”ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، خرید و فروخت کی بولی میں قیمت بڑھا کر ایک دوسرے کو دھوکا نہ دو، آپس میں بغض نہ…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4706Sahih Muslim (HadeethEnc 4706)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی ﷺ نے ایک مسلمان کو اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کی ہے اور اس کی کچھ ذمے داریاں اور آداب بیان کیے ہيں۔ مثلا : پہلی وصیت : ایک دوسرے سے حسد نہ کرو کہ ایک دوسرے کی نعمت کے چھن جانے کی تمنا کرنے لگو۔ دوسری وصیت : اگر سامان خریدنے کا ارادہ نہ ہو، تو بیچنے والے کا فائدہ یا خریدنے والے کا نقصان کرنے کے لیے اس کی قیمت نہ بڑھاؤ۔ تیسری وصیت : ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو۔ بغض نام ہے کسی کا برا کرنے کے بارے میں سوچنے کا۔ بغض محبت کی ضد ہے۔ البتہ اللہ کے لیے بغض اس سے مستثنی ہے۔ اللہ کے لیے بغض رکھنا واجب ہے۔ چوتھی وصیت : ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو۔ یعنی ایک دوسرے کے ساتھ ایسا برتاؤ روا نہ رکھو کہ تم اپنے بھائی سے منہ موڑو، اعراض کرو اور قطع تعلق کر لو اور وہ بھی تمھارے ساتھ ایسا ہی کرے۔ پانچویں وصیت : تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی فروخت پر فروخت نہ کرے۔ مثلا جب کوئی شخص کسی سے کچھ خرید چکا ہو، تو اس سے یہ نہ کہو کہ میں اس سے کم قیمت میں اسی طرح کا سامان یا اسی قیمت پر اس سے بہتر سامان دے دوں گا۔ اس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے ایک جامع وصیت کی اور فرمایا : مذکورہ منع کردہ امور سے ایسے دور رہو، آپس میں اس طرح محبت، نرم روی، شفقت، ملاطفت، نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کے تعاون، صاف دلی اور ہر حال میں خیر خواہی کا معاملہ کرو کہ بھائی کی طرح دکھائی دو۔ اس اخوت کے کچھ تقاضے بھی ہيں، جیسے : اپنے مسلمان بھائی پر ظلم اور دست درازی نہ کرے۔ جب کسی مسلمان بھائی پر ظلم ہو رہا ہو اور آدمی اس کی مدد کر سکتا ہو اور اسے ظلم سے بچا سکتا ہو، تو اسے اکیلا اور بے سہارا نہ چھوڑے۔ اسے حقیر و کم تر نہ جانے اور اسے ہیچ نظر سے نہ دیکھے۔ یہ رویہ دراصل دل میں موجود کبر کی وجہ سے سامنے آتا ہے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے تین بار بتایا کہ تقوی دل کے اندر ہوا کرتا ہے۔ تقوى، جس کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی حسن اخلاق کا پیکر ہو اور اللہ کا خوف اور اس کا دھیان رکھے، اگر وہ کسى کے دل میں جاگزیں جائے تو وہ کسی مسلمان کو حقیر نہیں جان سکتا۔ انسان کے برا اور بد اخلاق ہونے کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو حقیر جانے، جو دل میں موجود کبر و غرور کا نتیجہ ہوا کرتا ہے۔ پھر اللہ کے رسول ﷺ نے اوپر مذکور باتوں پر مہر لگاتے ہوئے فرمایا کہ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون حرام ہے، نہ اسے جان سے مار سکتا ہے، نہ زخمی کر سکتا ہے اور نہ مار پیٹ کر سکتا ہے اور نہ کوئى دوسری جسمانی اذیت دے سکتا ہے۔ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا مال حرام ہے، اسے ناحق لے نہیں سکتا۔ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کی عزت و آبرو بھی حرام ہے، اس کى ذات پر یا اس کے حسب نسب پر زبان درازی نہیں کی جا سکتی۔
حدیث کے فوائد
- ایمانی اخوت کے سبھی تقاضوں پر عمل کرنے کا امر وحکم اور اس کے منافی اقوال و اعمال کے ارتکاب کی نہی وممانعت۔
- تقوی کی بنیاد دل میں موجود اللہ کی معرفت، اس کى خشيت اور اس کا دھیان ہے۔ اسی تقوی کے نتیجے میں نیک اعمال وجود میں آتے ہیں۔
- ظاہری انحراف دل کے تقوے کی کمزوری کی دلیل ہے۔
- اپنے قول یا فعل سے کسی مسلمان کو کسی طرح کی اذیت دینے کی ممانعت۔
- کوئی مسلمان دوسرے کی طرح بننے کی تمنا کرے، تو یہ حسد کے دائرے میں نہیں آتا، جب تک اس میں دوسرے کے پاس موجود نعمت کے زائل ہونے کی تمنا شامل نہ ہو۔ دوسرے کی طرح بننے کی تمنا کو رشک کہا جاتا ہے، جو جائز ہے اور نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔
- انسان فطری طور پر اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ کوئی کسی کام میں اس سے آگے بڑھ جائے۔ ایسے میں اگر وہ دوسرے کی نعمت کے چھن جانے کی تمنا کرے، تو یہ حسد ہے، جو کہ مذموم ہے۔ لیکن اگر اپنے اندر اس سے آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرے، تو یہ رشک ہے، جو جائز ہے۔
- کسی مسلمان بھائی کے سودے پر سودا کرنے میں خریدار کو یہ بتانا داخل نہیں ہے کہ اس نے خریداری میں بڑا دھوکہ کھایا ہے۔ یہ تو خیرخواہی ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ نیت اپنے مسلمان بھائی کی خیر خواہی ہو، بیچنے والے کو نقصان پہنچانا نہيں۔ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔
- مسلمان بھائی کے سودے پر سودا کرنا اس وقت مانا نہيں جائے گا، جب تک دونوں خریدنے اور بیچنے پر راضی نہ ہوئے ہوں اور قیمت متعین نہ ہوئی ہو۔
- اللہ کے لیے رکھا جانے والا بغض اس حدیث میں منع کردہ بغض میں شامل نہیں ہے، بلکہ یہ واجب اور ایمان کی ایک مضبوط ترین کڑی ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) advised the Muslim to be kind to his fellow Muslims and outlined some of the duties and etiquettes he is required to observe toward them, including the following: First advice: Do not envy one another by wishing others may lose the blessings they have. Second: Do not raise prices by overbidding against one another. By doing so, a person does not really want to buy the commodity, except to benefit the seller or harm the buyer. Third: Do not hate one another. It is the intention to cause harm, as opposed to love, unless hatred is for the sake of Allah Almighty, which is obligatory. Fourth: Do not turn your backs on each other, forsaking and abandoning one another. Fifth: Do not undercut one another in trade. It is when a person says to someone who bought a commodity: I have the like of it at a lower price or a higher-quality commodity at the same price. Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) gave comprehensive advice, saying: Be like brothers, by abandoning the aforementioned prohibitions and showing cordiality, kindness, compassion, gentleness, and cooperation in goodness, while having pure hearts and sincerity in all conditions. The following are among the requirements of this brotherliness: Not to wrong his Muslim brother or transgress against him. Not to leave his Muslim brother to be wronged, failing to support him in a situation where he can help him and remove the injustice practiced against him. Not to belittle him or look down upon him with contempt and disdain; this stems from arrogance in the heart. Then the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) pointed out three times that piety lies in the heart, and whoever has piety in his heart, which entails good morals and fear and heedfulness of Allah, will not belittle a Muslim. Indeed, it is enough for him, as an evil trait and reprehensible manner, to belittle his fellow Muslim, for this results from arrogance in his heart. Then the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) affirmed the aforementioned, saying that all of a Muslim is inviolable to another Muslim: his blood: to attack him by killing, injuring, beating him, or the like; his property: to take any of his properties unjustly; and his honor: to malign him or his lineage.