحابہ بشمول نبی ﷺ کی ازواج نےتو الگ سے عمرہ بھی کیا اور حج بھی، جب کہ ان کا عمرہ، حج کے اندر شامل ہو گیا۔
اس پر وہ رسول اللہ ﷺ سے کہنے لگیں: آپ لوگ حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس ہو رہے ہیں اور میں صرف حج کرکے واپس ہوجاؤں؟
آپ ﷺ نے ان کی دل جوئی کے لیے ان کے بھائی عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کو حکم ديا کہ وہ انہیں مقام تنعیم لے کر جائیں (تا کہ وہ وہاں سے احرام باندھ لیں)۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج کے بعد عمرہ کی ادائیگی کی۔
Explanation
Jābir ibn ‘Abdullāh (may Allah be pleased with him) describes the Hajj of the Prophet (may Allah’s peace and blessing be upon him) saying that he and his Companions assumed Ihrām for Hajj. None of them brought sacrificial animals except the Prophet and Talhah ibn ‘Ubaydullāh. ‘Ali ibn Abi Tālib was in Yemen, so he came for Hajj, and out of his profound religious understanding, he assumed his Ihrām and made his intention for Ihrām the same as that of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him).
When they reached Makkah, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) ordered them to dissolve their Ihrām for Hajj and make it for ‘Umrah, and make their Tawāf and Sa‘i for ‘Umrah, then shorten their hair and end their Ihrām. This was for those who did not bring a sacrificial animal. As for the ones who brought a sacrificial animal with them –and the Prophet was one of them – they had to keep their Ihrām after making Tawāf and Sa‘i.
The ones who were ordered to alter their Ihrām from Hajj to ‘Umrah said out of astonishment and their sense of the seriousness of the matter: How can we end our Ihrām and have sexual intercourse with our wives then head to Mina for Hajj while we had recently been ritually impure (after intercourse).
This reached the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and the fact that they found it difficult, so he calmed them by saying: If I had known what I know now, I wouldn’t have brought the sacrificial animal that prevented me from ending my Ihrām like you all have. So they were satisfied and reassured by his words.
‘Ā'ishah (may Allah be pleased with her) got her menses when they approached Makkah, so she became Qārinah (performing Hajj Qirān), because her menses prevented her from making Tawāf. She performed all the Hajj rituals except Tawāf and Sa‘i. Then when she became pure after her menses ended, and she made Tawāf for her Hajj, she felt sad because the majority of the Companions –including the wives of the Prophet– performed the rituals of ‘Umrah separately and the rituals of Hajj while she had to merge her ‘Umrah with her Hajj.
So she said: O Messenger of Allah, you all are leaving after having performed both Hajj and ‘Umrah, and I am leaving with Hajj only.
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) consoled her and ordered her brother ‘Abdur-Rahmān to take her to Tan‘īm, and she performed ‘Umrah after Hajj.